پاکستانمعلومات

سترہ سال میں قرآن پاک کا مارواڑی میں ترجمہ کرنے اور نبی کریم ﷺ کی سیرت پر کتاب لکھنے والے ہندو مصنف کا نیوزمینٹری کو خصوصی انٹرویو

ایسی ایسی باتیں کہہ دیں کہ پڑھ کر ہر مسلمان کا ایمان تازہ ہوجائے گا

شیئر کیجئے

عنوان : پیغمبر رو پیغام (پیغمبر کا پیغام ) (کتاب)

کتاب کا لکھاری : راجیو شرما ( گاؤں کلیسیا ، ضلع جُنجنو ، راجھستان ، انڈیا )

انٹرویور: رانا علی زوہیب

تعارف راجیو شرما

راجیو شرما 6 اگست 1987ء کو بھارت کی ریاست راجھستان کے ضلع” جُنجنو “کے ایک چھوٹے سے گاؤں ” کولیسیا “ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے سرکاری اسکول سے حاصل کی۔ راجیو شرما کا تعلق ”ہندو“ مذہب اور ”برہمن“ فیملی سے ہے۔ راجیو کی فیملی میں 4 بہن بھائی، ماں اور باپ شامل ہیں۔ راجیو کو بچپن سے پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا۔ پہلی کلاس سے لے کر آکر تک ہمیشہ کلاس میں فرسٹ آتے رہے۔ کتاب بینی کے شوق نے آج انہیں اس نہج پر پہنچا دیا کہ سرور کائنات حضرت محمدﷺ کی حیات طیبہ پر کتاب لکھ ڈالی۔

راجیو شرما کو چونکہ کتابیں پڑھنے کا شوق تھا اس لیے ان کے انگریزی کے استاد (سردارسنگھ جی) نے انکا رجحان مزید کتابوں کی طرف بڑھانے کیلئے راجیو کو انگریزی زبان میں کتابیں لاکر دینا شروع کیں جو راجیو شرما نے پڑھنا شروع کیں۔ راجیو کا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی ہے جو اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں پڑھانے کے علاوہ کہیں اور پرائیویٹ نہیں پڑھا سکتی تھی۔

کتاب بینی کا شوق جب حد سے بڑھا اور اسکول کی لائبریری میں موجود کتابیں کم پڑنے لگیں تو راجیو نے یہ فیصلہ کیا کہ کیوں نہ اپنے گھر میں بھی ایک لائبریری بنا لی جائے۔

راجیو شرما نے اپنی حویلی میں موجود میں کمرے کو صاف کیا اور اسے لائبریری بناڈالا۔ لائبریری تو بن گئی لیکن اس میں کتابیں کہاں سے آئیں؟ اس کیلئے راجیو شرما نے ہندوستان کے مختلف پبلشرز کو خط لکھنا شروع کیے اور اپنی ذاتی لائبریری میں کتابوں کو جمع کرنا شروع کردیا۔

عبدالستار ایدھی کی کتاب کب پڑھی؟

اپنے گھر کی لائبریری میں موجود کتابوں میں ایک دن راجیو شرما کی نظر لائبریری میں موجود ایک کتاب پر پڑی۔ کتاب کسی ہندوستانی رائٹر نے لکھی تھی۔ کتاب پاکستان میں موجود ایدھی فاؤنڈیشن کے فاؤنڈر ”عبدالستار ایدھی“ کی حیاتی پر لکھی گئی تھی۔ راجیو نے وہ کتاب پڑھی اور ان جذبات کا اظہار کیا کہ ” اس دنیا میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دھرم سے ہٹ کر سب سے پہلے انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ انسانیت ہی سب کچھ ہے، کیسے ایک بوڑھا شخص ان بچوں کو پال رہا ہے جن کو زمانہ اور خود ان کو پیدا کرنے والے ٹھکرا دیتے ہیں۔ عبدالستار ایدھی جیسے لوگ اللہ ہر ملک کو عطا کرے“۔

اسلام کی طرف توجہ کیسے ہوئی؟

راجیو شرما نویں کلاس کا اسٹوڈنٹ تھا جب 9/11 کا واقعہ پیش آیا۔ اسکول سے واپسی پر راجیو نے دیکھا کہ اس کے گاؤں میں ایک درخت کے نیچے کچھ لوگ جمع ہیں، پاس جا کر معلوم ہوا کہ وہ لوگ امریکہ میں ہونے والے دہشتگردانہ واقعے کا ذکر رہے تھے۔ راجیو کا کہنا تھا کہ اس نے سنا کہ ’’امریکہ میں حملہ ’اسامہ بن لادن‘ نے کیا ہے اور وہ ایک مسلم ہے۔ حملہ کرنے کیلئے اس نے انسپائریشن ”قرآن“ سے لی، قرآن نے اسے حملہ کرنے کیلئے مجبور کیا‘‘۔

راجیو شرما نے جب یہ باتیں سنیں تو فوراً واپس مڑا اور اپنی لائبریری میں پہنچ گیا۔ لائبریری میں رکھا قرآن اٹھایا اور اس کا مطالعہ شروع کردیا۔ پڑھتے پڑھتے اور قرآن کو سمجھتے سمجھتے جب وہ (سورتہ المائدہ.31-32) آیت پر پہنچا  ’’اسی سبب سے، ہم نے بنی اسرائیل پر لکھا کہ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے کے بٍغیر یا زمین میں فساد (روکنے) کے علاوہ قتل کیا (یعنی قاتل و فسادی کے علاوہ کسی کو قتل کیا) تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا، اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کی زندگی بخشی، اور ہمارے رسول ان کے پاس کھلے حکم لا چکے ہیں پھر بھی ان میں بہت سے لوگ اس کے بعد بھی زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں‘‘۔

تو راجیو نے قرآن کو بند کیا اور ایک لمبی سانس بھر کر کہا کہ ” ایک سچا مسلمان، قرآن کو ماننے والا کسی کو ناحق قتل نہیں کر سکتا، جس مذہب کی کتاب یہ کہہ رہی ہے کہ جس نے ایک انسان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا، جس نے ایک جان بچائی اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی تو وہ مذہب (اسلام) اس طرح کے دہشتگردانہ حملوں کی اجازت کیسے دے سکتا ہے؟ یا وہ شخص خود کو مسلمان کیسے کہہ سکتا ہے جو اپنے ہی مذہب کی تعلیمات پر عمل پیرا نہ ہو؟

سوال : اسلام اور دہشتگردی کا کیا تعلق ہے آپ کی نظر میں؟

جواب (راجیو شرما): دہشتگردی کی وجوہات الگ الگ ہوتی ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی مذہب خواہ وہ ہندو ہو، اسلام ہو، عیسائی ہو دہشتگردی نہیں سکھاتا۔ اسلام نے ہمیشہ امن کا پیغام دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں لوگوں نے قرآن پڑھا ہی نہیں ہے اور سنی سنائی باتوں پر یقین کرلیتے ہیں۔ پوری انسانیت کا سبق اس ایک آیت میں چھپا ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ جس نے کسی ایک جو ناحق قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔ کچھ لوگ ہوتے ہیں، فسادی ہر دور میں پائے گئے ہیں، حضور ﷺ کے دور میں بھی موجود تھے تو کیا ہم اب اسلام کو غلط کہہ دیں؟ ہم قرآن کو غلط کہہ دیں؟ سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کی بجائے اگر ہم خود سے تحقیق کرلیں تو شاید ہمارا ذہن کچھ اور ہو اور ہم سیدھے راستے پر چل پڑیں۔ شام میں کیا ہو رہا ہے؟ عیسائی عیسائی کو مار رہے ہیں، یورپ عیسائیت کو ختم کرنے پر تُلا ہے، کیا ہے یہ سب؟ میں سمجھتا ہوں کہ قرآن کو پڑھنا تو ضروری ہے لیکن اس کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا اور اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ آج روس قرآن کے نقش قدم پر چل رہا ہے، برطانیہ قرآن کی تعلیمات کو لے اپنی حکومت چلا رہا ہے، تو پوری انسانیت اس ایک کتاب میں سموئی ہوئی ہے جس کا نام قرآن ہے۔

مسلمانوں میں بھی کچھ فسادی ہیں جیسے ہندوؤں میں ہیں، جیسے دوسرے مذاہب میں ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں پوری کمیونٹی غلط ہے۔ ایک شخص کی خاطر ہم کمیونٹی، اس کے مذہب، اس کی کتاب کو جھوٹا نہیں کہہ سکتے۔ اس لیے سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کی بجائے قرآن کو پڑھا جائے اور سمجھا جائے تو بہتر ہے۔

سوال : حضورﷺ کی حیات طیبہ پر کیوں لکھا ؟ جبکہ آپ کا تعلق ایک ہندو مذہب سے ہے۔

جواب (راجیو شرما) : قرآن کو پڑھنے کے بعد پھر یہ ضروری تھا کہ یہ قرآن جس ہستی پر اتارا گیا اس کو بھی پڑھا جائے ۔ تو میں نے حضور ﷺ کی احادیث کو پڑھان شروع کیا ، قرآن چونکہ عربی زبان میں تھا تو عربی پڑھنے کے لیے مجھے پہلے سات سے آٹھ زبانیں سیکھنا پڑیں ، مختلف زبانیں سیکھ کر عربی زبان سیکھ کر پھر قرآن پڑھا اور احادیث پڑھنا شروع کیں اور حضورﷺ کی حیات کو پڑھا اور پڑھنے کے بعد میں اتنا متاثر ہوا کہ میں نے یہ سوچا کہ میں اپنی زبان ”مارواڑی“ میں حضورﷺ کی حیاتی لکھوں تاکہ میں اپنے مذہب اور مسلمان بھائیوں کے لیے کچھ کر سکوں ۔

سوال : کس چیز نے متاثر کیا کہ آپ کتاب لکھنے پر مجبور ہوگئے ؟

جواب (راجیو شرما) حضورﷺ کی حیاتی کو پڑھتے ہوئے میں جب جنگ بدر کو پڑھا تو میں متاثر ہوئے نہ رہ پایا۔ اس میں سب سے بہترین جو چیز تھی وہ تھی ” تعلیم کے بدلے رہائی “ ۔ یعنی جب جنگی قیدیوں کو حضورﷺ کے سامنے لایا گیا اور ان کا مقدمہ چلا تو جو مالدار تھے، ان کو مال کے بدلے رہا کیا گیا اور جو پڑھے لکھے تھے لیکن مالدار نہیں تھے فدیہ نہیں دے سکتے تھے ان کو کہا گیا کہ ” ایک قیدی دس مسلمان بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھائے گا تو اسے رہا کردیا جائے گا“۔ مطلب آج سے چودہ سو سال پہلے ایک ایسی ہستی اس دنیا میں موجود تھی جسے تعلیم کی فکر تھی اور اس نے تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے جنگی قیدیوں کو تعلیم کے بدلے رہائی دے دی۔ میرے لیے یہ بہت متاثر کن بات تھی کہ آج سے چودہ سو سال پہلے تعلیم کے بارے میں اتنی غورو فکر کرنے والی ہستی موجود ہے جسے اپنی امت کی تعلیم کی فکر ہے۔ تومجھے سب سے زیادہ متاثر کرنے والی چیز انکی تعلیم کیلئے فکر تھی جس نے مجھے متاثر کیا اور میں نے بھی یہ عہد کیا کہ میں اب ان کی حیاتی، ان کی تعلیمات کو اپنے دیش میں اپنے مسلمان بھائیوں میں متعارف کرواؤں اپنی زبان میں جو عربی نہیں پڑھ سکتے اور وہ قرآن اور حدیث کی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کے علاوہ اگر ہم قرآن کو دیکھیں تو جو پہلی وحی نازل ہوئی وہ بھی ”اقراء“ یعنی پڑھ کے نام سے تھی، تو اسلام کی ابتداء ہی تعلیم سے ہوئی، کتاب کی ابتداء تعلیم سے ہوئی، تو وہ ہستی کیسے نہ سوچتی کہ امت کو کیسے تعلیم دلائی جائے۔

سوال : کتاب لکھنے کیلئے کتنا وقت لیتے تھے اور کس وقت لکھتے تھے؟

جواب (راجیو شرما): میں صبح 9 بجے دفتر جاتا تھا اور شام کو 5 بجے جب چھٹی ہوتی تھی اس وقت لوکل ٹرانسپورٹ بھی بند ہو چکی ہوتی تھی۔ حالات ایسے نہیں تھے کہ کوئی سائیکل خرید سکتا، اس لیے دفتر سے روز پیدل گھر جاتا تھا۔ پیدل گھر پہنچتے ہوئے مجھے 8 بج جاتے تھے اور سارا راستہ پیدل چلتے ہوئے میں اپنے دماغ میں ساری باتیں سوچ لیتا تھا کہ آج کیا لکھنا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ وہ میرا پیدل چلنا میرے لیے سود مند ثابت ہوا کہ میں سارا راستہ سوچتا اور گھر آکر اس کو لکھ لیتا۔ رات 9 بجے کے بعد میں لکھنے بیٹھتا اور جو کچھ بھی دفتر سے واپسی پر سوچتا وہ میں لکھ دیتا، اور روزانہ تقریباً ایک گھنٹہ لگاتار لکھتا رہتا میں۔

سوال : کتاب لکھنے میں سب سے زیادہ مدد کس نے کی؟

جواب (راجیو شرما): میری ساری فیملی نے مجھے سپورٹ کیا۔ میری دو بہنوں کی شادی ہوچکی ہے، ایک بھائی ہے جو چارٹڈ اکاؤنٹنٹ ہے۔  میں جب دفتر سے گھر آتا اور کھانا وغیرہ کھا کر لکھنے بیٹھتا تو میری والدہ میرے پاس موجود ہوتیں کیونکہ مجھے مارواڑی زبان میں کتاب لکھنی تھی اور مجھے اردو اور ہندی کے کچھ الفاظ ایسے تھے جن کی سمجھ نہیں آتی تھی۔ اس لیے ان الفاظ کے مطلب جاننے کیلئے اور ٹرانسلیشن کیلئے میری والدہ میرے پاس موجود ہوتیں اور جب تک میں لکھتا وہ مجھے ساتھ ساتھ مارواڑی زبان کے لفظ سمجھاتیں۔ اس لیے یہ کتاب لکھنے میں سب سے زیادہ وقت اور سپورٹ میری والدہ نے مجھے کیا ہے، ان کی وجہ سے میں یہ کتاب لکھنے میں کامیاب ہو پایا ہوں۔

سوال : سب سے زیادہ مشکل کس مرحلے میں آئی؟

جواب (راجیو شرما): کتاب لکھنے میں کوئی دقت نہیں آئی۔ میرے دوست احباب، فیملی اور گاؤں کے لوگ بہت اچھے ہیں اور بہت زیادہ سپورٹ بھی کرتے ہیں۔ اس لیے مجھے کتاب لکھنے میں کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔

لیکن کتاب جب لکھ لی تو حیدر آباد میں موجود ”جماعت اسلامی ہند “ کے سربراہ نے مجھے بلایا۔ میں ان سے ملنے گیا تو وہ بہت خوش ہوئے اور میری تعریف بھی کی۔ مولانا سے ملاقات کے بعد مجھے میرے دفتر میں مسئلہ پیش آیا جہاں میں کام کرتا تھا۔ میرے سینئرز اور انچارج مجھ سے خفا رہنے لگے، میرے ساتھ ان کا تعلق آہستہ آہستہ خراب ہوتا گیا اور مجبوراً مجھے وہ دفتر چھوڑنا پڑا۔ صرف ایک جگہ پر جہاں پر میں کام کرتا تھا وہاں سے مجھے وہ جاب چھوڑنا پڑی بس، باقی کہیں پر کوئی بھی مسئلہ نہیں آیا۔ نہ صرف مسلم بلکہ ہندو لوگوں نے بھی مجھے سراہا۔ میرے کام کو سراہا کہ بہت اچھا کام کیا ہے۔

دوسرا مجھے دقت اس وقت آئی 2005ء میں جب میرا ایکسیڈنٹ ہوا۔ ایکسیڈنٹ اتنا خوفناک تھا کہ 3 سال تک میں اٹھ کر بیٹھ نہ سکا اور علاج چلتا رہا۔ اس کی وجہ سے میرا ریسرچ کا عمل رُک گیا اور میں زیادہ لکھ بھی نہیں پایا۔ لیکن ہمت نہیں ہاری اور بیڈ پر بھی پڑھتا رہا اور اپنے اس مشن کو جاری رکھا۔ وہ ایکسیڈنٹ ہونا میں سمجھتا ہوں کہ کوئی معجزہ تھا جو مجھے بچا گیا، خدا نے مجھے زندگی دی دوبارہ شاید اس لیے کہ میں یہ کام مکمل کر سکوں۔

سوال : مسلمان دوست ہیں آپ کے؟ ان کا کیا ری ایکشن آیا کتاب کے بعد؟

جواب (راجیو شرما): میرے پورے گاؤں میں ایک بھی مسلمان نہیں ہے، نہ کوئی مسلم گھرانا موجود ہے۔ اسکول میں دوست تھے جو مسلم تھے، ان کے ساتھ اچھے تعلقات تھے اور آج بھی ہیں۔ دفتر میں بھی بہت سے مسلم دوست ہیں۔ ایک میرا دوست تھا واجد علی، وہ مسلم تھا اور اپنی دادی کے ساتھ رہتا تھا، اس کے دادا پاکستان میں رہتے تھے۔ میرا اس کے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا، ایک پلیٹ میں کھانا کھاتے ہیں ہم۔ ہم میں کوئی ایسی کراہت یا بات نہیں کہ جس سے لگے کہ میں ہندو اور وہ مسلم ہے۔

دوست احباب کی حد تک بہت اچھا رسپانس ملا، میں نے کتاب کی کاپی وزیراعظم نریندر مودی کو بھی بھیجی اور صدر کو بھی، اور ان کی طرف سے بھی اچھا رسپانس آیا۔ سب سے زیادہ رسپانس مجھے گلف کنٹریز سے آیا جو لوگ راجھستان سے تھے اور سعودی عرب، عراق، دبئی میں جاب کرتے تھے۔ جب انہوں نے یہ کتاب پڑھی تو انہوں نے بہت اچھا رسپانس دیا اور اکثر اوقات کہتے ہیں کہ راجیو بھائی آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے، ہماری مشکل آسان کردی ہے۔ کتاب پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ گاؤں کی مٹی کی خوشبو آرہی ہے۔ جب ایک کتاب کو ہم اپنی زبان میں ٹرانسلیٹ کرتے ہیں تو اس کو پڑھنے کا مزہ اور بھی آتا ہے اور اس کی خوبصورتی میں اور بھی اضافہ ہوجاتا ہے ۔

ہاں البتہ جیسے میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ کہ ہر مذہب میں کچھ فسادی ہوتے ہیں تو مجھے بھی سوشل میڈیا پر بہت زیادہ تونہیں لیکن تھوڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے ایسے کمنٹس کیے لوگوں نے کہ ایک وقت تو میں گھبرا گیا کہ یہ کیا ہو گیا ہے؟ لیکن جہاں ہزار آپ کی حمایت میں کھڑے ہوں وہاں بیس یا تیس آپ کے خلاف بھی ہوں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جہاں تنقید ہوتی تھی وہاں جب انٹرنیشنل نیوزپیپرز میں خبریں چھپتی تھیں تو خوشی بھی ہوتی تھی۔

سوال : کتاب اور ریسرچ کے سارے پراسیس کو کتنا عرصہ لگا؟

جواب (راجیو شرما): 2000ء میں میں نویں کلاس کا طالبعلم تھا، تب میں پڑھنا شروع کیا۔ قریباً اس کتاب کو لکھنے میں، ریسرچ کرنے میں، پڑھنے میں، خود سیکھنے میں اور فائنل پبلشنگ میں 17 سال کا عرصہ لگ گیا ہے۔ میرے ایکسیڈنٹ کی وجہ سے (جو 2005ء میں ہوا) کچھ وقت زیادہ لگا۔ کچھ 2010ء میں ایک اخبار میں میگزین ڈویژن میں نوکری لگ گئی، تو نوکری کی وجہ سے مجھے جے پور آنا پڑا اور لائبریری کو بھی تالا لگ گیا اور کام بھی کچھ رُک گیا۔ لیکن تقریباً سترہ سال لگے اس سارے پراسیس میں۔

سوال : قرآن پاک کی ٹرانسلیشن کتنے عرصے میں کی؟

جواب (راجیوشرما): مارچ 2015ء میں قرآن پاک کی بھی مارواڑی زبان میں ٹراسلیشن شروع کی۔ پہلے کی طرح بہت زیادہ ریسرچ کی، سعودی عرب اور عراق کی آن لائن لائبریریز سے مدد لی، کبھی آدھا پیج اور کبھی ایک پیج ٹرانسلیٹ کرلیتا اور میرا یہ سفر 2 دسمبر 2017ء تک جاری رہا۔ 2 دسمبر 2017ء میں نے قرآن پاک کی مارواڑی زبان میں ٹرانسلیشن مکمل کی اور میری خوش نصیبی یہ ہے کہ اس دن عید میلاد النبی ﷺ بھی تھا، جس دن میں نے قرآن مکمل کیا۔ ٹرانسلیٹڈ قرآن ابھی ویسے ہی ہے رجسٹر پر، پبلشرز سے بات چل رہی ہے، بہت جلد وہ بھی پرنٹ کروا کے پبلش کردیا جائے گا۔

سوال : زندگی کے سترہ سال وقف ہوگئے ایک کتاب پر، کیا نتیجہ اخذ کیا آپ نے؟

جواب (راجیو شرما): وقت جتنا بھی لگا مجھے کوئی پرواہ نہیں، سترہ سال مزید بھی لگ جاتے تو میں خوشی سے لگاتا۔ مجھے خوشی اس بات کی ہے اور میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے یہ کام کروایا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو مصیبت مجھ پر 2005ء میں آئی وہ مصیبت بھی رحمت بن گئی میرے لیے۔ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اسلام محبت، بھائی چارہ، امن، تعلیم اور انصاف کا درس دیتا ہے۔ ایک مسلمان دہشتگرد نہیں ہوسکتا۔ میرا مذہب ہندو ہے لیکن میں نے قرآن پڑھا، میں نے اسے سمجھا اور اب دوسروں کو سمجھا رہا ہوں۔  زندگی میں بہت سے ایسے حالات بھی آئے ہیں کہ میں لڑ پڑتا ہوں لوگوں سے کہ قرآن کو سامنے رکھ کر جو بات آپ کر رہے ہو وہ قرآن میں ہے ہی نہیں، پہلے قرآن پڑھ تو لو پھر بات کرو، سنی سنائی باتوں پر یقین کیے بیٹھے ہو۔ ہر آدمی کا نظریہ الگ ہوتا ہے لیکن نظریے کی بنیاد پر مذہب کو غلط نہیں کہا جاسکتا، خاص طور پر اسلام جیسے مذہب کو۔

دعا گو ہوں کہ اللہ میری اس کاوش کو قبول فرمائے اور وہ لوگ جو مذہب اسلام کو بنیاد بنا کر دہشتگردانہ کارروائیاں کرتے ہیں، اصل میں ان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

loading...

رانا علی زوہیب

رانا علی زوہیب کا تعلق لاہور سے ہے۔ موصوف صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور اِن دنوں نجی نیوز چینل ’’جیو‘‘ میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close