بلاگ

ابھی دیر نہیں ہوئی

شیئر کیجئے

جس راہ کو آپ چھوڑ چکے ہوں اور آگے نکل چکے ہوں مگر آپ کو معلوم ہو جائے کہ جس راہ کو آپ نے چھوڑا تھا وہ آپ کی تھی اور آپ اب دوبارہ واپس مر جانا چاہتے ہوں مگر ایسا ممکن نہیں آپ دوبارہ اس وقت میں چلے جائیں اور وہاں جا کر وہ سب بدل دیں۔ ابھی انسان نے اتنی ترقی نہیں کی ہے کہ وہ زمانے کی گھڑیوں کو بدل دے اس لیے اس منزل کا مڑ نا آسان نہیں کیونکہ اب آپ بہت آگے آچکے ہو، وقت کی گھڑیوں کے مطابق ہی نہیں بلکہ ہر لحاظ سے کہ اس گزرے ہوئے زمانے کو آپ بدل نہیں سکتے۔ اب ممکن ہے کہ آپ جس راہ پر ہو اسی پر رہ کر اگلی سمت درست کر لیں اسی راہ میں تبدیلی کر کے آپ اپنے لیے نئی درست سمت متعین کر سکتے ہو۔ مگر واپس جا کر ماضی کی سمت تبدیل نہیں کر سکتے اس لئے ”ماضی کی غلطیوں کی وجہ سے اپنے حال کو خراب نہ کریں” اور آپ صرف اس وجہ سے خود کو درستگی سے روک نہیں سکتے کہ آپ کو ماضی میں کچھ درست کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اب چونکہ یہ جو غلط راہ ہے، جسے میں نے چن لی ہے اور اب یہی مقدر ہے میرا کیونکہ میں ماضی میں جا کر ان سب کو بدل نہیں سکتا اور اب چونکہ مجھے احساس بھی ہو گیا ہے مگر پھر بھی میں بدل نہیں سکتا اس لیے اسی راہ پر چلنا میری مجبوری ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم ماضی کی ناگواریوں کو اپنا مستقبل نہیں سمجھ سکتے خاص طور پر جب ہمیں ان ناگواریوں کا احساس بھی ہو جائے اور ہم صرف اپنی سستی کی وجہ سے ان سے پیچھا چھڑا نہیں سکتے۔ ہماری موجودہ حالت ہمارے مستقبل کا تعین کرتی ہے۔ اگر ہم ماضی کی ناگواریوں سے سبق لے کر حال میں درست سمت کا تعین کر لیں تو ہمارا مستقبل سنور سکتا ہے اور ماضی کا نقصان بھی کافی حد تک پورا ہو جائے گا۔

اللہ تعالیٰ نے معافی کے دروازے ہمیشہ سب کیلئے کھلے رکھے ہیں۔ چاہے وہ کوئی بھی ہو، کسی بھی خطے رنگ نسل کا ہو اگر وہ سچے دل سے اللہ کی طرف لوٹتا ہے اور ماضی کی غلطیوں سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا بہت شاندار استقبال کرتا ہے اور اپنے دامن میں پناہ دیتا ہے۔

اس معاشرے میں جہاں انسانوں نے اس قدر مشکل اصول بنا رکھے جو کسی کو جان بوجھ کر درست راستے کی طرف آنے نہیں دیتے اور اسے اس کی غلطیوں کیلئے سزا خود ہی سنا دیتے ہیں۔ یہاں چور طاقت کے بل پر لوٹ مار کرتا رہے تو کسی کی ہمت نہیں ہوتی کہ اسے کچھ کہہ سکے، سب اسے چور تو کہیں گے اور اسے برا بھی جانے گے مگر اس کے سامنے اس کے گن گائیں گے۔ کسی کی ہمت نہیں ہوتی اسے کچھ کہہ سکے مگر اب جب اسے اگر کہیں سے توفیق مل گئی ہے اور وہ اس غلط راہ کو چھوڑنا چاہتا ہے تو یہ معاشرہ اسے صحیح راہ چننے نہیں دیتا اور اس کیلئے اس کے ماضی کو ناسور بنا دیتے ہیں اور اسے اس سے نکل کر آگے بڑھنے ہی نہیں دیتے۔ اسے ہر پل ماضی کے طعنے دیں گے اسے بتائیں گے کہ نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی۔ ۔مگر کوئی اس کی مدد نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی رہنمائی کرے گا۔ اس کی کردار کشی ہوگی، اسے بتایا جائے گا وہ کتنا غلط ہے۔ جب وہ غلط تھا تو کوئی اسے کچھ نہیں کہتا تھا اور اب جب وہ اس راہ کو چھوڑ کر صحیح راہ پر آنا چاہتا ہے تو لوگ اسے بتاتے ہیں کہ وہ تو چور ہے۔ وہ کیسے اچھا انسان ہوسکتا ہے۔ اب وہ کیسے اس راہ کو چھوڑکر آگے بڑھ سکتا ہے۔

یہ صحیح ہے کہ درست راہ ہی انسان کو منزل مقصود تک لے کر جاتی ہے مگر ہمیں یہ بھی سمجھنا ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے وہ غلطیاں بھی کرتا ہے بڑے بڑے سنگین جرم بھی کرتا ہے اور ان کیلئے سزا بھی مقرر ہے اور سزا دینی بھی چاہیے۔ برائیوں پر قابو پانے کیلئے ضروری ہے مگر ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ایک انسان کی ساری زندگی اسی گناہ کے گرداب میں گزر جائے اور اسے اس سے نکلنے کا موقع نہ ملے۔ سزا کے ساتھ ساتھ ہمیں عفودرگز کو بھی زندگیوں میں شامل کرنا ہوگا اور اس کی رہنمائی کا انتظام بھی کرنا ہے۔ جو لوگوں کو واپس اچھائی کی طرف آنے میں مدد دے اور ان کی زندگیوں کو تباہ ہونے سے بچانا ہے۔

کہیں نوعمر نوجوان مشکلات اور تلخ حالات کی وجہ سے غلط راہ اختیار کرلیتے ہیں۔ کوئی نشے کی عادت کو اپنا لیتا ہے تو کوئی بھوک سے تنگ آ کر چور بن جاتا، تو کوئی بدلے کی خاطر قاتل بن جاتا ہے۔ ان میں سے بہت سے تو اس راہ کو چننا ہی نہیں چاہتے تھے، بس حالات کی نظر ہو جاتے ہیں اور کہیں اب بھی واپس درست راہ کو اپنانا چاہتے ہیں مگر معاشرتی رویے اور حالات اور ان کو ایسے کرنے سے روکتے ہیں۔ اگر غلط راہ پر ہوں تو لوگ ان سے ڈرتے ہیں اور اگر وہ اسے چھوڑ کر صحیح راہ کو اپنائے تو لوگ انہیں جینے نہیں دیتے۔

ارباب اختیار کو اس سمت توجہ دینی چاہیے۔ ان نوجوانوں کی تعداد بڑھ ہرہی ہے جو معاشرتی مسائل سے تنگ آکر غلط ہاتھوں میں کھیلنے لگتے ہیں اور پھرساری عمر ان کی اسی کی نظر ہو جاتی ہے۔ اور کوئی ان کی واپسی کے لئے کچھ نہیں کرتا ہے۔

لوگوں کی آگاہی کیلئے اقدامات کیے جائیں اور بااختیار لوگوں کو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کیلئے بھی در کھولنے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کا اختیار دیا ہے اور جو لوگ غلط راہ کو چھوڑ کر صحیح راہ پر چلنا چاہتے ہیں ان کو خوشدلی سے نئی راہ پر خوش آمدید کہنا چاہیے۔

حاکم کے سر پہ تاج  اور محکوم پاؤں کی خاک

تو نے دیکھی ہو گی جسموں کی غلامی

یہاں آ کر دیکھ یہاں تو روحیں بھی غلام ہیں

مظلوم پہ جہنم واصل ہو اور ظالم کی جنت ہے

یہ کیسا نظام ہے جہاں ظلم کا راج ہے

غریب کو ملتی نہیں  دو گز زمین بھی

اور امیر کیلئے سجتے ہیں پنڈال پہ پنڈال

مرتا ہے یہاں بھوک سے غریب کا بچہ

اور بھرا رہتا ہے گودام امیر کا اناج سے

ہیں سب سہولیات  مگر امیر کیلئے

غریب تو ان کی  تمنا میں مارا جاتا ہے

یہ انسان کیسا اشرف ہے

جو روٹی پر  بکتا   ہے

ہاں زندگی حسین ہے مگر امیر کیلئے

غریب تو  زندہ رہنے کی سزا کاٹتا ہے

خواب ہیں اور تعبیر ہے سب امیر کیلئے

غریب تو روٹی  کپڑا   پورا کرتا رہتا ہے

ہے فرمان الہی ، تفرقہ نہ پھیلاؤ مگر یہاں

یہاں تو رنگ و نسل، ذات پات کے تفرقات ہی تفرقات ہیں

loading...

اسماء طارق

اسماء طارق کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ موصوفہ ماسٹرز کی طالبعلم ہیں اور سوشل ڈولپمنٹ ایشوز پر لکھتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close