ادبشاعری

بات ادھوری کرتی ہو

شیئر کیجئے

بات ادھوری کرتی ہو

پھر بھی شکوے ہزار کرتی ہو

چاند سے کتنا دور رہتی ہو

پھر بھی پاس رہتی ہو

چپ چاپ  سب سہتی ہو

پھر بھی ہستی مسکراتی رہتی ہو

زبان پہ لاکھ قفل سجائے رکھتی ہو

پھر بھی سب کہہ دیتی ہو

محبت اچھی کرتی ہو

پھر بھی چھپائے رکھتی ہو

پر کٹے رکھتی ہو

پھر بھی اڑان بھرتی ہو

چھپکلی سے ڈرتی ہو

پھر بھی حوصلہ کمال رکھتی ہو

ہزار زخم لیے پھرتی ہو

پھر بھی خواب سجائے رکھتی ہو

اے پاگل لڑکی !

تم بھی نا حد کرتی ہو

loading...

اسماء طارق

اسماء طارق کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ موصوفہ ماسٹرز کی طالبعلم ہیں اور سوشل ڈولپمنٹ ایشوز پر لکھتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close