ادبشاعری

بابا مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے

شیئر کیجئے

بابا مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے

سنہرے خواب بھی مجھے ڈراتے ہیں

بچپن کی طرح ان سے مجھے بچالو

بابا  اندھیرے سے مجھے چھپا لو

قدم  قدم  پہ ہے خوف کا پہرہ یہاں

مجھے ہر اک قدم سے ڈر لگتا ہے

سوچوں کے ہیں الجھے جال یہاں

مجھے سوچنے سے ڈر لگتا ہے

آسمان پہ ہے جا کہ کرنا بسیرا مجھے

پر  اڑنے   سے  ڈر   لگتا   ہے

منزل پر ہے پہنچنا جستجو میری  

پر  آگے بڑھنے سے ڈر لگتا ہے

کل کیا ہو گا

یہی سوچ کہ ڈر لگتا ہے

سب کہتے ہیں  بڑے ہو گئے  ہو

پر مجھے بڑا ہونے سے ڈر لگتا ہے

نازک  ہے  دل اس قدر  میرا

کہ ڈھرکنے سے ڈر لگتا ہے

رنگ برنگے انسان ہیں بستے یہاں

پر بابا مجھے ان سے ڈر لگتا ہے

بچپن کی طرح ان سے مجھے بچا لو

بابا  اندھیرے سے مجھے چھپا لو

loading...

اسماء طارق

اسماء طارق کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ موصوفہ ماسٹرز کی طالبعلم ہیں اور سوشل ڈولپمنٹ ایشوز پر لکھتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close