بلاگمعلومات

روزے کے دوران ہمارے جسم کا ردعمل کیا ہوتا ہے؟

روزے کے دوران ہمارے جسم کا ردعمل کیا ہوتا ہے؟ اس بارے کچھ دلچسپ معلومات

پہلے دو روزے

پہلے ہی دن بلڈ شگر لیول گرتا ہے یعنی خون سے چینی کے مضر اثرات کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ دل کی دھڑکن سست ہو جاتی ہے اور خون کا دباؤ کم ہو جاتا یعنی بی پی گر جاتا ہے۔ اعصاب جمع شدہ گلائی کوجن کو آزاد کر دیتے ہیں جس کی وجہ جسمانی کمزوری کا احساس اجاگر ہو جاتا ہے۔ زہریلے مادوں کی صفائی کے پہلے مرحلے میں نتیجتاً سر درد، چکر آنا، منہ کا بد بودار ہونا اور زبان پر مواد کےجمع ہوتا ہے۔

تیسرے سے ساتویں روزے تک

جسم کی چربی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہے اور پہلے مرحلہ میں گلوکوز میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ بعض لوگوں کی جلد ملائم اور چکنا ہو جاتی ہے۔ جسم بھوک کا عادی ہونا شروع کرتا ہے اور اس طرح سال بھر مصرف رہنے والا نظام ہاضمہ رخصت مناتا ہے جس کی اسے اشد ضرورت تھی۔ خون کے سفید جرسومے اور قوت مدافعت میں اضافہ شروع ہو جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے روزے دار کے پھیپڑوں میں معمولی تکلیف ہو اس لیے کہ زہریلے مادوں کی صفائی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ انتڑیوں اور کولون کی مرمت کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ انتڑیوں کی دیواروں پر جمع مواد ڈھیلا ہو نا شروع ہو جاتا ہے۔

آٹھویں سے پندرہویں روزے تک

آپ پہلے سے توانا محسوس کرتے ہیں۔ دماغی طور پر چست اور ہلکا محسوس کرتے ہیں۔ ہوسکتا ہے پرانی چوٹ اور زخم محسوس ہو نا شروع ہوں۔ اس لیے کہ اب آپ کا جسم اپنے دفاع کیلئے پہلے سے زیادہ فعال اور مضبوط ہو چکا ہے۔ جسم اپنے مردہ یا کینسر شدہ سیل کو کھانا شروع کر دیتا ہے جسے عمومی حالات میں کیموتھراپی کے ساتھ مارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے خلیات سے پرانی تکالیف اور درد کا احساس نسبتا بڑھ جاتا ہے۔ اعصاب اور ٹانگوں میں تناؤ اس عمل کا قدرتی نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ قوت مدافعت کے جاری عمل کی نشانی ہے۔ روزانہ نمک کے غرارے اعصابی اکڑاؤکا بہترین علاج ہے۔

سولہویں سے تیسویں روزے تک

جسم پوری طرح بھوک اور پیاس کو برداشت کا عادی ہو چکا ہے۔ آپ اپنے آپ کو چست اور چاق و چو بند محسوس کرتے ہیں۔ ان دنوں آپ کی زبان بالکل صاف اور سرخی مائل ہوجاتی ہے۔ سانس میں بھی تازگی آجاتی ہے۔ جسم کے سارے زہریلے مادوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ نظام ہاضمہ کی مرمت ہوچکی ہے۔ جسم سے فالتو چربی اور فاسد مادوں کا اخراج ہو چکا ہے۔ بدن اپنی پوری طاقت کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنا شروع کردیتا ہے۔ بیس روزوں کے بعد دماغ اور یا داشت تیز ہوجاتے ہیں۔ توجہ اور سوچ کو مرکوز کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ بلا شک بدن اور روح تیسرے عشرے کی برکات کو بھرپور انداز سے ادا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

یہ تو دنیا کا فائدہ رہا جو بے شک ہمارے خالق ہماری ہی بھلائی کیلئے ہم پر فرض کیا۔ مگر دیکھیے اس کی رحمت کا انداز کریمانہ کہ اس کے احکام ماننے سے دنیا کے ساتھ ساتھ ہماری آخرت بھی سنوارنے کا بہترین بندوبست کردیا۔

سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم

loading...

کنور عدیل چوہان

کنور عدیل چوہان گزشتہ کئی برسوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ موصوف بیشتر ٹی وی اور ریڈیو چینلز میں وائس اوور آرٹسٹ اور اینکر کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ آج کل نجی ٹی وی چینل میں سینئر اینکر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close