بلاگ

روٹی جب کسی سے بھا گتی ہے تو لو ٹ کر نہیں آتی

شیئر کیجئے

“روٹی جب کسی سے بھا گتی ہے تو لو ٹ کر نہیں آتی “۔ حدیث نبویﷺ

رمضان کا مہینہ برکتوں، رحمتوں کا مہینہ ہے۔ الحمد للہ اس میں خوب رزق میں کشادگی اور فراخی ہوتی ہے۔ ہر گھر میں کئی کئی ڈشز بنتی ہیں، بازار میں بھی کھانے پینے کی اشیاء خوب فروخت ہوتی ہیں۔ عزیز و احباب سے ملاقات کی جاتی ہیں۔ دعوتیں ہوتی ہیں اور اکثر دعوتوں میں یہ دیکھ کر سخت الجھن ہوتی ہے کہ محفل و تقریب میں جتنا پکایا جاتا ہے اتنا کھایا نہیں جاتا اور مہمان پلیٹ میں بھر بھر کر ڈال لیا کرتے ہیں۔ نتیجہ کھا نہیں سکتے اور باقی بچا کر چھوڑ دیتے ہیں پھر وہ ضائع کردیا جاتا ہے، جبکہ ہمارے پیارےنبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کیا اچھا جینے کا طریقہ سکھایا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کا نوالہ گر جائے تو اُسے صاف کرکے کھالینا چاہیے اور اُسے شیطان کیلئے نہ چھوڑے اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ پیالے کو صاف کردیا کریں کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اس کیلئے کھانے کے کون سے حصّے میں برکت رکھی گئی(سنن ابوداؤد)۔

ایک نوالہ تک گرجائے تو اٹھا کر کھانے کا حکم ہے تو پھر اکثر دعوتوں میں اتنا اتنا کھانا پھیکا جاتا ہے جو بہت ہی غلط ہوتا ہے۔ انسان کو اللہ نے آزمائش و امتحان کیلئے پیدا فرمایا ہے۔

کھانے کی بربادی اور حد سے بڑھنے والوں کیلئے قرآن میں سخت مذمت آئی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے
“کُلُوْ مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ وَلَاْ تَطْغَوْ فِیْہِ فَیَحِلُّ عَلَیْکُمْ غَضَبِیْ وَمَن یَّحْلِلْ عَلَیْہِ غَضَبِیْ فَقَدْ ہَوٰی”
ترجمہ:
کھاؤ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں روزی دیں اور اس میں زیادتی نہ کرو کہ تم پر میرا غضب اترے اور جس پر میرا غضب اترا بے شک وہ گرا (یعنی ہلاک ہوا اور جہنم میں گیا)۔(القرآن، سورہ طٰہٰ، آیت 81)۔

حضرت عا ئشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے اور ایک روٹی کا ٹکڑا زمین پر پڑا ہو ادیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اٹھا یا، صاف کیا اور کھالیا۔ حضور مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا اچھی چیز کا احترام کیا کرو، روٹی جب کسی سے بھا گتی ہے تو لوٹ کر نہیں آتی۔ ( اچھی چیز سے یہ بھی مرا د ہے کہ اللہ کی دی ہو ئی دوسر ی اشیاء کی بھی قدر کیا کرو)۔ اگر بچ جائے تو کوئی غریب ہی کو دے دیا جائے، ایک غریب کی اعانت ہوگی، ضائع ہونے سے بچ جائے گا آپ کو دعا بھی ملے گی نیکی بھی۔

غفلت و تکبر سے جو اللہ کےرزق جیسے نعمت کی ناقدری کرتے ہیں وہ گناہ میں شامل ہے۔ گناہ کی وجہہ سے اللہ کی امداد بند ہوجاتی ہےکیونکہ۔۔۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
“یایہاالذین آمنوا إن تنصروا اللہ ینصرکم”
ترجمہ
اے ایمان والو! اگرتم اللہ کی مددیعنی اطاعت کروگے تواللہ تمہاری مددکرے گا۔ (القرآن، سورہٴ محمد,آیت:7)۔

یہ ہی وجہ ہے کے دنیا میں بہت سارے ممالک میں لوگ بھوکے مررہے ہیں۔ اناج کو ترس رہے ہیں۔ دانہ دانہ کے محتاج ہوگئے ہیں۔ جب بھی ایسے نیوز پڑھے جاتے ہیں تو دلی تکلیف ہوتی ہے مگر پھر بھی اگلا گرا تو پچھلا ہوشیار نہیں ہوتا۔

اقوام متحدہ کے خوراک کے ادارے ایف اے او کا کہنا ہے کہ دنیا میں ایک ارب سے زیادہ افراد بھوک میں مبتلا ہیں تو دوسری طرف اقوام متحدہ ہی کی جانب سے کرائی جانے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دنیا میں ہر سال تیار کی جانی والی ایک تہائی خوراک ضائع ہوجاتی ہے۔ ہر سال ضائع ہونے والی خوراک کا وزن تقریباً ایک ارب ٹن ہوتا ہے۔ یورپ اور شمالی امریکہ میں اوسطاً ایک شخض سالانہ ایک سو کلو گرام قابل استمعال خوراک ضائع کردیتا ہے۔

جب اللہ پاک نے آپ کو نعمتیں عطا کی ہیں تو اسے ضائع نہ کریں، ان کا صحیح استمعال کریں۔ حقدار و غریب محتاج کو دیں وہ آپ کے آخرت میں کام آئے گا۔
زرق کا صحیح استمعال کرنا اور اس کو ضائع جانے سے بچانا بھی رزق کا شکر ادا کرنا ہے اور جو لوگ شکر نہیں کرتے ان سے نعمت سلب کرلی جاتی ہے اور واپس نہیں دی جاتی ۔

بعض اللہ کے بندے غریبوں کو اس وقت دیتے ہیں جب وہ خراب ہونے لگے تو تب انہیں خیال آتا ہے کہ غریب کو دے دینا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ دوسروں کیلئے بھی وہ ہی پسند کریں جو خود کیلئے ہو۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا

ترجمہ

” تم ہر گز نیکی میں کمال حاصل نہ کرسکو گے جب تک اپنی پسندیدہ چیز سے کچھ خرچ نہ کرو۔ اور جو چیزخرچ کرو گے سو اللہ کو معلوم ہے”۔(القرآن ,سورہ آل عمران آیت92)۔

والدین کوبچوں کو بچپن سے تھوڑا تھوڑا کھانا لینے کی ترغیب دینا اور بچا کر چھوڑنے سے روکنا چاہیے۔ اگر دعوتوں میں زیادہ بچ جائے تو غربا میں فوراً تقسیم کردینا چاہیے تاکہ اچھی حالات میں انہیں ملے۔ شیطان کے رہنے اور کھانے کا انتظام نہ کرو۔

کھانے سے پہلے بسم اﷲ نہ پڑھنے سے کھانے میں بے برکتی ہوتی ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔

ہم حضور کی بارگاہ میں حاضر تھے، کھانا پیش کیا گیا۔ شروع میں اتنی برکت ہم نے کسی کھانے میں نہیں دیکھی مگر آخر میں بے برکتی دیکھی۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اﷲ ایسا کیوں ہوا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہم سب نے کھانا کھاتے وقت بسم اﷲ پڑھی تھی، پھر ایک شخص بغیر بسم اﷲ پڑھے کھانے کو بیٹھ گیا اس کے ساتھ شیطان نے کھانا کھا لیا۔

دوسری حدیث پاک میں حضرت جابر رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے۔۔۔ فرماتے ہیں: حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اﷲ کا نام لیتا ہے اور کھانے کے وقت بھی اﷲ کا نام لیتا ہے تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے کہ اس گھر میں نہ تو تمھارے لیے رات کو رہنے کی گنجائش ہے اور نہ ہی کھانے کیلئے گنجائش ہے۔ اس لیے کہ اس گھر میں داخل ہوتے وقت بھی اﷲ کا نام لے لیا اور کھانا کھاتے وقت بھی اﷲ کا نام لے لیا۔ اس لیے نہ تو یہاں قیام کا انتظام ہے اور نہ طعام کا۔ اور اگر کسی شخص نے گھر میں داخل ہوتے وقت اﷲ کانام نہیں لیا اور ایسے ہی گھر میں داخل ہوگیا تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے کہ لو بھائی تمہارے لیے قیام کا انتظام ہو گیا، تم یہاں رات گزارسکتے ہو کیونکہ یہاں پر اﷲ کا نام نہیں لیا گیا اور جب وہ شخص کھانا کھاتے وقت بھی اﷲ کا نام نہیں لیتا تو اس وقت شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے کہ تمہارے طعام کا بھی انتظام ہوگیا۔(ابو داؤد کتاب الاطعمۃ،باب التسمیۃ علی الطعام ، حدیث نمبر3765)۔

اللہ پاک! رزق کے ضائع کرنے اور کفرانِ نعمت سے ہمیں بچائے۔ اسراف اور کنجوسی سے بچا کر درمیانی راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔ آمین

loading...

کنور عدیل چوہان

کنور عدیل چوہان گزشتہ کئی برسوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ موصوف بیشتر ٹی وی اور ریڈیو چینلز میں وائس اوور آرٹسٹ اور اینکر کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ آج کل نجی ٹی وی چینل میں سینئر اینکر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close