بلاگمعلومات

تاریخ کا ایک ایسا نکاح جس کا مہر امام علیؓ کی شہادت قرار پایا

شیئر کیجئے

ابن ملجم سنو ! مجھے امام علیؓ کی موت بطور مہر چاہیے:  قتام (کوفہ کے قبیلے قیم الرباب کی ایک عورت)

قتل امام علیؓ بن ابی طالب کا محرک:

دراصل ابن ملجم کا علی بن ابی طالب کو قتل کرنے کا محرک نہروان کی وہ خاتون بنی جس سے اسے محبت تھی، اس عورت کا باپ اور بھائی جنگ نہروان میں مارے گئے تھے۔

Imam Ali was praying at the great mosque of Kufa in Mesopotamia when he was assassinated

تاریخی پس منظر :

حضرت علی بن ابی طالب، 656ء میں شہادت  عثمانؓ کے بعد خلیفہ بنے تھے۔ تاہم انھیں معاویہ بن ابو سفیان اور دیگر افراد کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اور نتیجتاً اسلام میں پہلی خانہ جنگی ہوئی۔ اسے پہلا فتنہ بھی کہا جاتا ہے، اس کے بعد اسلامی خلافت دو حصوں میں بٹ گئی اور یوں خلافت راشدہ کے ساتھ خلافت امویہ کا آغاز ہوا۔ پہلے فتنے کا آغاز تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان بن عفان کے 656ء میں قتل سے ہوا جو علی بن ابی طالب کے چار سالہ دور خلافت تک جاری رہا۔ 657ء میں علی بن ابی طالب نے جنگ صفین میں معاویہ بن ابو سفیان کے ساتھ ثالثی کرنے پر آمادہ ہوئے، یہ نوبت علی بن ابی طالب کی فوج میں کچھ لوگوں کی بغاوت کی وجہ سے آئی تھی جنھیں بعد میں خارجی کہا جانے لگا۔انھوں نے علی بن ابی طالب کے کچھ فوجیوں کو قتل کر ڈالا، لیکن جلد ہی 658ء میں جنگ نہروان میں علی بن ابی طالب کی افواج نے انھیں کچل ڈالا۔

عبد الرحمن بن ملجم مرادی، نے مکہ میں دوسرے دو خارجی برک ابن عبد اللہ اور عمرو بن بکر تمیمی سے ملاقات کی۔ ان لوگوں نے تین بڑی اسلامی شخصیتوں علی بن ابی طالب، معاویہ بن ابی سفیان اور گورنر مصر عمرو بن عاص کو مسلمانوں کے موجودہ حالات کا ذمہ دار قرار دیا اور اپنے وقت کی “ناپسندیدہ صورت حال” کو حل کرنے کے لیے، ان تین شخصیات کو قتل کرنے اور اپنے اصحاب نہروان کے قتل کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔

ہدف اور  قتل کی تاریخ  کا چناؤ:

ابنِ ملجم نے دو اور افراد برک ابن عبد اللہ اور عمرو بن بکر التمیمی کے ساتھ مکہ میں ملاقات کی اور عمرے کے بعد طویل بحث کی۔ انہوں نے طے کیا کہ مسلمانوں کی موجودہ حالتِ زار کا سبب علی، معاویہ اور عمرو بن العاص ہیں ”جو ان کے خیال میں غلطی پر تھے۔“ انہوں نے تینوں کو قتل کرنے کی قسم اٹھائی تاکہ نہروان پر اپنے ساتھیوں کے قتل کا بدلہ لیا جا سکے۔ انہوں نے مطلوبہ تاریخ پر اتفاق کیا اور اپنے اپنے ہدف چن لیے۔

اپنی موت کے متعلق امام علیؓ کی پیشگوئی:

ایک  روایت کے مطابق  امام علیؓ نے فرمایا کے قدما میں سب سے برا شخص وہ تھا جس نے پیغمبر صالح کی اونٹنی کو ہلاک کیا تھا اور موجودہ انسانوں میں سب سے برا وہ ہوگا جو علی کو قتل کرے گا۔ قتل کی رات امام  علیؓ نے بتا دیا تھا کہ ان کا وقت آن پہنچا ہے اور بعد میں ان کی بات سچ ثابت ہوئی۔

قتام کی مہر کی شرط “قتلِ امام علی”:

ابن ملجم مصر کا ایک خارجی اور  آبائی طور پر حمیر کا رہنے والا تھا مگر اس کی رشتہ داری مراد سے بھی تھی۔ سلطنت نجد کی شاخ کندہ کے قبیلہ بنی جبالہ کے ساتھ بھی قرابت داری تھی۔ ابن ملجم کوفہ میں النہروان پر علیؓ کی فوج کے ہاتھوں خارجیوں کے سربراہ کے قتل کا  بدلہ لینے کی نیت سے داخل ہوا تھا۔ کوفہ میں اس کی ملاقات قبیلہ تیم الرباب کے دس لوگوں سے ہوئی جن میں ایک عورت “قتام” بھی شامل تھی یہ لوگ علیؓ سے اپنے رشتہ داروں کی موت کا بدلہ لینے کو اکٹھے ہوئے تھے۔ قتام کے والد اور بھائی بھی النہروان پر علیؓ کی فوج کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔ابن ملجم نے جونہی قتام کو دیکھا تو عالم دین علی الصلابی کے مطابق اپنے ہوش گنوا بیٹھا اور کوفہ آمد کا مقصد بھول گیا۔ ابن ملجم نے قتام کو شادی کی دعوت دی تو قتام نے شادی کے بدلے اپنی شرائط رکھی کہ اُسے ہزاروں سونے کی اشرفیاں، مغنیہ اور ایک غلام مرد کے علاوہ علی کی موت بطور مہر چاہیے۔ ابن ملجم نے ایک آدمی شبیب کو اپنی مدد کے لیے تیار کیا۔ اس کے ساتھ شبیب بن بجرہ، وردان ابن مجالد بھی مل گئے۔ انہوں نے بڑی چالاکی سے کوفہ مسجد کے اس داخلی دروازے پر خفیہ موچے سنبھال لیے جہاں سے علیؓ مسجد میں داخل ہوتے تھے۔

سازش پر عمل درآمد:

19 رمضان کوحضرت  علیؓ کوفہ مسجد میں فجر کی نماز کے لیے داخل ہوئے تو ابن ملجم نے زہریلی تلوار سے حضرت علیؓ کے سر پر وار کیا جس سے آپؓ زخمی ہو گئے شبیب کا وار ضائع گیا اور تلوار دروازے کی لکڑی میں جا لگی۔ ایک روایت کے مطابق  جب حضرت علیؓ کو زخم آیا تو مسجد داخل ہوئے یا نماز فجر میں حضرت علیؓ نے سورہ الانبیاء کی تلاوت کی۔شبیب وہاں سے بھاگا مگر کندہ کی مقام پر اسے اوامیر نے گھیر لیا مگر رش کی بنا پر وہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ وردان اپنے گھر پلٹا مگر اس کے اقرار جرم کے نتیجے میں اس کے رشتہ دار عبد اللہ بن نجبہ بن عبید نے قتل کر دیا۔ ابن ملجم کو ایک ہاشمی حسب نسب والے المغیرہ ابن نوفل ابن حارث نے دبوچ لیا۔

حضرت علیؓ کی وصیت:

دیکھو! میرے بدلے میں صرف میرا قاتل ہی قتل کیاجائے۔
دیکھو! اگر میں اس ضرب سے مر جاؤں، تو تم اس ایک ضرب کے بدلے میں اسے ایک ہی ضرب لگانا، اور اس شخص کے ہاتھ پیرنہ کاٹنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ: خبردار کسی کے ہاتھ پیر نہ کاٹنا۔

شہادتِ حضرت امام علیؓ:

2 دن بعد  21 رمضان 661ء کو  حضرت علیؓ کی وفات ہو گئی۔
(ان للہ وان الیہ راجعون )
حضرت حسن بن علی نے اپنے والد حضرت  علیؓ کی وصیت کے مطابق ابن ملجم کو قصاص کے طور پر قتل کر دیا۔

حوالہ جات

1: : انسائیکلوپیڈیا آف اسلام، دوسری اشاعت۔ برل آنن لائن
2:مارٹن ہنڈس۔ “معاویہ اول”۔انسائیکلوپیڈیا آف اسلام۔ 
3: مجموع الفتاوى، ابن تيمية،
4:وفيات الأعيان، ابن خلكان،
5:تاريخ بغداد، الخطيب البغدادي،
6:نہج البلاغہ
7:روبنسن۔ دا نیو کیمبرج ہسٹری آف اسلام۔ کیمبرج یونیورسٹی پریس۔
8:ماریا میسی دککے ۔ ابتدائی اسلام میں شیعہ تشخص۔ البانی: اسٹیسٹ یونیورسٹی آف نیو یارک پریس۔

loading...

کنور عدیل چوہان

کنور عدیل چوہان گزشتہ کئی برسوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ موصوف بیشتر ٹی وی اور ریڈیو چینلز میں وائس اوور آرٹسٹ اور اینکر کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ آج کل نجی ٹی وی چینل میں سینئر اینکر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close