بلاگ

سکھ گردوارہ پر بندھک کمیٹی کی تحلیل، بھارتی دباؤ یا پاکستانی امن؟

کرتارپور کوریڈور پر تکنیکی بنیادوں پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی میٹنگ کامیاب ٹھہری۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق میٹنگ میں 80 فیصد باتوں پر مکمل اتفاق کیا گیا۔ اس میٹنگ میں بھارتی صحافیوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا تاکہ وہ میٹنگ کی کوریج کرسکیں اور پنے ملک میں صحیح اور سچ پر مبنی رپورٹس شائع کرسکیں۔ ایسا اس لیے کیا گیا کہ کچھ دن پہلے ایک افواہ پھیلا دی گئی کہ پاکستان نے بھارتی سکھ یاتریوں پر ویزہ فیس لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پانچ ہزار کے بجائے صرف سات سو یاتریوں کو روزانہ کی بنیاد پر پاکستان میں داخلے کی اجازت ہوگی۔ اس افواہ نے ہندوستانی میڈیا میں ایک طوفان برپا کردیا اور پاکستانی حکومت پر تیز و تند نشتر چلنے لگے تاہم جب اس موضوع کی تحقیق کی گئی تو وہی بات ہوئی کہ کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا وہ بھی مرا ہوا ۔ اس افواہ میں اس خبر میں کوئی دم نہیں تھا۔

میٹنگ کے بعد بھارتی وفد نے ایک دفعہ پھر ڈوزئیر پاکستانی وفد کے حوالے کیا۔ ڈوزئیر میں ایک دفعہ پھر پاکستان گردوارہ پربندھک کمیٹی کے ممبران پر اعتراض اٹھا دیا گیا ۔ پاکستان کی طرف سے مکمل اعتماد دلایا گیا کہ اینٹی انڈین کسی قسم کی کاروائی یا حرکت کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ کرتارپور کوریڈور کے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا اور پہلی میٹنگ میں جب بھارتی وفد نے خالصتان تحریک کے مرکزی کردار گوپال سنگھ چاولہ ، سردار تارا سنگھ ، منندر سنگھ اور بھشن سنگھ کو دیکھا تو میٹنگ کے بعد واویلا شروع کردیا ۔ گوپال سنگھ چاولہ پاکستان گردوارہ پربندھک کمیٹی کے جنرل سکیرٹری تھے اور خالصتان تحریک اور ریفرنڈم 2020 کے مرکزی کردار ہیں ۔ بھارت کی طرف سے یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ گوپال سنگھ چاولہ حافظ سعید کے ساتھ مل کر ریفرنڈم 2020 کی تیاری میں ہے ، ریفرنڈم کے لیے پاکستان سے انٹرنیٹ سرورز استعمال کیے جاتے ہیں ، ایس ایف جے جسکا ہیڈ کوارٹرز نیویارک میں ہے اسکی ویب سائٹس پاکستان سے آپریٹ ہو رہی ہیں اور اسکو لیڈ گوپال سنگھ چاولہ کررہا ہے ، بھارت نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ گوپال سنگھ چاولہ کا دفتر بھی کرتارپور کوریڈور کے احاطہ میں تعمیر کیا جا رہا ہے تو یہ بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کو مائل کرسکتا ہے ، اپنی خالصتان کی تحریک میں شامل کر سکتا ہے جس سے بھارت کو بے پناہ نقصان ہوسکتا ہے ۔۔ انہی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت نے پاکستانی حکومت سے درخواست کی کہ گوپال سنگھ چاولہ اور اسکے باقی ساتھیوں کو کمیٹی سے باہر نکالا جائے اور انکی جگہ ایسے ممبران کمیٹی میں شامل کیے جائیں جنکا خالصتان تحریک یا ریفرنڈم 2020 سے کوئی تعلق نہ ہو، درخواست کے ساتھ ساتھ بھارت نے پاکستان پر دباؤ بھی ڈالا جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ ننکانہ صاحب کینیڈا سے آئے ایس ایف جے کے عہدے دار ممبرشپ کیم لگانا چاہتے تھے جسے پہلے تو پاکستانی حکومت نے اجازت دے دی لیکن ممبرشپ والے دن اجازت واپس لے لی گئی اور ممبرشپ کا سلسلہ روک دیا گیا۔

گوپال سنگھ چاولہ اور باقی ساتھیوں کو کمیٹی سے نکالنے پر پاکستانی حکومت نے دھیان نہ دیا جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ اپریل میں ہونے والی پاک بھارت میٹنگ کینسل کردی گئی ۔ میٹنگ کینسل کرنے کے بعد بھی یہ بھارت کی طرف سے یہ کہا گیا کہ وہ گوپال سنگھ چاولہ کے ہوتے ہوئے میٹنگ نہیں کرسکتے۔

پاکستانی حکومت نے غورو فکر کے بعد پاکستان گردوارہ پربندھک کمیٹی کو اعتماد لیے بغیر کمیٹی تحلیل کردی ۔ کمیٹی تحلیل کرنے کے لیے کوئی اجلاس نہیں بلایا گیا اور نہ ہی ممبران کو اعتماد لیا گیا ۔نئی کمیٹی میں پنجاب سے رویندر سنگھ ، اندرجیت سنگھ ،ڈاکٹر ممپال سنگھ اور امیر سنگھ شامل ہیں ۔ کے پی کے سے بابا حرمیت سنگھ ، سربت سنگھ ، ستونت سنگھ شامل ہیں ۔ سندھ سے ڈاکٹر سگرجیت سنگھ ،سردار وکاس سنگھ خالصہ شامل ہیں جبکہ بلوچستان سے ایک ممبر سردار سگر سنگھ شامل ہیں۔

پاکستانی حکومت کی طرف سے نئی بنائی جانے والی کمیٹی میں ایک نام ایسا شامل کردیا گیا جس کو لے کر بھارتی حکومتی نے ایک دفعہ پھر پاکستان پر دباؤڈالنا شروع کردیا کہ اسے کمیٹی سے باہر نکالا جائے، وہ نام ”امیر سنگھ“ ہے ، امیر سنگھ پہلی کمیٹی میں موجود بھشن سنگھ کا بھائی ہے ، بھارت نے اعتراض اٹھایا کہ اگر امیر سنگھ کو کمیٹی میں شامل کرنا تھا تو بھشن سنگھ کو نکالا کیوں ، امیر سنگھ بھشن سنگھ کا بھائی ہے ا سلیے وہ معاملات جو پہلے سے پاکستانی حکومت نے حل کرنے کی کوشش کی وہ پھر سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ بھارت نے موقف اپنایا ہے کہ کرتارپور کوریڈور کھلنا پاکستان کی طرف سے بلاشبہ اچھا اقدام ہے لیکن 1984 کی خالصتان تحریک کو جو ہوا پاکستان کی طرف سے دی گئی اس جیسا معاملہ دوبارہ نہیں چاہتے ۔ پاکستان امن پسند ملک ہے ، نہ تو سیاست دان 1984 والے ہیں اور نہ فوج اس دور کی ہے ۔ کرتارپورکوریڈور کا کھلنا خطے میں امن ، بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے ہے ۔ اس میں کوئی دو راہے موجود نہیں۔

کررتارپور کوریڈور پاکستان اور بھارت کے درمیان محبت قائم کرنے کا ایک زریعہ ہے ، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا ایک اچھا امیج اجاگر کرنا ہے ، اس چیز کو باور کرانا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے ۔ امید ہے بھارت اس دوستی کا خیر مقدم کرتے ہوئے تعلقات کو اچھے طریقے سے آگے بڑھائے گا ۔ پاکستان گردوارہ پربندھک کمیٹی کی تحلیل بھارتی دباؤ نہیں بلکہ پاکستان کا امن قائم کرنے کے خواب کی تعبیر ہے۔

loading...

رانا علی زوہیب

رانا علی زوہیب کا تعلق لاہور سے ہے۔ موصوف صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور اِن دنوں نجی نیوز چینل ’’جیو‘‘ میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close