بلاگ

کمپیوٹر اور استاد کا کیا مقابلہ

شیئر کیجئے

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دور سب سے تیز رفتار اور ترقی یافتہ دور ہے اور یہ ساری ترقی  ٹیکنالوجی کے مرہون منت ہے۔ یہاں کمپیوٹر کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ جہاں پہلے کسی معلومات کیلئے کئی کتابوں کو کھوجنا پڑتا تھا اب وہیں ایک کلک پر ساری معلومات آپ کے سامنے جن کی طرح حاضر ہو جاتی ہے اور آپ اس سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ ہر شعبے سے وابستہ لوگوں کیلئے تجربہ کار افراد کی رہنمائی صرف سرچ کے ایک کلک پر موجود ہے۔ سوشل میڈیا رابطے کا آسان اور سستا ذریعہ ہے، آپ جہاں اور جس جگہ بھی ہوں وہیں سے میلوں دور بیٹھے افراد سے نہ صرف بات کر سکتے بلکہ انہیں دیکھ بھی سکتے ہیں اور جب چاہیں اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کریں گویا کہ فاصلے سمٹ گئے ہیں اور دوریاں ختم ہو گئی ہیں۔ اب آپ کیلئے کسی بھی چیز تک رسائی حاصل کرنا قطعاً مشکل نہیں رہا ہے مگر اس سب کے باوجود  کمپیوٹر استاد کا نعم البدل نہیں ہوسکتا۔

بےشک آپ کو کمپیوٹر کی مدد سے ہر طرح کی معلومات تو ایک کلک پر میسر ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ یہ معلومات صحیح اور درست بھی ہو۔ کمپیوٹر ہمیں معلومات تو دے سکتا ہے مگر صحیح اور غلط کی تمیز نہیں سکھا سکتا جو استاد ہمیں سکھاتا ہے۔ کمپیوٹر انسان کو ذہین تو بناسکتا ہے مگر اس کی تربیت نہیں کرسکتا ہے۔ گویا کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے کمپیوٹر کتنی ہی جدت کیوں نہ اختیار کرلے مگر استاد کا مقابلہ نہیں کرسکتا کیونکہ استاد آپ کو اپنے تجربات اور مشاہدات سے سکھاتا ہے جبکہ کمپیوٹر کے پاس ایسا کوئی نظام نہیں ہے جہاں وہ اچھائی برائی کی پرکھ کرسکے۔

استاد آپ کو ہاتھ پکڑ کر چلنا سکھاتا ہے جبکہ کمپیوٹر صرف اسکرین دکھا سکتا ہے اور کمپیوٹر تو بجلی اور انٹرنیٹ کا محتاج ہے۔ استاد آپ کی زندگی میں بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ شاید ہی ماں باپ کے علاوہ کوئی ذات آپ کی ذات پر اتنا اثر رکھتی ہے جتنا استاد رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ہمیشہ اپنے استاد کی طرح بننے کی کوشش کرتے تھے، ہم ان کے  جیسا دکھنا چاہتے تھے۔ استاد کا کردار ہمیشہ سے آپ کی زندگی کا اہم جزو ہوتا ہے اور یہ کردار آپ کی ذات سے جھلکتا بھی ہے کیونکہ استاد ہمیں صرف پڑھاتے ہی نہیں ہیں بلکہ وہ ہماری ذات کی تشکیل بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی لیے تو استاد کا مقام بہت بلند ہے۔

مگر ہماری بدقسمتی  ہے کہ ٹیچنگ کے شبعے میں جتنا ظلم اب ہو رہا ہے شاید ہی پہلے کبھی ہوا ہو۔ ہمارا استاد کورس، بچوں کے بھرمار اور مہنگائی میں پس رہا ہے۔ بچہ نمبروں کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ اس دوڑ میں کوئی کچھ سکھا پا رہا ہے اور نہ ہی کوئی سیکھنا چاہتا ہے۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے ہر ملک میں استاد سے زیادہ کسی شخص کا پروٹوکول نہیں ہے اور ہمارے ملک میں استاد پستی کے انتہائی درجے پر ہے۔ اسی لیے تو یہاں کوئی اپنی مرضی سے استاد نہیں بننا چاہتا ہے۔ جس کے پاس کوئی راستہ نہیں بچتا وہ اس شعبے کی طرف آجاتا ہے اور صد افسوس کہ ہمیں ہمارے ٹیچر سے یہ سننے کو ملتا ہے کہ کبھی استاد نہ بننا بڑی ذلالت ہے۔ یہاں یہی وجہ ہے کہ یہاں ایک مفلوج قوم پیدا ہو رہی ہے کیونکہ یہ قوم استاد کی اہمیت کو سمجھ نہیں پارہی جبکہ استاد ہی وہ ذات ہے جو پوری قوم کو بناتا ہے اور اسے تشکیل کرتا ہے۔

ہمارا تو یہ حال ہے کہ میڑک تک آپ سوال سے بھاگتے ہیں اور اگر کبھی کر یں تو سب آپ کو  ایسے دیکھتے ہیں جیسے کوئی پاگل ہو اور پھر زندگی ہمیں ٹھوکریں مار کر سب سکھاتی ہے۔ جب تک ہم استاد کے وقار کو معاشی اور معاشرتی ہر لحاظ سے بلند  نہیں کرتے ہم یونہی پستے رہیں گے کیونکہ استاد ایک ایسی ہستی ہے جس کا کوئی نعمت البدل نہیں ہے۔

loading...

اسماء طارق

اسماء طارق کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ موصوفہ ماسٹرز کی طالبعلم ہیں اور سوشل ڈولپمنٹ ایشوز پر لکھتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close