اہم ترینبلاگ

ڈومور سے ”پلیز“ ڈومور تک

شیئر کیجئے

ریاست امریکا کی ڈومور پالیسی کسی بھی اتحادی ملک کیلئے کوئی نئی بات نہیں۔ سوا دو سو سال پر محیط ریاست امریکہ کسی نہ کسی شکل میں  عسکری اورسیاسی اتحادیوں کو سرمایہ دارانہ نظام کے عالمی تسلط کی جڑیں مضبوط کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ کرنے پر اکساتا رہا ہے اور جب دنیا میں مشرق سے ابھرتی ہوی کمیونسٹ قوتوں کے خوف سے  بیچین ہوا اور اپنی جنگ میں تیزی سے دور ہوتے اتحادیوں کی کمر دیکھنا شروع کی تو فوراً اپنی پالیسیوں میں عبوری طور پر تبدیلی شروع کردی۔ ان تبدیلیوں میں عنصر صرف ڈومور سے ”پلیز“ ڈومور کا تھا۔

حالیہ دنوں میں امریکی صدر نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے امریکی سفارتی اعدات  کو دہراتے ہوئے پھر سے ڈومور کا مطالبہ کیا۔ پر یہ ڈو مور ایک عبوری پالیسی کے تحت بذریعہ ایک پر تکلف خط  کیا گیا۔ ایسا کم ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک متکبر امریکی صدر نے معاشی طور پر مجبور اور لاچار ملک کے وزیراعظم کو افغانستان میں امن قائم کرنے کیلئے ڈومور کی اپیل کی ہے،  ورنہ عموماً ماضی قریب میں ٹرمپ بہادر کا حکومت پاکستان کی طرف رویہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ویسے تو امریکہ بڑے عرصہ سے پاکستان کی افواج اور حکومت کے ساتھ افغان امن قائم کرنے کیلئے سیاسی رسہ کشی کرتا رہا ہے، پر وہ سب ایک سخت گیر ٹیلیفونک بات چیت، سخت گیر بیان داغنہ، پاکستانی سیاستدانوں کو ڈانٹ ڈپٹ اور فوج پر امریکی امداد کے بند کرنے کی دھمکیوں تک محدود تھا۔ پھر ایسی کیا وجہ تھی کہ وہی پرانا معاشی بد حال ملک، جس کا روپیہ بھی تنزلی کا شکار، چین، عرب اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے قرضہ جات میں چکڑے ملک کا ایک سیاسی افق پر نسبتاً نیا وزیراعظم، امریکی صدر سے ایک ایسا خط وصول کرتا ہے جس کا عنوان ہوتا ہے”ایک معتبانہ گزارش‘‘۔

اس خط سے چند دن پہلے کی بات ہے کہ جب اسی ”معتبانہ گزارش“ والے امریکی صدر نے اس غریب ملک کے وزیراعظم کو اس کی اوقات میں رکھتے ہوئے پوری دنیا کی نظروں سے گزرنے والے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے ایک مفروضے پر مبنی ٹوئٹ داغا جس کا متن تھا ’’پاکستان ہم سے لگ بھگ پینتیس ارب ڈالرز وصول کرچکا ہے پر ہمارے لیے جس مدد کا وعدہ کیا ہے وہ پوری نہیں کرتا، پاکستان اور پاکستان جیسے جتنے بھی ممالک ہیں جو ہم سے عسکری و اقتصادی امداد لیتے ہیں، ان سب کی امداد بند‘‘۔

  پھر دنیا نے دیکھا کہ ایک دن  بعد ہی پاکستانی وزیراعظم کی طرف سے اس ٹوئٹ کا جواب دیا گیا جو اسی لہجے کی عکاسی کرتا تھا جس لہجے میں امریکی صدر نے اپنا ٹوئٹ داغا تھا۔ اسی دوران پاکستانی قوم ٹی وی پر امریکی صدر کے حالیہ بیان پر ٹی وی پر تبصرہ و تجزیہ سن رہے تھے اور  دفترخارجہ کے منہ کے ممکنہ بیان کی نوعیت کا اندازہ لگانے میں مصروف تھے۔ پاکستانیوں کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ امریکی صدر کے بیان کا جواب پاکستانی وزیراعظم غیر روایتی طریقے سے اپنی آستینیں چڑھا کر دیں گے۔ یہ وہ وقت تھا جب لوگوں نے دیکھا کہ ایک کمزور سے دفترخارجہ کے کاندھوں پر جو بوجھ تھا وہ ایک مضبوط عصاب والے وزیراعظم نے اپنے کاندھوں پر اٹھا لیا۔ چند ہی دنوں میں بدلتی امریکا کے ساتھ خارجہ پالیسی کی صورتحال کو آپ موجودہ وزیراعظم کے کردار کی روشنی میں کیے جانے والے اقدامات سے متنفر ہو کر نہیں دیکھ سکتے۔

 یقیناً پاکستان میں موجود سیاسی بیواوں، بکتے قلموں اور ناقابل صحافیوں کو تبدیلی نظر نہ آئے،  پر امریکہ شاطر کے صدر کو پاکستان میں تبدیلی کی بو آنا شروع ہو گئی ہے۔

loading...

متعلقہ مضامین

Close
Close