بلاگپاکستانمعلومات

ایسٹ انڈیا کمپنی سے کرتار پور راہداری تک

شیئر کیجئے

پاکستان حکومت کی جانب سے کرتار پور راہداری کے بعد پاکستان میں موجود سکھوں سمیت بھارتی سکھ برادری بھی اتنی ہی خوش ہے اور ملک میں موجود ہر وہ شخص خوش نظر آرہا ہے جو کہ نہ صرف امن کا داعی ہے بلکہ آج سے 70 برس قبل برصغیر کے لوگوں پر جو بٹوارا تھوپا گیا تو اُس کے خلاف ہے۔ اور یہی جذبات ہندوستان میں موجود لوگوں کہ بھی ہیں کیونکہ یہ بٹوارا چند سو خاندانوں کے دال دلیے کیلئے ہوا تھا جس کی سزا آج تک ہندوستان اور پاکستان کی عوام کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔ اُن چند سو خاندانوں میں کچھ مالدار مسلم خاندان جبکہ کچھ مالدار ہندو خاندان شامل تھے جنہوں نے اپنے اقتدار اور دولت کے عوض عوام کے جذبات کا بٹوارا کردیا۔

یہ کہانی شروع تو تب ہوئی جب کئی سو سال قبل انگریز تک یہ اطلاع پہنچی کہ برصغیر میں مغلیہ سلطنت میں لوگ انتہائی خوش رہ رہے ہیں اور بہت سے ہنروں کہ مالک ہیں ریاضی دان ہوں یا منطق کے ماہر اکثر علوم کی بنیاد برصغیر سے ہوئی۔ اِن علوم اور اعلیٰ پائے کی روایات اور کلچر کو ختم کرنے اور غلامی کی زنجیریں ہمارے پیروں میں ڈالنے ایسٹ انڈیا کمپنی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے کیسے قبضہ کیا؟ یہ سب آپ جانتے ہیں اصل محرکات جو ہندوستان اور پاکستان کہ اس بٹوارے سے جُڑتے ہیں وہ یہ ہیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کہ آنے سے قبل ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، پارسی اور دیگر مذاہب کے لوگ کسی قسم کے اختلاف کہ بغیر زندگی گزار رہے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مغلیہ سلطنت ہو یا اس کے بعد کا کئی عرصہ، ہندو مسلم تنازعہ کا ذکر تک نہ تھا۔ مگر جیسے ہی کانگریس نے انگریز کے خلاف اپنی پالیسی کا اعلان کیا اور انگریز کو نکالنے کیلئے کمر باندھی تو انگریز نے ڈیوائیڈ اینڈ رول فارمولہ آزماتے ہوئے سب سے پہلے کانگریس کو توڑا اور مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔ برِصغیر میں ایک ماحول بنا دیا گیا کہ ہندو اور مسلم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ دنگے فساد برپا کر وائے گئے، پھر مسلم اور ہندو لیڈران کو سامنے لایا گیا اور ثالث کا قردار ادا کرنے انگریز سامنے آیا۔ جب یہاں بھی کیل صحیح نہ ٹھوکا جا سکا تو پاکستان اور ہندوستان کا قیام عمل میں لانے کی باتیں گردش کرنے لگیں کیونکہ اگر ہندو مسلم علیحدہ اپنی ریاستی اور اقتدار سمیت مذہبی لڑائی میں الجھ کر علیحدہ نہ ہوتے تو انگریز کی غلامی کا سوال ہی پیدا نا ہوتا۔

ملک کا بٹورا کروا کر ہمارے دلوں میں نفرتوں کو پروان چڑھایا گیا، بٹوارے کے دوران کانگریس اور مسلم لیگ تو جذباتوں میں بہہ کر وہ کر گئے جو کرنا تھا، مگر کئی ہندو اور مسلم زمینداروں نے کئی کئی سو قلعے زمین انگریز سے اپنے نام کروا کر اس بٹوارے کو ممکن بنایا۔ بٹوارے کا مقصد انڈیا پاکستان کی زمینی اور مذہبی لڑائی تھا جس سے انگریز برطانیہ میں بیٹھا بھی ہمیں غلام رکھ سکتا تھا جو کہ آج 70 سال بعد بھی ہم انگریز کی اُسی غلامی میں جی رہے ہیں۔ ہمارا نصاب ہو یا روایات، ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ بنتے جارہے ہیں جو اپنی اصل چھوڑ رہی ہے اور نقل اپنانے کی اوقات نہیں۔ اسی کشمکش میں کڑوروں مسلمانوں اور ہندوؤں کہ جذبات کا سودا ہوا پڑا ہے جو کہ سرحد کہ اس پار اور اُس پار موجود ہیں بھارت اور پاکستان آپسی لڑائی میں 70 سال تک لگا رہا اور اس کا فائدہ سوائے انگریز کے کسی کو نا ہوا۔

آج کرتار پور راہداری کے بعد ایک امید نظر آتی ہے جو 70 سالوں سے ہوئی غلطیوں پر مرہم رکھ سکتی ہے اور دونوں طرف کے لوگوں کو جن کا بھیس زبان، کھانا، پینا، بولنا، اُٹھنا سب ایک ہے۔ اب بھیس کے ساتھ دیس بھی ایک کرنے کا وقت ہے اور اُن قوتوں کے خلاف مل کر لڑنے کا وقت ہے جنہوں نے 7 دہائیوں میں ہماری کئی نسلوں کو آپسی لڑائی میں اجاڑ دیا۔

loading...

عظیم بٹ

عظیم بٹ سینئر سیاسی تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔ موصوف پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ (لاہور) کے انفارمیشن سیکریٹری اور آل پاکستان میڈیا کاؤنسل (لاہور) کے صدر بھی ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close