ادبافسانے

ایک شام تیرے نام

شیئر کیجئے

وہ نومبر کی شام تھی۔ کچھ عجیب سی ہر طرف اداسی پھیلی ہوئی تھی جیسے کچھ ہونے والا ہو۔ اچانک ایک خبر آئی اصغر کا انتقال ہوگیا ہے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا دنیا رک سی گئی ہو۔ ساری دنیا سمٹ کے چھوٹی سی ہوگئی، ہر طرف اندھیرا سا چھا گیا تھا۔ امی تو بالکل ٹوٹ کے رہ گئی تھیں، کوئی بات چیت ہی نہیں کرتی تھیں کیونکہ اصغر ہم تین بہنوں کا اکلوتہ بھائی تھا۔ اس شام شبانہ دُوری دُوری میرے پاس آئی۔ کیا بات ہے فوزیہ تم بالکل خاموش ہوگئی ہو۔ پھر شبانہ کو میں نے ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔ اُس کا دل میرے دل سے زیادہ غمزدہ ہوگیا کیونکہ شبانہ اصغر کو بچپن سے پسند کرتی تھی، بس اصغر کی تعلیم مکمل ہونے کے فوراً بعد ہی ہم شبانہ کے گھر جاتے تاکہ شبانہ ہماری دوست کے ساتھ ساتھ ہماری بھابھی بھی بن جائے۔

اصغر کے انتقال کو چھ ماہ گزر گئے تھے، شبانہ نے ہمارے گھر آنا جانا ہی چھوڑ دیا تھا۔ کچھ تردد کر کے میں خود ہی شبانہ کے گھر چلی گئی، اس کے گھر جانے کے بعد معلوم ہوا شبانہ نے صرف ہمارے گھر ہی نہیں بلکہ وہ اب کسی کے گھر بھی نہیں جاتی اور وہ اپنا سارا وقت گھر میں ہی گزارتی ہے۔ اس واقعہ سے قبل وہ اسکول میں ٹیچنگ کرتی تھی، اس نے وہ بھی چھوڑ دی۔

میں اصغر کی بہن ہوتے ہوئے اسے یہ سب باتیں سمجھانے میں مجبور ہوگئی تھی کہ شبانہ اس طرح گھر بیٹھ جانا ٹھیک نہیں ہے، بھلا مرنے والے کے ساتھ انسان مر تھوڑی جاتا ہے۔ مگر شبانہ دل ہی دل اسے اپنا شوہر تسلیم کرتی تھی، اس کی زندگی میں سب کچھ بدل گیا تھا، نہ وہ پہلے کی طرح مسکراتی تھی اور نہ ہی رنگ برنگی کپڑے زیب تن کرتی تھی۔ بلکہ ہر وقت سیاہ سفید کپڑوں کا انتخاب کرتی جس طرح ایک بیوہ کرتی ہے کہ جیسے شوہر کے مر جانے کے بعد اس کا رنگوں سے کوئی واستہ نہ ہو۔ کچھ یہی حال شبانہ کا ہوگیا تھا۔ ایک روز میں شام کے وقت اس کے گھر گئی، وہ ایک نظم پڑھ رہی تھی۔

ایک شام تیرے نام

صبح ہی  میری ماہ تمام

بس ایک شام تیرے نام

loading...

تابندہ جبیں

تابندہ جبیں اردو ادب سے دلچسپی رکھتی ہیں۔ مختلف ویب سائٹس کیلئے تحاریر لکھتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close