بلاگ

غیر مُسلم کی اسلام گوئی کو سلام

شیئر کیجئے

سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی محبت اور شفقت دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم مسلمان نہیں ہیں بلکہ وہ مسلمان ہے۔ ہمارا مذہب ، ہمارا رب ہمیں جن تعلیمات پر عمل کرنے کی ہدایت کرتا ہے وہ ہم نہیں بلکہ غیر مسلم کر رہے ہیں۔ سانحے کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی طرف سے قوانین میں تبدیلی، مسلمانوں سے ملنا، الغرض آج جمعہ کے دن پورے نیوزی لینڈ میں سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر اذان نشر کی گئی۔ گویا پورا نیوزی لینڈ اذان کی آواز سے گونج اٹھا اور امید ہے کہ اس اذان کی آواز ان نام نہاد شرپسند عناصر کے کانوں تک بھی پہنچ چکی ہوگی جن کا نہ کوئی مذہب ہے، نہ دین ہے، نہ ایمان ہے، نہ رنگ ہے اور نہ نسل۔

نیوزی لینڈ میں گونجنے والی اذان کے الفاظ ان دہشتگردوں کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالنے سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھے جس کی وجہ سے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو بھی دھمکیاں دے کر ڈرانے کی کوشش کی گئی۔ حادثے میں شہید ہونے والے مسلمانوں کے خاندان کے افراد کے ساتھ جیسنڈا آرڈرن کی بڑھتی قربت امن کے دشمنوں کو ایک آنکھ نہ بھائی اور اس کو بھی ختم کرنے کی بات کرڈالی۔

جمعہ کی نماز سے قبل خطبہ کا آغاز ایک غیر مسلم عورت (وزیراعظم نیوزی لینڈ) نے حضور ﷺ کی حدیث مبارکہ سے کر کے اسلام اور امن دشمن طاقتوں کے منہ پر ایسا طمانچہ مارا جس کی لالگی شاید کبھی ان کے چہرے سے ختم نہیں ہو پائے گی۔ سوشل میڈیا پر اور بہت سے ایسے پلیٹ فارمز پر بہت سے دانشوروں کی دانشوریاں سننے اور پڑھنے کو ملیں جس میں جسینڈرا کو ڈرامے باز تک کہہ دیا گیا اور طرح طرح کے پروپیگنڈے میں اس کا نام شامل کیا جانے لگا لیکن حقائق اس کے برعکس ہی نظر آرہے ہیں اور مستقبل میں بھی آتے رہیں گے۔ نیوزی لینڈ کے قوم کے سانحے کے دن سے لے کر آج تک جس محبت کے ساتھ مسلمانوں کی طرف داری کی، ان کے درد کو اپنا درد سمجھ کر اس میں شمولیت اختیار کی۔ آنسوؤں کے ساتھ آنسو بہائے، بات کرنے والوں کے ساتھ بات کی، نماز پڑھنے والوں کے ساتھ نماز پڑھی، ہاتھوں کی زنجیریں بناکر حفاظتی تحویل میں لیا گیا، نیوزی لینڈ کی پولیس کے ایک ہاتھ میں ہتھیار دوسرے ہاتھ میں مسلمانوں کیلئے پھول محبت کی وہ داستان رقم کرگیا جو شاید ہی کوئی ملک آج تک کرپایا ہو۔

یہی نشانی ہے زندہ قوموں کی۔ یہی نشانی ہے ترقی یافتہ ممالک کی۔ ملک کے ایک حصے میں سانحہ ہوا پورا ملک اس دکھ میں شریک ہوگیا۔

اسلام ہمارا مذہب ہے، ہم مسلمان ہیں لیکن لگتا یوں ہے کہ آج ہم سے زیادہ اسلام ان لوگوں کو پتا ہے جنہوں نے پچھلے ایک ہفتے سے اسلام کی مسلمانوں سے بھی زیادہ اچھے طریقے حفاظت کی اور پوری دنیا میں ایک پیغام پہنچایا۔ بحثیت مسلمان جنت اور دوزخ کیلئے اعمال کیا ہوں گے وہ ہمیں ہمارے ملاں حضرات بتاتے ہیں۔ ایک غیر مسلم ملک میں غیر مسلم لوگوں کی مسلمانوں کیلئے تڑپ دیکھ کر یہ خیال آیا اور نظر آسمان کی طرف اٹھا کر خدا سے سوال کیا کہ اے خدا اس انسان کا کیا مقام ہے تیری بارگاہ ہے، کیا مقام ہے اس کا جس کی نظر میں ذات، رنگ، نسل، مذہب کی کوئی اہمیت نہیں اور اگر اہمیت ہے تو انسانیت کی۔ دنیا میں جب بھی مسلمانوں کے حقوق، تحفظ کا ذکر کیا جائے گا، تاریخ لکھی جائے گی تو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔

loading...

رانا علی زوہیب

رانا علی زوہیب کا تعلق لاہور سے ہے۔ موصوف صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور اِن دنوں نجی نیوز چینل ’’جیو‘‘ میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close