بلاگپاکستان

ہمارے زوال تعلیم کے اسباب

شیئر کیجئے

ہمارے اسلاف نے اپنی محنتِ شاقہ سے علمی ترقی کی جو راہیں ہموار کی تھیں اْن کے پیش نظر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آج ہم اپنے علمی انحطاط اور تعلیمی پستی کا رونا رونے کی بجائے اقوامِ عالم کے لیے ایک قابل تقلید مثال بن چکے ہوتے، لیکن صد افسوس کہ ہم اپنے علمی ورثے کی قدر نہ کرسکے۔ علم و حکمت کی وہ متاع گراں جس کے ہم تنہا وارث تھے، ہماری لاپرواہی اور ناعاقبت اندیشی کے باعث دوسروں کی عزت و توقیر کا سبب تو بنی مگر ہم خود ترقی معکوس کا شکار ہوتے ہوتے اس حال کو آ پہنچے ہیں کہ وہی اقوام جو کل تک ہمارے گلشنِ علم و حکمت کی خوشہ چینی پر نازاں تھیں آج ہماری حالت پر خندہ زن ہیں۔

آج ہمارے لیے یہ امر باعثِ ندامت ہے کہ ہم یورپ و امریکہ کی نت نئی ایجادات سے فیض حاصل کرنے کے خواہاں ہیں مگر خود کسی ایجاد کے اہل نہیں!

ہم آئن سٹائن، میکس پلانگ، ہائنز برگ کے نظریات پر سر تو دھنستے ہیں مگر خود کائنات کے کسی گوشے پر تحقیق کی روشنی ڈالنے سے قاصر ہیں۔ ہماری غفلت و لاپرواہی کی انتہا ہوچکی ہے اعلیٰ تعلیم و تحقیق تو ایک طرف بنیادی تعلیم میں بھی کوئی حوصلہ افزاء نتائج نہیں دکھا پارہے۔ گزشتہ چند سالوں کے مڈل، میٹرک، ایف اے اور ایف ایس سی کے نتائج دیکھ کر ہماری گردنیں مارے شرم کے خم ہوجاتی ہیں۔

اس افسوسناک صورتحال کا ذمہ دارخواہ کوئی ہو، مگر یہ بات یقینی ہے کہ ہم انتہائی سنگین نوعیت کے تعلیمی زوال سے دوچار ہیں اور اگر آئندہ چند برسوں میں اس صورتحال کی بہتری کی کوئی صورت نہ نکالی گئی تو نہ جانے مستقبل کے مورخین کن حیرت انگیز الفاظ میں ہمارے حسرتناک انجام کی منظر کشی کریں اور ہماری آئندہ نسلیں ہماری بے عقلی اور فرض ناشنانی پر کس طرح مرثیہ خواں ہوں۔

ایک طالبعلم کی حیثیت سے میں جن تجربات سے گزرا ہوں اور جہاں تک میری عقل نارسا کی پہنچ ہے مجھے اپنے زوال تعلیم کے جو بڑے اسباب نظر آئے ہیں وہ پست نصب العین، فرسودہ نظامِ تعلیم، طلباء میں ذوق تعلیم کی کمی، اور نوجوانوں کی تن آسانی ہے۔ ہمارے زوال تعلیم کا سب سے بڑا سبب طلباء اور ان کے والدین کی وہ غلط سوچ ہے جس نے حصول تعلیم جیسی دینی و قومی ذمہ داری کو محض ذاتی خواہشات اور ضروریات کی تکمیل تک محدود کردیا ہے۔ میں یہ کہنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا کہ طلباء تعلیمی اداروں میں قومی نہیں ذاتی مستقبل سنوارنے آتے ہیں۔ وہ کتابوں میں سر کھپاتے ہیں فقط بڑے آفیسر بننے کیلئے، تعلیمی سختیاں جھیلتے ہیں تو محض اس لیے کہ عملی زندگی پر آسائش ہوجائے جبکہ معاشرہ کیلئے مفید فرد بننے کی فکر کسی کو نہیں۔ ایسی صورتحال میں ذرا خود سوچیے کہ اتنا پست نصب العین کسی بڑے کارنامے کی بنیاد بن سکتا ہے؟

زوالِ تعلیم کا دوسرا سبب فرسودہ نظام تعلیم ہے جو غیر ملکی حکمرانوں کے زمانے سے خوامخواہ ہمارے پاؤں کی زنجیر اور راستے کی دیوار بنا ہوا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ نظام انگریزوں نے مسلمانوں کی غیرت و قابلیت کچلنے کیلئے بنایا تھا، انہیں اپنے دفاتر کے کل پرزے چاہئے تھے۔ افراد کی تربیت اور ان کی صلاحیتوں کی ترویج سے انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی!

ایسے ظالمانہ نظام کو انگریزوں کے ساتھ ہی رخصت کردینا چاہیے تھا مگر افسوس کہ اس تناظر میں کی گئی تمام کوششیں بے کار رہیں، جو منصوبہ بنا ناکام ہوا، بڑی بڑی سکیمیں فیل ہوگئیں اور ہر نیا تجربہ تعلیمی پستی کی جانب اگلا قدم ثابت ہوا۔ عجیب سانحہ ہے کہ علم و حکمت جس قوم کی گمشدہ میراث پائی تھی اور اس متاع گم گشتہ کی تلاش میں جسے چین تک کے سفر کا حکم ہوا تھا تعلیم کو اوقات مدرسہ میں ایک جبری مشقت تصور کرتی ہے۔ ایسی حالت میں طلباء کا امتحانوں میں فیل ہونا باعثِ تعجب نہیں ہونا چاہیے۔

ایک اور چیز جو دورِ حاضر میں ہمارے علمی زوال کا باعث بن رہی ہے، ہمارے نوجوانوں کی وہ تن آسانی ہے جس پر اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا۔

تیرے صوفے ہیں افرنگی تیرے قالین ایرانی

لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی

یہ سامنے کی بات ہے کہ ہمارے طلباء تحصیل علم میں محنت و ریاضت سے کام نہیں لیتے اور نہ ہی امتحانات کی تیاری پوری لگن اور احساسِ ذمہ داری سے کرتے ہیں۔ نہ جانے کب ہمارا طالب علم اپنی ذمہ داریوں کااحساس کرے گا اور کب وطنِ عزیز علم و آگہی کا گہوارہ بنے گا؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ ارباب حل و عقد صورتحال کی بہتری کیلئے سر جوڑ کر بیٹھیں اور مادی وسائل کی کمی، تعلیم میں طبقاتی امتیاز، غیر مربوط و بے ہنگم سلیبس، ناقص طریقہ امتحانات جیسے مسائل کا حل ڈھونڈیں جو ہمارے طلباء کو شمع علم کا پروانہ بنا دے اور پاکستان کا مستقبل تابناک ہوجائے۔

loading...

سمیع الرحمان مغل

سمیع الرحمان جامعہ پنجاب کے طالبعلم ہیں۔ موصوف آج نیوز میں بطور نیوز پروڈیوسر صحافتی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور صحافت و ادب سے گہرا شغف رکھتے ہیں ۔ سمیع الرحمان گزشتہ پانچ سال سے مختلف قومی چینلز و اخبارات میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ ملکی سیاست کا اتار چڑھاؤ، مذہبی رہنماؤں کے اختلافات و طرز سیاست ان کے بہترین مضمون ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close