صحت

پاکستان میں 35 فیصد بچے ذہنی دباؤ یا امراض کا شکار

شیئر کیجئے

کراچی: سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کے مطابق پاکستان میں 35 فیصد بچے ذہنی دباؤ یا امراض کا شکار ہیں۔ جن کی تشخیص کیلئے جہاں ماہرین کی کمی کا سامنا ہے وہی وسائل کو بھی بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس بات کا انکشاف اتھارٹی کے حکم پر صوبے کے پہلے بچوں کے ذہنی امراض کے وارڈ کے افتتاح کے موقع پر کیا۔

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ملک ہر چار میں سے ایک فرد نفسیاتی مسائل سے دوچار ہے۔ اسی حوالے سے سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال کراچی میں صوبے کا پہلا  بچوں کا نفسیاتی وارڈ قائم کردیا گیا ہے۔

  چیئرمین مینٹل ہیلتھ اتھارٹی سندھ ڈاکٹر کریم خواجہ کا کہنا ہے کہ ملک میں 35 فیصد بچے ذہنی دباؤ یا امراض کا شکار ہیں جن کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کام کرنے کی ضرورت ہے۔

این جی او کے سربراہ کہتے ہیں کہ یہ صوبے کا پہلا اسپتال ہے جہاں پیڈیاٹیرک سائکیٹری وارڈ بنایا گیا ہے۔ اس شعبے کو ٹیلی میڈیسن کے تحت بھی آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔

اسپتال کے سی ای او ڈاکٹر محمد توفیق کے مطابق اسپتال میں یومیہ تیرہ سو بچے او پی ڈی میں لائے جاتے ہیں جس میں سے دس فیصد کو ذہنی دباو کا سامنا ہوتا ہے۔

loading...

متعلقہ مضامین

Close
Close