بلاگ

خدارا بس کیجیے

شیئر کیجئے

ریاست سے کوئی نہیں لڑ سکتا۔ یہ بیان آج سے تقریباً 50 سال قبل ایک ایسے شخص نے دیا تھا جو آج تاریخ کے اُن الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے کہ گالی سے کم نہیں۔ ان الفاظ اور تکبرانہ رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن کیلئے یہ الفاظ استعمال کیے گئے اُن لوگوں نے بعدازاں ریاست ہی علیحدہ بنالی اور جس ریاستی قوت کی بات اِن صاحب نے فرمائی تھی وہ ریاست ہی دو لخت ہو گئی۔ کئی ہزار سولین اور کئی ہزار فوجی قید ہوئے ہتھیار ڈال کر ملکِ پاکستان کو دنیا بھر میں رسواء کیا گیا۔ ریاست سے لڑنے والے چونکہ چنانچہ سے بالاتر ہو کر اپنی ریاست بنانے میں نا صرف کامیاب ہوئے بلکہ اپنے وجود کو دنیا بھر میں منوایا اور ہر میدان میں آج آپ سے آگے ہیں، یہ نعرہ 70 کی دہائی میں جنرل ٹکا خان نے لگایا تھا اور بعدازاں بنگلہ دیش کا وجود عمل میں آیا تھا۔ آج ٹکا خان تو نہیں ہے مگر آصف غفور صاحب ہیں۔ آج بنگالی تو نہیں ہیں مگر پشتون ہیں۔ آج مجیب الرحمان تو نہیں ہے مگر منظور پشتین ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے جس لہجے میں وارننگ دی ہے وہ انتہائی قابل اعتراض ہے۔ آرمی کی قربانیوں کا نا کوئی نظر انداز کر رہا ہے نا کر سکتا ہے مگر جس طرح آصف غفور صاحب نے ایک سوال منظور پشتین سمیت ان لوگوں کے لئے اٹھایا جو ریاست کی جانب سے عرصہ دراز سے نظر انداز ہو رہے ہیں کہ وہ لوگ تب کہاں تھے جب آرمی کے جوانوں کی گردنیں کاٹ کر اُن کو شہید کیا جا رہا تھا؟ میں بھی ایک سوال آصف غفور صاحب کے لئے اُٹھانا چاہتا ہوں کہ جب ڈورن حملوں کی اجازت دے کر بے گناہ پشتون بچوں عورتوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا تو تب آپ کہاں تھے؟
قصہّ مختصراً یہ کہ حکومت سے لے کر اسٹیبلشمنٹ اور ترجمان پاک فوج اس بات کا بارہا ذکر کر چکے کے پی ٹی ایم کے مطالبات درست ہیں مگر لہجہ غلط ہے
چلیں مان لیا لہجہ غلط ہے مگر مطالبات کا کیا بنا؟
ُپچھلے کئی ماہ سے پاک فوج کے پی ٹی ایم سے مذاکرات ہوئے ہیں کیا اُن کے سب سے بڑے اور آسان مطالبے کو پورا کر کے اُن کا منہ بند کرنے کی کوشش کی گئی! کیا لاپتہ افراد کی لسٹ اور معلومات اُن کو دی گئی اور کیا رہائی کی کوئی صورت بتائی گئی؟
جب آپ اُن کا کوئی مطالبہ بھی نا مانیں اور مطالبات درست ہیں کی رٹ لگائے ان کے موقف کو مزید مضبوط خود بنائیں گے تو پھر آپ باغی افراد سے اچھے کی امید کیوں اور کیسے رکھ سکتے ہیں؟
لاپتہ افراد سمیت ملک کی کالعدم تنظیموں کے سرپرست کو جب آپ اپنی خصوصی ڈنڈا سفارش پر اس ملک کی کابینہ میں نا صرف شامل کریں گے بلکہ اس کو داخلہ جیسی اہم امور میں مسلط کر دیں گے جس کا نام اس ملک میں سولین وزیر اعظم اور عالمی شہرت یافتہ سیاست دان خاتون بینظیر کے قتل کے مقدمے میں ہو گا جس کا ماضی اتنا بھیانک ہے اور حال بھی ڈھکا چھپا نہیں لشکر جھنگوی سپہ صحابہ جیسی تنظیموں کے سر پر اُس کا اشرباد ہو گا اور ہزارہ برادری کی شناخت کے ساتھ قتل و غارت کا الزام اس کے سر ہو گا تو پھر آپ اس ملک میں منظور پشتین جیسے باغیوں کے علاوہ کس طرح کے نوجوانوں کو پیدا کریں گے۔
حکومتی پالیسی کا اعلان جب ایک ادارے کا ترجمان آ کر کرے اور حکومتی ساکھ کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ رسید کر کے بتائے کہ جمہوریت صرف نام نہاد ہے 2008 تک جس طرح براہ راست اقتدار ہمارے پاس تھا آج بھی براہ راست ہمارے ہی پاس ہے داخلہ خارجہ سمیت تعلیمی وزارتوں پر بھی ہمارا زور چلتا ہے۔اس سب کے باوجود نام نہاد حکومت پاکستان صرف احتساب کے کھوکھلے نعرے لگا کر انتقامی کاروائیوں کے فروغ کے لئے رکھی گئی ہے۔
اس ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جس کو جس کا تجربہ ہے وہ جگہ اُس کو نہیں دی جاتی ایک کرکٹر کو ملک سونپ دیا گیا پھر اس کرکٹر نے مارکیٹنگ کے بندے کو ملک کی وزارت خزانہ سونپ دی ایک ایسے شخص کو جس کہ منہ سے کبھی خیر نا نکلا ہو اس کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت اور ایسا شخص جو واٹس اپ پر میسج نہیں پڑھ سکتا اس کو آئی ٹی کی وزارت دے دی گئی۔
ایمان داری قائدانہ صلاحیت کے لئے کافی نہیں ہے ایک ڈاکٹر اگر صحیح کام نہیں کر رہا تو اُس کی جگہ ایک ڈاکٹر ہی لے سکتا ہے نا کہ محلے کا ایماندار مسجد کا امام صحافتی شعبے میں صحافی بے روز گار ہیں مگر صحافیوں کی جگہ فنکاروں وکیلوں ماڈلز کو نیوز چینلز کی زینت بنا کر چورن بیچآ جا رہا ہے یہ معاملات تب ہی صحیح ہو سکیں گے جب ہر سیٹ پر اُس کی اہلیت کے مطابق شخص بیٹھے گا۔

loading...

عظیم بٹ

عظیم بٹ سینئر سیاسی تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔ موصوف پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ (لاہور) کے انفارمیشن سیکریٹری اور آل پاکستان میڈیا کاؤنسل (لاہور) کے صدر بھی ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close