پاکستان

لبرلینڈ کی شہریت کی لالچ میں جعلی دستاویزات پیش کرنے پر پاکستانی شہری کو بلیک لسٹ کردیا گیا

شیئر کیجئے

لاہور: لبرلینڈ کی شہریت حاصل کرنے کیلئے جعلی دستاویزات پیش کرنے پر پاکستانی شہری میاں زاکر حسین کا نام بلیک لسٹ میں ڈال کر قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔

لاہور: راولپنڈی کے رہائشی میاں زاکر حسین نے سوشل میڈیا پر لبرلینڈ کے آفیشل پیج پر صدر لبرلینڈ سے رابطہ کیا اور لبرلینڈ میں بزنس ڈویلپ کرنے جھوٹی آفر کرائی۔ لبرلینڈ کی طرف سے جب کوئی مثبت جواب نہ ملا تو شہری نے صدر لبرلینڈ کے نام کا جعلی ای میل آئی ڈی بنا کر خود کو ای میل کرنے لگا۔ کچھ دنوں کے بعد شہری میاں زاکر حسین نے جعلی بنک ٹرانزیکشن کی سلپ بنائی اور لبرلینڈ گورئمنٹ کو بھیج دی اور کہا کہ اس نے لبرلینڈ کو فنڈز ٹرانسفر کیے جس کے عوض اسے لبرلینڈ کی شہریت دی جائے۔ فنانس منسٹری نے جب اکاؤنٹس چیک کیے تو پتا چلا کہ وہ رسیدیں جعلی ہیں اور کوئی پیسہ ٹرانسفر نہیں ہوا۔

اسٹیٹ سیکریٹری لبرلینڈ ڈاکٹر طارق عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستانی شہری کا نام بلیک لسٹ میں ڈال کر اس کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔

قونصل جنرل پاکستان فیصل بٹ کا کہنا تھا کہ شہری کے خلاف پاکستان میں بھی قانونی کاروائی جلد عمل میں لائی جائے گی۔ لبرلینڈ کی شہریت کی درخواست کیلئے کسی قسم کے فنڈز کی کوئی شرط نہیں ہے۔ شہری زاکر حسین نے جعلی دستاویزات پیش کرکے لبرلینڈ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے جس پر قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ لبرلینڈ گورئمنٹ نے نہ کبھی کسی پاکستانی سے کوئی پیسہ مانگا اور نہ کبھی مانگے گا۔ ہم پاکستانی عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے جھوٹے ایجنٹس سے دور رہیں جو لبرلینڈ کے نام پر کسی بھی قسم کی رقم کا مطالبہ کریں ۔

قونصل جنرل کا مزید کہنا تھا کہ لبرلینڈ کیلئے ڈونیشن کا طریقہ کار رضاکارانہ ہے کی پر کوئی شرط عائد نہیں ہے اور ڈونیشن ڈائریکٹ لبرلینڈ گورئمنٹ کو کر سکتے ہیں، اس میں کسی شخص کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

loading...

متعلقہ مضامین

Close
Close