بلاگ

مولانا مسعود اظہر پر پابندی ”علامتی“

شیئر کیجئے

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تعزیراتی کمیٹی نے کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشتگرد قرار دے کر پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ مسعود اظہر پر سفری پابندیاں عائد کی جائیں، اس کے اثاثہ جات کو حکومتی تحویل میں لیا جائے اور اسلحہ کی خریدو فروخت پر بھی پابندی لگائی جائے۔ پلواما حملے کے بعد مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشتگرد قرار دینے کے بھارت نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا بالکل ویسے جیسے ممبئی حملوں کے بعد جماعة الدعوة کے سربراہ حافظ سعید کو عالمی دہشتگرد قرار دینے کے لیے لگایا گیا۔

مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشتگرد قرار دینے کے بعد بھارت اور پاکستان کا رویہ کیسا ہے، عالمی ماہرین کا ردعمل کیا ہے اور اس کا پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے یہ سب جاننے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ مسعود اظہر آخر ہے کون؟ کیا وجہ ہے کہ ہندوستان میں کوئی بھی کاروائی ہوتی ہے تو نام سیدھا بنا کسی ثبوت کے جیش محمد پر لگا دیا جاتا ہے۔

مولانا مسعود اظہر کالعدم تنظیم جیش محمد کے بانی اور سربراہ ہیں۔ مسعود اظہر جولائی 1968ء میں بہاولپور میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد سرکاری اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ مسعود اظہر کو مذہبی تعلیم دلانے کیلئے بہاولپور سے کراچی بھیجا گیا جہاں وہ بنوری ٹاؤن مسجد سے منسلک ‘جامعہ العلوم اسلامیہ میں زیرتعلیم رہے۔ اسی درس گاہ میں اُن کی ملاقات حرکت المجاہدین کے امیر فضل الرحمان خلیل سے ہوئی۔ مسعود اظہر نے افغانستان میں عسکری تربیت لی اور وہاں جاری روس کے خلاف لڑائی میں بھی حصہ لیا۔ لیکن افغانستان سے روسی افواج کے انخلا کے بعد مسعود اظہر مقبوضہ کشمیر چلے گئے۔ یہ وہ وقت تھا جب مقبوضہ کشمیر کا محاذ خاصا گرم تھا۔

1994ء میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے اننت ناگ میں ایک چھاپے کے دوران بھارتی قابض فورسز نے مسعود اظہر کو حراست میں لے لیا۔ مسعود اظہر کے ساتھیوں نے پہلے سرینگر میں ایک یورپی سیاح کو اغوا کیا اور اس کی رہائی کے عوض مسعود اظہر کو رہا کرنے کی شرط رکھی۔مسعود اظہر کی حراست کے دس ماہ بعد بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں کچھ سیاحوں کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا اور مغوی سیاحوں کی رہائی کے بدلے ایک بار پھر مسعود اظہر کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ان دونوں کوششوں کے ناکام ہونے کے بعد دسمبر 1999ء میں مسعود اظہر کے ساتھی ایک بھارتی مسافر طیارے کو اغوا کر کے افغانستان کے شہر قندھار لے گئے اور کئی دن کی بات چیت کے بعد جہاز اور اس میں سوار مسافروں کے بدلے مسعود اظہر کو رہا کرانے میں کامیاب ہو گئے۔

اُس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی۔ طالبان کے ساتھ بہتر تعلقات ہونے کے سبب چند دن قندھار میں قیام کرنے کے بعد مسعود اظہر پاکستان آ گئے۔ یہیں ان کے دیرینہ دوست فضل الرحمان خلیل اور اُن کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور انھوں نے اپنی نئی جماعت جیش محمد بنانے کا اعلان کیا۔ قیام کی ابتدا میں اُن کی جماعت کی سرگرمیاں زیادہ تر افغانستان میں تھیں۔ لیکن 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد امریکا نے جب افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ شروع کی تو مسعود اظہر بہاولپور منتقل ہوگئے۔ اپنے آبائی شہر بہاولپور کو انہوں نے اپنی تنظیم جیش محمد کا مرکز بھی بنایا لیکن ساتھ ہی تنظیمی دفاتر ملک کے مختلف شہروں میں بھی قائم کیے۔یہ تھا تعارف مسعود اظہر کا جو بعض اخباروں میں بھی رپورٹ کیا گیا ۔ پاکستان کے لیڈنگ اخبار جنگ نے اس تعارف کو اپنی اخبار کی زینت تو نہ بنایا البتہ اپنی ویب سائٹ پر شائع کرکے قارئین کی مشکل ضرور آسان کی جن میں ایک میں بھی شامل ہوں۔

پلواما حملے کے بعد امریکہ ، بھارت ، برطانیہ اور فرانس نے اقوام متحدہ پر مسعود اظہر پر سفری پابندیاں لگانے اور اسکی جائیداد ضبط کرنے پر زور دیا لیکن چائنہ کی مخالفت سامنے آگئی ،2016 اور 2017 میں بھی چین نے مسعود اظہر پر عالمی پابندیاں لگانے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا تھا ۔ مسعود اظہر کو دہشتگرد قرار دینے کی چار کوششیں چین کی وجہ سے ناکام ہوئیں۔

مسعود اظہر پر لگائی گئی پابندیاں اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم رکھتا ہے ، دوسری جانب اقوام متحدہ کی طرف سے مسعود اظہر کو دہشتگرد قرار دینا بے معنی ہے جسکی حقیقت میں کوئی اہمیت نہیں ، مسعود اظہر کو دہشتگرد قرار دے کر اسکے سفر کرنے پر پابندی تو لگ سکتی ہے ، اسکے اثاثے منجمند کیے جا سکتے ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ وہ بہت بیمار ہے ، وہ کچھ کرنے کے قابل ہے ہی نہیں ، یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مسعود اظہر کے پاس جیش محمد تنظیم کا کتنا اختیار ہے ؟ ، ماضی میں حافظ سعید کو بھی اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی جانب سے دہشتگرد قرار دیا گیا لیکن کیا ہوا ؟ پچھلے دس سالوں سے حافظ سعید اپنی تنظیم بھی چلا رہا ہے اور وہ کام جو کرنا چاہتا ہے کر رہا ہے ۔ مسعود اظہر پر لگائی گئی پابندیوں سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی بات کی جائے تو اس میں کسی قسم کا کوئی بدلاؤ نہیں آئے گا کیونکہ امریکہ جانتا ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف بڑی جنگ لڑی اور بے شمار قربانیاں دیں ، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کے اس فیصلے کے بعد پاکستان کس حد تک امریکہ سے ناراض ہوگا تو ایسا نہیں ہوگا ، ماضی میں بھی اس طرح کے اقدامات کیے گئے لیکن امن کا سفر نہیں رکا ، بہت دفعہ پاکستان نے امریکہ کو دھمکی دی کہ وہ افغان امن کے عمل سے پیچھے ہٹ جائے گا لیکن یہ محض دھمکیوں کی حد تک محدود رہا۔

اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چین جوکہ چار دفعہ مسعود اظہر کو دہشتگرد قرار دینے کے درمیان رکاوٹ بنا رہا اچانک سے اس بات کو ماننے کے لیے راضی ہوگیا اس سے پاک چین دوستی پر کیسا اثر پڑیگا ؟ مسعود اظہر پاکستانی پراپرٹی ہے اور ریاست جب تک عناصر کے خلاف خود کاروائی کا فیصلہ نہیں کرتی تب تک بیرونی دباؤ جتنا مرضی ہو اسکو نظر انداز کردیا جاتا ہے ، چین نے ایک حد تک پاکستان کے موقف کی تائید کی ، ظاہر سی بات ہے چین کے بھارت کے ساتھ بھی تعلقات ویسے ہیں جیسے پاکستان سے ہیں ، چین کی تجارت کا بڑا حصہ بھارت سے منسلک ہے اس لیے صرف پاکستان کی حد تک محدود رہ کر چین کے لیے بھی خطے میں دشمنی مول لینا کسی بڑے نقصان سے کم نہیں اس لیے چین نے پاکستان کو بھی اس بات پر راضی کیا کہ ایک موقع پھر سے مل رہا ہے خطے میں امن کی بحالی کے لیے اور میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کا اقدام نہ صرف خطے میں امن کی طرف بڑا قدم ہے بلکہ پوری دنیا میں اسکو سراہا جا رہا ہے اور سراہا جائے گا ۔ لیکن آخر پر بات پھر وہی ہے کہ جیسے حافظ سعید کو عالمی دہشتگرد قرار دے کر امریکہ اور بھارت پاکستان کو اپنی مٹھی میں نہیں کرسکے بالکل ویسے ہی مسعود اظہر پر پابندیاں کوئی بڑی بات نہیں ، جب تک سر پر” سائیں “کا ہاتھ ہو ، کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ مولانا مسعود اظہر پر پابندی نے بھارت کو خوشیاں منانے کا تھوڑا سا موقع عطا کردیا ، لیکن خوشیاں دائمی ہیں۔۔۔۔

loading...

رانا علی زوہیب

رانا علی زوہیب کا تعلق لاہور سے ہے۔ موصوف صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور اِن دنوں نجی نیوز چینل ’’جیو‘‘ میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close