بلاگمعلومات

میسا حراتی

شیئر کیجئے

"عربی میں سحری جگانے والوں کو ” میسا حراتی ” (MISAHARATI ) کہتے ہیں”

سن 2 ہجری میں صوم ( روزے ) فرض ہونے کے بعد یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ اہل مدینہ کو سحری میں جگانے کے لیے کونسا طریقہ اختیار کیا جائے۔

تاریخ کے اوراق کی گرد کو اگر جھاڑ کر دیکھا جائے تو علم ہوتا ہے کہ ایک صحابی ” سیدنا بلال بن رباح” رضی اللہ عنہ وہ پہلے شخص تھے جو روزوں کی فرضیت کے بعد مدینہ کی گلیوں میں سحری کے وقت آوازیں لگا لگا روحانیت کا سماں باندھ دیتے تھے اور لوگوں کو سحری کے لئے جگایا کرتے تھے۔

” سیدنا بلال بن رباح ” رضی اللہ عنہ کی یہ سنت مدینہ المنورہ میں زور پکڑتی گئی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور بہت سے دوسرے لوگ بھی یہ خدمت انجام دینے لگے۔ ان سحری جگانے والوں کے ساتھ اکثر بچے بھی شوق میں شامل ہو جاتے اور رمضان کی سحری ایک خوشنما فیسٹول محسوس ہونے لگتی تھی۔عربی میں سحری جگانے والوں کو ” میسا حراتی ” ( MISAHARATI ) کہتے ہیں۔

مدینہ المنوره کے بعد عرب کے دوسرے شہروں میں بھی سحری جگانے والے اس روایت کی پیروی کرنے لگے اور پھر یہ رواج پوری اسلامی دنیا میں پھیل گیا۔

” میسا حراتی ” (MISAHARATI ) یہ فریضہ فی سبیل الله انجام دیا کرتے تھے لیکن انکی خدمت سے مستفید ہونے والے مسلمان انہیں مایوس نہیں کرتے تھے اور آخری صوم ( روزے ) والے دن انھیں ہدیہ انعام یا عیدی دیتے تھے۔

اس کے علاوہ مسجدوں کے امام مسجدوں کی چھتوں یا میناروں پر لالٹین جلاکر رکھ دے تھے اور با آواز بلند لوگوں کو سحری کے وقت کی اطلاع دیتے تھے۔جہاں آواز نہیں پہنچ پاتی تھیں ، لوگ روشن لالٹین دیکھ کر اندازہ لگا لیتے تھے کہ سحری کا وقت ہو گیا ہے۔

کیا خوبصورت اور روح پرور رمضان ہوا کرتے تھے۔۔۔

loading...

کنور عدیل چوہان

کنور عدیل چوہان گزشتہ کئی برسوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ موصوف بیشتر ٹی وی اور ریڈیو چینلز میں وائس اوور آرٹسٹ اور اینکر کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ آج کل نجی ٹی وی چینل میں سینئر اینکر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close