صحتمقبول ترین

نمک کا زیادہ استعمال جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے

نمک ایسی چیز ہے جس کے بغیر کسی کھانے کو ذائقے دار نہیں بنا جاسکتا ہے اور بیشتر افراد کھانوں میں اس کی زیادہ مقدار چھڑکنا پسند کرتے ہیں۔ مگر یہ عادت آپ کیلئے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق بہت زیادہ نمک کھانا دنیا بھر میں لاکھوں اموات کا باعث بنتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ نمک کھانادل اور گردوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق نمک کی زیادہ برقرار کھانے کے نتیجے میں گردے جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنے کے لیے زیادہ کام کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان پر بوجھ بڑھ جاتا ہے جبکہ یہ عادت گردے کے اس حصے کو بھی نقصان پہنچاتی ہے جو کچرے کو فلٹر کرتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ زیادہ نمک کھانے سے 45.4 فیصد اموات امراض قلب، فالج اور ذیابیطس کے باعث ہوتی ہیں۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ زیادہ نمک کھانا ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھاتا ہے- جو کہ امراض قلب اور فالج کا مرکزی عنصر ہے۔

اسی طرح نمکین غذاؤں کا شوق ذیابیطس کا خطرہ دوگنا تک بڑھا دیتا ہے خاص طور پر ان افراد میں یہ امکان چار گنا زیادہ ہوتا ہے جو جینیاتی طور پر اس مرض کے لیے آسان شکار ثابت ہوتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق دن بھر میں صرف آدھا چمچ اضافی نمک کھانا ذیابیطس تائپ ٹو کا خطرہ 65 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ہوئے۔

متعلقہ مضامین

Close
Close