بلاگپاکستان

نیا پاکستان اور جمہوری آمریت

شیئر کیجئے

نیا پاکستان اور جمہوری آمریت کی کہانی نئی  نہیں ہے۔ 1977ء سے شروع ہونے والا نفاذ نظامِ مصطفیٰ ﷺ کا مطالبہ آج  2018ء میں تقویت اختیار کرچکا ہے۔ چشمِ فلک نے یہ نظارہ ماضی میں بھی دیکھا کہ نظامِ مصطفیٰ ﷺ کا نام لینا جرم بن گیا تھا۔ امام شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا عبدالستارخان نیازی رحمۃ اللہ علیہ سمیت اکابرینِ اہلسنت کو گرفتار کر کے ظلم و بربریت کی تاریخ رقم کی گئی تھی۔ صفِ اول کی قیادت جیلوں میں چلی گئی۔ بکتر بند گاڑیوں کے آگے لیٹ کر اور گولوں کے دہانوں کے سامنے سینے کھول دیئے گئے تھے۔

 علماء پر تشدد، مساجد کی حرمت کی پامالی، مزاراتِ اولیاء کی بے ادبی، دینی مدارس کے طلباء پر گھیرا تنگ، ان تمام باتوں کو تاریخ نے کل بھی فراموش نہیں کیا تھا۔ مولانا نورانی کو جب جیکب آباد ریسٹ ہاؤس سے گڑھی خیرو لایا جارہا تھا تو ایک صحافی نے اُن کے احساسات کے متعلق دریافت کیا۔ امام شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ نے جواب دیا:

” اگر نظامِ مصطفیﷺ کے نفاذ اور پاکستان کی بقاء کیلئے میرے جسم کی بوٹی بوٹی کر کے جانوروں کے سامنے ڈال دی جائے تو بھی میرے لیے قابلِ فخر ہوگا۔

اس قسم کے مظالم سے ہمارے ایمان کو متزلزل نہیں کیا جاسکتا۔”

 اور آج بھی راہِ عزیمت کے راہی، محراب و منبر کی عظمتوں کے امین کلمہ حق بلند کیے ہوئے ہیں۔

حالیہ دنوں میں جو رویہ حکومت کی جانب سے اسلامیانِ پاکستان کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے، اُس پر ملتِ اسلامیہ خون کے آنسو رورہی ہے۔

آج بھی نیا پاکستان ہے اور جمہوری آمریت ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ  وزیر اعظم عمران خان معروف پارلیمانی اور جمہوری طریقے کو چھوڑ کر مسٹر بھٹو کی طرح آمرانہ اور فردِ واحد کے وسیع اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے نظامِ مصطفیٰ ﷺ کے نام لیواؤں پر بدترین ظلم و تشدد کی تاریخ دہرا رہے ہیں۔

پرائم منسٹر عمران خان میں جمہوری ثقافت اور مزاج کا فقدان ہے کیونکہ اختلافِ رائے اور مخالفت کی تنقید برداشت کرنا جمہوریت کا خاصہ ہے اور یہ چیز پرائم منسٹر مسٹر عمران خان میں نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایک جانب تو پرائم منسٹر عمران خان اہلِ اسلام پر ریاستی مظالم کا بازار گرم کررہے ہیں اور دوسری جانب اپوزیشن کا مشترکہ پلیٹ فارم بھی غیر مؤثر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

loading...

متعلقہ مضامین

Close
Close