پاکستانصحت

پاکستان صحت پر جی ڈی پی کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ خرچ کرتا ہے

شیئر کیجئے

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ سعودی عرب میں قید پاکستانی رمضان المبارک تک آزاد ہوجائیں گے۔ وزیر پارلیمانی امور کہتے ہیں کہ مختلف ممالک میں قید باہتر فیصد پاکستانی سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ وزارت قومی صحت نے اعتراف کیا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے برعکس پاکستان صحت کے شعبے پر انتہائی کم خرچ کرتا ہے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی صدارت میں ہوا۔ وقفہ سوالات کے دوران تحریری اور زبانی جوابات دیتے ہوئے وزارت قومی صحت نے ایوان کو بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق جی ڈی پی کا چار فیصد خرچ ہونا چاہیئے مگر وہ ایک فیصد سے بھی کم0.91فیصد ہورہا ہے۔ ادویات کی قیمتیں بڑھنے کی وجوہات بارے ایوان کو بتایا گیا ہے۔ جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زیادہ اضافے کی اجازت کبھی نہیں ہوتی تھی جو شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں ختم کردی گئی۔ اسی طرح ڈالر کے بڑھنے سے 26فیصد قیمتیں بڑھیں اس کے باوجود سابق وزیر صحت کو ہٹایا گیا اور اب اس معاملے کی تحقیقات آڈیٹر جنرل کررہا ہے۔

توجہ دلاؤ نوٹس میں پمز میں نیورو سینٹر کے فنڈز روکنے کی وجوہات پر پارلیمانی سیکریٹری صحت ڈاکٹر نوشین حامد نےبتایا کہ اس مرض میں مبتلا مریض آبادی کا دو فیصد ہیں۔ یہ سینٹر بھی بنائیں گے مگر پہلے بنیادی سہولیات اسپتالوں میں فراہم کرنے کی کوشش ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے ارکان کے ضمنی سوالات پر پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ کاش آپ نے اپنے دور حکومت میں ایک بھی ایسا اسپتال بنایا ہوتا جہاں آج نوازشریف کا علاج ہوسکتا اور انہیں باہر جانے کے لئے درخواست دینے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

ملک میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے اعدادوشمار بھی قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے جن میں بتایا گیا ہے اس وقت کل تئیس ہزار سات سو ستاون افراد ایچ آئی وی کے مریض ہیں۔ ایڈز میں 18220مرد 4170 خواتین جبکہ مخنث 379 افراد مبتلا ہیں۔ 564بچے جبکہ 424بچیاں بھی ایڈز بھی مبتلا ہیں۔ ملک بھر میں 35ایڈز کے ٹریٹمنٹ سینٹرز کام کررہے ہیں۔

loading...

متعلقہ مضامین

Close
Close