پاکستان

99 کروڑ 20 لاکھ کی ٹیکس چوری: اے آر وائی نیوز کا موقف آگیا

کراچی: اے آر وائی انتظامیہ کی جانب سے ٹیکس کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل کمشنر نے ادارے کا موقف سنے بغیر ہی جلد بازی میں چھٹی کے روز آرڈر جاری کیا۔

اے آر وائی کمیونیکیشنز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل کمشنر نے جلد بازی میں چھٹی کے روز آرڈر جاری کیا۔ انہوں نے نہ تو قانونی تقاضے پورے کیے اور نہ ہی اے آر وائی کا موقف لیا۔ اے آر وائی کمیونیکیشنز نے 991 ملین روپے ٹیکس ڈیمانڈ کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اے آر وائی کے ٹیکس معاملات قانون کے عین مطابق ہیں۔ غیر قانونی ٹیکس ڈیمانڈ کے خلاف قانونی چارہ جوئی جاری ہے۔ اے آر وائی کو پاکستان کے قانونی نظام پر مکمل بھروسہ ہے۔ امید ہے کہ کیس کا فیصلہ میرٹ پر ہوگا اور حق اور سچ کی فتح ہوگی۔

اے آر وائی انتظامیہ نے ٹیکس کے حوالے سے چلنے والی خبروں کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ جھوٹی خبروں کا مقصد کیس پر اثر انداز ہونا ہے۔ وکلا کو جھوٹی خبریں چھاپنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی ہدایت کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ایف بی آر نے مبینہ ٹیکس چوری کیس میں اے آر وائی کمیونی کیشنز سے 99 کروڑ 20 لاکھ روپے طلب کیے ہیں جبکہ میڈیا ہاﺅس پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ اس نے ٹیکس چوری الزام سے بچنے کیلئے سمجھوتے کی دستاویزات میں رد و بدل کیا۔

روزنامہ جنگ کے مطابق ٹیکس چوری ایک سال کے دوران کی گئی ہے جس کے باعث اے آر وائی کو جرمانے کی رقم 5 ارب روپے سے تجاوز کرسکتی ہے۔

loading...

متعلقہ مضامین

Close
Close