پاکستان

وکیل کا لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے کے ڈرامے کا ڈراپ سین

لاہور: وکیل احمد مختار کے ہاتھوں فیروزوالا کچہری کے گیٹ پر سکیورٹی پر معمور لیڈی کانسٹیبل کو پڑنے والے جھوٹے تھپڑ کی حقیقت کیا ہے؟

وکیل احمد مختار کا کہنا ہے کہ فیروزوالا کچہری کے گیٹ پر سکیورٹی کے فرائض سرانجام دینے والی لیڈی کانسٹیبل کی دراصل کچھ دنوں سے نیت خراب تھی۔ صبح آفس آتا تو عجیب نطروں سے دیکھتی اور ہلکی سے مسکراہٹ بھی دیتی جسے میں نظرانداز کرتا رہا۔

چند دن پہلے آفس آیا تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھ سے موبائل نمبر مانگنے کا اشارہ کیا لیکن حسب معمول میں نے اگنور کردیا۔

گزشتہ روز جب میں آفس آیا تو یہ لیڈی کانسٹیبل میری گاڑی کے اگے آگئی اور مجھے کہنے لگی کہ دوستی کرو گے تو جان چھوٹے گی۔ جسکے جواب میں میں نے کہا کہ میں شادی شدہ ہوں، میں ان معاملات میں نہیں الجھنا چاہتا۔ اسی بحث میں لیڈی کانسٹیبل نے دھمکی دی کہ اگر تم نے مجھ سے دوستی نہ کی تو میں شور مچادوں گی اور تمہیں پوری کچہری میں ذلیل کروں گی۔ میں نے کہا کہ جو کرنا ہے کرلو لیکن جو تم کہہ رہی ہو ویسا نہیں ہوگا۔

لہٰذا لیڈی کانسٹیبل نے ایس ایچ او فیروزوالا رفیع اللہ نیازی اور ڈی ایس پی فیروز والا کے ساتھ مل کر پلان کیا اور مجھ پر جھوٹا پرچہ درج کرکے اپنی زاتی تسکین حاصل کی۔

آج صبح عدالت پیشی کے موقع پر جب ہتھکڑی لیڈی کانسٹیبل کو پکڑائی گئی تو اس نے جو الفاظ کہے وہ یہ تھے ’’کاش تم نے میری بات مان لی ہوتی‘‘۔

واضح رہے گزشتہ روز ہونے والے واقعے میں لیڈی کانسٹیبل نے الزام لگایا تھا کہ وکیل احمد مختار کو کار غلط پارک کرنے پر روکا کس پر وکیل نے اسے تھپڑ مارا۔

loading...

متعلقہ مضامین

Close
Close