پاکستان

ڈی پی او، ڈی ایس پی، ایس ایچ او، لیڈی کانسٹیبل کو معطل کیا جائے: شاہ نواز اسماعیل گجر

لاہور: وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل شاہ نواز اسماعیل گجر نے وکیل احمد مختار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ کہہ رہا ہوں کہ وکیل احمد مختار نے لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ نہیں مارا اور نہ اس کی آبروریزی کی ہے۔ مقامی پولیس نے ڈی پی او کی سربراہی میں نہ صرف احمد مختار بلکہ تمام وکلاء برادری کی تضحیک کی۔ مقامی پولیس نے عدالت پیشی کے موقع پر مقدمہ کی مستغیثہ کے ہاتھ میں ہتھکڑی پکڑا کر وکلاء کمیونٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ قانون کے مطابق مستغیث مقدمہ کو کبھی بھی یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ملزم کی ہتھکڑی پکڑ کر عدالت پیش کرے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی سکیورٹی فورسز سے ہو۔

انہوں نے کہا کہ ڈی پی او شیخوپورہ کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی جس نے یہ سارا ڈرامہ رچایا۔ لیڈی کانسٹیبل کو ڈھال بنایا گیا۔ عدالت پیشی پر تصویر بناکر ڈی پی او شیخوپورہ کے ذاتی اکاؤنٹ سے سوشل میڈیا پر اس کی تشہیر کی گئی جو کہ قابل قبول نہیں ہے، ان سب کا ذمہ دار ڈی پی او شیخوپورہ غازی صلاح الدین ہے۔

شاہ نواز اسماعیل نے کہا کہ آئندہ دو روز میں فیروز والا بار کے مطالبات من و عن تسلیم نہ کیے گئے تو اگلا لائحہ عمل دیں گے۔ ہم وکلاء کی عزت اور تکریم پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کریں گے اور آئی جی پنجاب اور حکومت وقت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈی پی او شیخوپورہ، ڈی ایس پی اور ایس ایچ اور فیروزوالا کو فوری طور پر معطل کر کے ان کی جگہ نئے افسران تعینات کیے جائیں اور ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں جوڈیشری کے لوگ بھی موجود ہوں جو اس سارے واقعے کی انکوائری کرے اور انکوائری رپورٹ کے بعد جو بھی قصور وار ہو اسے سخت سے سخت سزا دی جائے۔

شاہ نواز اسماعیل نے کہا کہ جس طرح پچھلے پانچ روز سے خاتون کانسٹیبل سوشل میڈیا اور نیشنل میڈیا پر وکلاء کو ٹارگٹ کیے ہوئے ہے اس کو بھی اپنے عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ خاتون کانسٹیبل سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہے۔ وکلاء کمیونٹی نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی کیلئے، آئین اور قانون کے استحقام کیلئے اور اس نظام کو بہتر سے بہتر انداز میں مثبت جانب چلانے کیلئے ایک اہم کردارادا کیا ہے۔ ہم کبھی قانون کو ہاتھ میں نہیں لیں گے۔ آئی جی پنجاب اور حکومت پاکستان ایک ایسی کمیٹی تشکیل دیں جو واقعے کی انکوائری کریں اور آئندہ ایسے معاملات کو روکنے کیلئے اقدامات کریں۔

loading...

متعلقہ مضامین

Close
Close