بلاگ

پکا مسلمان

شیئر کیجئے

اس کا نام ارشد تھا۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بڑا پکا مسلمان ہے۔ حالانکہ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ کچا اور پکا مسلمان کیا ہوتا ہے۔ خیر اس کی وجہ سے ہمارے  ابا ہمیں ہر روز بات بے بات طعنے دیتے کہ کچھ ارشد سے سیکھو۔ ایک دن ہم نے اس سے عرض کر ہی ڈالی، حضور ہمیں بھی اپنے جیسا پکا بنا دیجیے، ہمارے ابا آپ سے بہت متاثر ہیں۔ اس نے خوشدلی سے حامی بھر لی۔

اس کی لمبی سی سینے کو چھوتی داڑھی تهی جس سے عطر کی مہک آرہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے داڑھی کو عطر میں بھگویا ہو۔۔۔ خیر چھوڑیئے، ان کے پائنچے ٹخنوں سے اوپر تھے جس کی انہوں نے کوئی کیلکولیشن بتائی جو ہم بھول گئے۔

پھر ہم ظہر کی نماز کیلئے مسجد  گئے، جو کوئی چار پانچ میل دور تهی وہاں ادا کی۔ راستے میں دو مسجدیں گزریں۔ میں نے کہا دیر ہو رہی ہے یہاں ہی نماز پڑھ لیتے ہیں تو راشد نے بڑی حقارت سے جواب دیا کہ یہ دوسرے فرقے کے لوگوں نے بنائی ہیں، ہم یہاں نماز نہیں پڑھ سکتے۔ یہ سب بے ایمان لوگ ہیں اور اگر ہم نے یہاں نماز پڑھی تو ہماری نماز قبول نہیں ہوگی۔ یوں انہیں جہنم واصل کرتے ہوئے ہم مسجد پہنچے تو ہمارے لہے راشد کے دوست نے پہلے ہی پہلی صف میں جگہ رکھی ہوئی تھی۔ اگرچہ مسجد میں پچھلی صفیں بھری ہوئی تھیں۔ یوں ہم نے دیر سے آکر بھی پہلی صف میں ایمان سے لبزیر نماز پڑھی جو یقیناً قبول ہوگی راشد کے مطابق۔

آج راشد کو دکان میں کافی منافع ہوا۔ اس کا بہت سا سامان بک گیا تھا جس پر وہ بہت خوش تھا۔ اتنے میں ہمارے محلے دار امجد صاحب آئے (بڑے اچھے مزاج کے آدمی ہیں)۔ خیر ان کو پیسوں کی سخت ضرورت تھی، ان کی زوجہ اسپتال میں تهیں۔ جس واسطے وہ راشد سے مدد مانگنے آئے، مگر راشد نے صاف انکار کردیا کہ آج اس کو ذرا منافع نہیں ہوا اور اس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ ہمارے پاس کچھ تھوڑے سے پیسے تھے جو ہم نے ان کو دیئے جو انہوں نے تشکر کے ساتھ لیے اور جلد لوٹا دینے کا وعدہ کیا۔ ہم نے تسلی دی کہ کوئی بات نہیں۔ ان کے جانے کے بعد ہم نے اس سلوک کی وجہ راشد سے طلب کی تو اس نے کہا کہ ہم اس کی مدد ہرگز نہیں کرتے جو ہمارے پیر صاحب کو نہیں مانتا۔

خیر آج کا سبق لے کر ہم گھر کو روانہ ہوئے۔ اس نے صبح سات بجے آنے کا کہا، ابا میاں آج ہم سے بہت خوش تھے۔ صبح جب ہم پہنچے تو راشد دودھ کے کنٹینر میں پانی ڈال رہے تھے۔ ہم نے وجہ دریافت کی تو کہنے لگے دودھ صحیح رکھنے کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ پھر اللہ رسول کا نام لے کر وہ گاہکوں کو نمٹانے لگے تو ایک گاہک نے دودھ پتلا ہونے کی شکایت کی تو راشد نے ان کو بری طرح ڈانٹ دیا اور چارے میں ملاوٹ کی روداد سنا ڈالی۔ ہم نماز کیلئے جا رہے تو ہم نے راشد سے کہا کہ آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم کو آپ سے کچھ پوچھنا ہے۔ انہوں نے بڑی خوشدلی سے کہا پوچھئے پڑھا ہے  قرآن، پچپن میں قاری صاحب نے پڑھایا تھا اور ہم اپنے پیر صاحب کے خطبات باقاعدگی سے سنتے ہیں۔ خیر ہم نے سوال پوچھنے کا ارادہ طرح کردیا کیونکہ، مسجد آ گئی تھی۔

اگلے دن ہم راشد میاں کی طرح نہ جاسکے۔ والدہ کی طبیعت ناساز تھی کہ کہیں انہیں میری ضرورت نہ پڑے، اس لیے گھر ہی ٹھہرا۔ والد صاحب بھی گھر نہ تھے۔ اگلے دن جب ہم راشد کے ہاں گئے اور ان کو نہ آنے کی وجہ بتائی تو انہوں نے دریافت کیا کہ ہم نے کل نماز ادا کی۔ ہم نے خوش ہوتے ہوئے کہا کہ جی کی تهی پاس کی مسجد میں۔ یہ سنتے ہی وہ آگ بگولا ہوگئے اور کہا کہ میں نے بتایا تها کہ وہ دوسرے فرقے کے لوگوں کی مسجد ہے اور میری نماز ضائع گئی۔ ہم نے ان کو ٹھنڈا کرنے کیلئے کہا کہ راشد میاں نماز ادا کرنا ضروری ہے، کسی بھی پاک جگہ پر ادا کرلو قبول ہوجائے گی۔ یہ سنتے ہی انہوں نے ہمیں حقارت سے جانے کیلئے کہا کہ اور میں اپنی ایک غلطی کی وجہ سے پکا مسلمان بننے سے محروم رہ گیا۔

ایسے ہی راشد اور ہم جیسے کئی لوگ ہیں جو خود کو پکا مسلمان کہتے ہیں اور ہم نے اپنے ہی  کچھ اصول بنا رکھے ہیں۔ جو ہمارے عقیدے کو درست مانتے ہیں اور دوسرے لوگ جو ہمارے ان اصولوں کو نہیں مانتے ہم انہیں دائرہ ایمان سے خارج کر دیتے ہیں۔ ہم نے اپنے فرقے بنا رکھے ہیں اور حتیٰ کہ ان فرقوں کے بھی فرقے اور جو انہیں نہ مانے وہ مسلمان ہی نہیں۔ ہم نے مسلمان ہونے کیلئے صرف یہی فرقہ وارانہ اصول رکھ چھوڑے ہیں۔ باقی اخلاق آداب، حسن سلوک ان سب کو ذاتی معاملے پر چھوڑ دیا ہے۔ اس کا کوئی پرچار نہیں حالانکہ کہ یہی وہ بنیادی عقائد جو مسلمان کیلئے ضروری ہیں۔ فرقہ تو سب کا ذاتی مسئلہ ہے جو عالمی اخوت کے سامنے  اہمیت کا حامل نہیں ہوتا جس کے سامنے سب مسلمان کسی بھی فرقے سے تعلق رکھنے والے بھائی بھائی ہیں۔ مگر ہمارے ہاں تو فرقہ وارانہ فسادات قوموں نسلوں کے قاتل ہیں جو آئے دن بڑھ رہے ہیں اور انسانیت کو شرم سار کر رہے ہیں۔

عجیب بات یہ ہے کہ میں آج تک کسی اچھے مسلمان کو کافر کو بھی کافر کہتا نہیں سنا۔ وہ ان کا تذکرہ کرتے ہوئے بھی انسانیت کو مدنظر رکھتا ہے اور ہم لوگ جن کو اپنے ایمان کی خبر نہیں وہ دوسروں کا ایمان جانچتے رہتے ہیں۔ غیرمسلم چھوڑیں، اپنے مسلمان بہن بھائیوں کو نہیں بخشتے اور یہ ان کے ساتھ زیادتی ہے۔ خدارا مسلمان صرف حلیے ہی کا نام نہیں ہے، اس میں اخلاقی سماجی معاشرتی ہر طرح کے رویوں کو اسلام کے مطابق ڈالنا مسلمان ہونا ہے۔ ایک اللہ اور رسول کو ماننے والوں میں اس طرح کے تفرقات ہونا واجب نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حوصلہ دے کہ ہم اپنے ساتھ ساتھ اپنے بھائی کے عقیدے کا بھی احترام کریں اور اس سے محبت کا رویہ رکھیں تاکہ ہمارا ملک امن کا گہوارہ بن جائے۔

loading...

اسماء طارق

اسماء طارق کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ موصوفہ ماسٹرز کی طالبعلم ہیں اور سوشل ڈولپمنٹ ایشوز پر لکھتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close