بلاگ

قاتل کون

شیئر کیجئے

سب صحیح کہتے ہیں میں زمین پر بوجھ ہوں اس لیے مجھے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے، میرا مرجانا ہی بہتر ہے۔ کاغذ پر یہ سطریں بکھری پڑی تھیں، جو زمین پر علی کے ساتھ  گرا پڑا تھا، علی  کے منہ سے سفید جاگ نکل رہا تھا۔

مریم اماں سے کہتی ہیں یہ علی کہاں ہے؟ کب سے بلا رہی ہوں مجھے کوثر کی طرف جانا ہے۔ کہیں موبائل پر لگا ہوگا نمرہ سے باتیں کرنے۔ آپ اسے سمجھاتی کیوں نہیں۔ اماں کہتی ہیں، میں کیا سمجھاؤں وہ سمجھتا کب ہے میری، ویسے بھی بچپن کی منگنی ہے۔

 مریم آگےسے ہاں آپ کیوں سمجھائیں گی، وہ تو ویسے بھی آپ کا لاڈلا ہے۔ اب میں خود ہی جارہی ہوں اس نے تو سننی نہیں بات، آج کل رہتا بھی اتنا چڑچڑا ہے۔ نمرہ فون پر ایمان سے کہتی ہے، میں نے توڑ لی ہے منگنی علی سے، میں تنگ آگئی تھی اس کے پاگل پن سے، وہ نفسیاتی مریض بن چکا ہے۔ ابھی بابا اور پھوپھو لوگوں کو نہیں پتہ مگر اماں کو بتا دیا ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ میرا ساتھ دیں گی اور بابا کو منالیں گی۔ ارشاد صاحب علی کے ابا کہتے ہیں، علی کی اماں آپ کا لاڈلا کہاں ہے؟ لوگوں کی اولاد بڑھاپے میں ان کا سہارا بنتی ہے پر ایک ہماری اولاد ہے نکمی۔ تو اماں کہتی ہیں علی کمرے میں ہوگا، آپ دیکھ لیں۔

ارشاد صاحب علی کے کمرے کی طرف جاتے ہیں مگر دروازہ اندر سے بند ملتا ہے، غضے سے بہت بار کھٹکھٹاتے ہیں مگر کوئی جواب نہیں ملتا۔ آخر پریشانی کے عالم میں رقیہ بیگم سے چابی لانے کا کہتے ہیں۔ رقیہ بیگم پریشانی کے عالم میں چابی لاتی ہیں اور دروازہ کھولتی ہیں مگر اندر کا منظر دل دہلا دینے والا تھا۔ علی آخری سانسیں لے رہا تھا، ابا اماں کے پیروں سے زمین نکل جاتی ہے۔ فوراً ایمبولینس منگوائی جاتی ہے، ہر طرف ماتم کا سماں بندھ جاتا ہے۔

آخری وقت میں بھی اسے ان آوازوں سے نجات نہیں مل رہی تھی جنہوں نے اس کا جینا دوبھر کر رکھا تھا۔

اماں: علی بڑا ہو کر کیا بنے گا۔

علی: اماں میں بڑا ہو کر وزیراعظم بنوں گا۔

ابا: میرا بیٹا تو بڑا آدمی بنے گا۔

مریم: جب تمہاری نوکری لگے گی تو میں سونے کا ہار لوں گی۔

نمرہ :ہماری شادی ایسی ہوگی کہ دنیا دیکھے گی۔

کالج میں استاد: واہ علی تم نے تو کمال کردیا، تم ضرور کامیاب آدمی بنوں گے۔

نوکری کیلئے انٹرویو میں: معاف کیجئے گا آپ  کے پاس تجربہ نہیں۔

معاف کیجئے گا آپ کے پاس نوٹ نہیں۔

معاف کیجئے گا آپ کے پاس تعلق نہیں۔

معاف کیجئے گا آپ کیلئے جگہ نہیں ہے۔

ابا: بڑھاپے میں اولاد کھلاتی ہے اور یہاں والدین کو جوان اولاد کو کھلانا پڑ رہا ہے۔ 

اماں: پتا نہیں تمہیں کب نوکری ملنی، تمہاری بہن بوڑھی ہو رہی ہے۔

نمرہ: نوشین کے منگیتر کو دیکھا ہے کتنی اچھی پوسٹ پر ہے۔ روز اپنی منگیتر کیلئے نئے نئے تحائف لاتا ہے۔ تمہیں تو پتا نہیں نوکری کب ملنی ہے۔

  مریم: کچھ اور بھی کرلیا کرو انٹرویو دینے اور پلنگ توڑنے کے سوا۔

ابا: پتا نہیں نکمی اولاد ہمیں ہی ملنی تھی۔

نمرہ: مجھے اب تم  جیسے پاگل انسان سے تعلق رکھنا ہی نہیں۔

یہ آوازیں اس کا گلہ گھونٹ رہی تھیں جو آخر اس کو نکل گئی تھیں۔

ڈاکٹر: معاف کیجئے گا ہم آپ کے بیٹے کو بچا نہیں پائے۔ یہ کہانی تو یہیں رک جاتی ہے  مگر اس ماں کا حال کیا ہوگا جس کے جوان اکلوتت بیٹے نے خودکشی کرلی ہو،  اس باپ کا کیا حال ہوگا جس کے آنکھیں کسی نے چھین لی ہوں، اس بہن کا کیا حال جس کی آخری امید دم توڑ گئی ہو۔ یہ صرف علی کی کہانی نہیں ہے بلکہ ہمارے کئی نوجوانوں کی کہانی ہے جو حالات کے ہاتھوں پس رہے ہیں۔ دن بدن خودکشی کرنے والے نوجوان بڑھ رہے ہیں جس میں بڑی وجہ کرپشن کی وجہ سے نوجوانوں کو میرٹ پر نوکری نہ ملنا ہے جو انہیں ذہنی طور پر اس قدر ڈپریس اور پریشان کردیتا ہے کہ وہ پاگل پن کا شکار ہو جاتے ہیں اور نشے کے عادی بن جاتے ہیں اور خودکشی جیسی حرام موت تک کو گلے لگا لیتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ خودکشی حرام ہے مگر قتل بھی حلال نہیں ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی کرپشن ان نوجوانوں کی قاتل ہے جو آنکھوں میں خواب لیے تعلیمی اداروں سے فارغ ہوتے ہیں مگر ہمارا کرپٹ سسٹم انہیں کرپشن کی چکی میں ایسا گھماتا ہے جہاں وہ کسی قابل نہیں رہتے، یہاں تک اپنے قابل بھی نہیں۔ ہمیں اب اس کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی، ایسا نہ ہو کہ کہیں دیر ہوجائے۔ یہاں نوجوانوں کے پاس مقصد نہیں ہے، وہ نفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہیں۔ خواہشات اور توقعات سائے کی طرح ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔ نوجوان چیزوں کی طلسماتی دنیا کے حصار میں ہیں، وہ اپنے آپ سے دور ہیں۔ انہیں اچھے نمبر چاہئیں کیونکہ اماں نے کہا ہے تمہارا پھوپھو کے بیٹے کے ساتھ  مقابلہ ہے اور تم نے اول آنا ہے۔ اسے نہیں پتا  وہ کیوں پڑھ رہا ہے، اسے تو بس اول آنا ہے کیونکہ اماں نے کہا ہے۔ میڑک ہوگیا، مبارک ہو اب ڈاکٹر یا انجینئر بننا ہے وگرنہ خاندان میں ناک کٹ جائے گی۔ کورس کے علاوہ کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگانا نمبر متاثر ہوں گے۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں نہیں جانا، ٹیسٹ کی تیاری کرنی ہے۔ ڈاکٹر بننا ہے کیونکہ نانی کا خواب تھا، انجینئر بننا ہے کیونکہ پردادا نے خواب دیکھا تھا کہ ہماری نسل میں ایک انجینئر ضرور ہوگا۔ کالج میں داخلہ نہیں  ملا، دوبارا ٹیسٹ دو اور بار بار دو یہاں تک پاگل نہ ہو جاؤ۔ یہاں نہ جاؤ وہاں نہ جاؤ۔ یہ پڑھو وہ نہ پڑھو، سب یہی کر رہے مگر آخر میں نوکری کہیں نہیں ملنی ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے نوے فیصد لوگ صرف مقام و رتبے اور نوکری کیلئے پڑھ رہے ہیں، انہیں نہیں پتا وہ کیا پڑھ رہے ہیں اور کیوں، بس نمبر چاہئیں اور ڈگری، چاہے کسی بھی طریقے سے ملے اور حاصل ہو اور پھر اچھی سی نوکری۔۔۔ بس یہی ان کا مقصد ہے اور یہی زندگی۔ اسے ہی ہمارے ادارے اور والدین فروغ دے رہے ہیں اور جب انہیں یہ سب نہیں ملتا تو وہ دیوانے ہوجاتے ہیں کیونکہ اب ان کے پاس کرنے کیلئے کچھ نہیں ہوتا۔

پھر یہاں سے پریشر وہاں سے پریشر، کبھی خاندان کا کبھی دنیا کا، ایسے بچے نفسیاتی مریض نہ بنیں تو اور کیا بنیں۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہم اپنی محرومیوں کی سزا اپنے بچوں کو نہیں دے سکتے اور نہ انہیں اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھا سکتے ہیں۔ انہیں ان کا مقصد تلاش کرنے دیں اور اس کیلئے کوشش  کرنے دیں۔ آپ دیکھیے گا وہ ضرور کامیاب ہونگے اور آپ کا نام بھی روشن کریں گے اور اس کے ساتھ ہمیں قومی سطح پر بھی اپنے اداروں اور سسٹم کو ایسی کالی بھیڑوں سے بچانا ہے جو کرپشن کو فروغ دے رہی ہیں اور اس کیلئے احتساب کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہے اور انہیں بہتر کرنا ہے اور اس کیلئے میڈیا کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے اور حکومت پر زور ڈالنا ہے۔

loading...

اسماء طارق

اسماء طارق کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ موصوفہ ماسٹرز کی طالبعلم ہیں اور سوشل ڈولپمنٹ ایشوز پر لکھتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close