بلاگ

رونا ایک آرٹ ہے

شیئر کیجئے

رونا بھی ایک آرٹ ہے ،ایک فن ہے اور کچھ لوگ اس فن سے اس قدر شناسا ہوتے ہیں کہ آپ بھی ان کی مہارت کی داد دیئے بغیر رہ نہیں سکتے۔ کچھ لوگ تو روتے بھی اس قدر پرلطف طریقے سے ہیں کہ اگر آپ انہیں کبھی دیکھ لیں روتے ہوئے تو قربان جائے بغیر رہ نہ پائیں گے۔ ادا اور شگفتگی سے بھرپور رونا اور کچھ لوگ اس قدر بے ڈھنگے اور بےسرے طریقے سے روتے ہیں کہ اگر آپ ان پر پہلے قربان جا چکے ہیں تو اب پچھتا رہے ہیں۔ جی ہاں رونے کے بھی سر ہوتے ہیں، کچھ لوگ بغیر آنسو کے روتے ہیں، ان کی آواز ہی ان کا رونا ہے۔ اس کیٹیگری میں عموماً بچے اور خاصا خاص کچھ مرد اور خواتین شامل ہیں جو حالات کے مارے ہر وقت روتے رہتے ہیں اور کچھ لوگ اس قدر آنسو  بہاتے ہیں کہ آپ کو وہم ہونے لگتا ہے کہ اب سیلاب آیا،  اب آیا۔ اس کیٹیگری میں خواتین عام اور خاص دونوں لحاظ سے  شامل ہیں۔ یہ لوگ مگرمچھ کے آنسوؤں کو آئیڈیل مانتے ہیں۔ جہاں رونا آرٹ اور فن ہے وہیں ایک ہتھیار بھی ہے۔ جہاں سب ہتھیار کام دینا چھوڑ جائیں وہاں یہ ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے اور یہ ہتھیار عموماً کام دیتا ہے۔ اس ہتھیار کو استعمال کرنے والے صارفین میں بچے اور خواتین سرفہرست ہیں اور یہ سارفین اس کے استعمال سے بخوبی واقف بھی ہیں۔ جب بچے کو لگتا ہے کہ اس کی بات نہیں مانی جائے گی تو وہ رونا شروع کر دیتا ہے اور رونے کی یہ خاصیت ہے کہ یہ اپنے پیاروں کی آنکھوں میں دیکھا نہیں جاتا پھر ماں باپ کو بچے کی بات ماننی پڑتی ہے۔ اسی طرح یہ خواتین کا بھی ہتھیار ہے، وہ اس کے استعمال سے اپنی بات منوانا خوب جانتی۔ ہیں بیٹی ہو یا بہن ہو، بیوی ہو یا ماں سب اس کے استعمال سے واقف ہیں اور کچھ خواتین تو اس قدر پکی صارف ہیں کہ وہ تو بات بھی کریں تو ان کی آنکھ سے آنسو چھلکنے لگتا ہے اور کچھ تو غم ہو، ہاں خوشی روئے بغیر نہیں رہ سکتیں۔

اب تو مرد بھی  روتے ہیں۔ کبھی کہا جاتا تھا کہ مرد کو رونا زیب نہیں دیتا مگر پھر مردوں نے اس کے خلاف تحریک چلائی کہ ہمیں بھی حق دیا جائے، اس لیے اب مرد بھی دل کھول کر روتے ہیں۔ کچھ کا سارا رونا تو اوپر والا رونا ہے اور کچھ  ہوتے ہی نازک مزاج  ہیں ان کا اپنا رونا ہوتا ہے۔

ویسے رونا کوئی بری بات نہیں ہے اور ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مرد ہو یا عورتیں ہو یا بچے ہوں یہ ہر ایک کا بنیادی حق مگر یہ رونا اس قدر رونا نہ ہو کہ لوگ تنگ آ جائے۔ اسی طرح رونا رونے والوں میں بھی فرق ہوتا ہے۔ آپ نے کسی حسینہ کو روتے ہوئے کبھی دیکھا ہو تو معلوم ہوگا کہ اس کے رونے میں بھی ادا ہے، بانگ پن ہے۔ اسی طرح رونا بھی آپ کے گھر گھرانے اور طور طریقوں کا  پتا بتاتا ہے اور آپ کو ایک تہذیب یافتہ اور غیر تہذیب یافتہ کے رونے میں فرق ملے گا۔ کچھ لوگوں کے رونے میں اس قدر انٹریکشن ہوتی ہے کہ دوسرے بھی رو پڑتے ہیں، انہیں بھی وہ درد اپنے اندر  محسوس ہوتا ہے، اس فن میں مہارت رکھنے والے اداکار اور بیویاں ہیں۔ اسی طرح رونا رسم بھی ہے، جیسے کسی کے مرنے پر رونا اور اس رونے میں خاندان کی کچھ خواتین نے پی ایچ ڈی کر رکھی ہوتی ہے۔ انہیں دکھ ہو یا نہ ہو مگر رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں اور رخصتی پر رونا بھی رسم ہے کہا جاتا ہے کہ دلہن اس لیے روتی ہے کہ آگے دلہا کو رلانا ہوتا ہے۔ خیر یہ مذاق ہے وہ بچاری تو اپنے والدین، سکھیوں سے بچھڑنے پر روتی ہے مگر آج کل اسے میک اپ کی وجہ سے احتیاط بھرتنی پڑتی ہے۔

جہاں رونا فن اور ہتھیار ہے وہی رونا ایک  نعمت بھی ہے جس سے دل کے کئی بوجھ آنسوؤں میں بدل کر دھل جاتے ہیں اور انسان کو ہلکا پھلکا کردیتے ہیں۔ خدا کی یاد میں رونا تو عین نجات ہے جو خالق کے قریب کر دیتا ہے اور ہر غم سے چھٹکارا دیتا ہے۔ اپنی غلطیوں کی معافی کے خاطر رونا بھی کسی نعمت سے کم نہیں جو آپ کو پاک صاف کر دیتا ہے۔ اب تو میڈیکل سائنس بھی اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ رونا ایک نعمت سے کم نہیں۔ جہاں یہ آنکھوں کو صاف کرتا ہے وہیں ایموش کے کنٹرول میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ شکوے شکایتوں سے بھرا دل، ملال اور افسردگی سے بھرا دل اگر رولے تو اسے افاقہ مل جاتا ہے۔ اسی طرح ماہرین کے مطابق کبھی کبھی رو لینا بہت بہتر ہے بجائے اس کے کہ آپ سب کچھ اندر دل میں دباتے رہو اور یہ نقصاندہ ہے۔

اب ایک رونا ہے جو آج کل کا ہے اور ایسے رونا  تو ہر کوئی رو رہا ہے۔ ویسے سیانے کہتے تھے کہ تنہائی میں رونا چاہیے یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ اگر آپ کو رونا آرہا تو رو لیں بجائے اس کے کہ وہ بعد میں مسئلہ کرے۔ ہاں آج کل تو عام آدمی سے لے کر افسران تک، تاجروں سے کر سیاست دانوں تک سب رو رہے ہیں۔ کوئی حالات کو رو رہا ہے کوئی اپنے آپ کو رو رہا ہے۔ کوئی دوسروں کی حرکات و سکنات پر رو رہا ہے۔ حکومتیں اپوزیشن کو رو رہی ہیں اور اپوزیشن حکومت کو۔ عوام حالات کو اور حالات ملک کو اور اسی طرح چل سو چل یہ رونا دھونا جاری ہے۔ اور یہ سب لکھ کر مجھے بھی رونا آگیا ہے۔

loading...

اسماء طارق

اسماء طارق کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ موصوفہ ماسٹرز کی طالبعلم ہیں اور سوشل ڈولپمنٹ ایشوز پر لکھتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close