پاکستانمعلومات

سال 2018 میں ہم سے کون کون سی شخصیات جدا ہوئیں؟

شیئر کیجئے

کراچی: سال 2018 اپنے ساتھ بہت سی یادیں لیے اختتام کی جانب گامزن ہے۔ ہر سال کی طرح اس برس بھی پاکستانی شخصیات ہمارا ساتھ چھوڑ گئیں جن کا خلا کسی نہ کسی صورت محسوس ہوتا رہے گا۔

عاصمہ جہانگیر

عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ وہ سماجی کارکن اور انسانی حقوق کی علمبردار کے طور پر جانی جاتی تھیں۔ نڈر، باہمت اور بے باک خاتون عاصمہ جہانگیر کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون صدر ہونے کا اعزاز حاصل تھا، جبکہ وہ ججز بحالی تحریک میں بھی پیش پیش رہیں۔ عاصمہ جہانگیر کو 2010 میں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا جبکہ 1995 میں انہیں مارٹن انل ایوارڈ، ریمن میکسیسے ایوارڈ، 2002 میں لیو ایٹنگر ایوارڈ اور 2010 میں فور فریڈم ایوارڈ سے نوازا گیا۔

عاصمہ جہانگیر آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے مقدمے میں بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئیں اور آخری مرتبہ انہوں نے 9 فروری کو عدالت کے روبرو پیش ہوکر دلائل دیے، تاہم اس کے بعد انہیں قدرت نے مہلت نہ دی اور 11 فروری کو وہ خالق حقیقی سے جاملیں۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر اور انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر 11 فروری 2018 کو 66 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئیں۔

قاضی واجد

قاضی واجد 1943 میں لاہور میں پیدا ہوئے، انہوں نے فنی کیرئیر کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا اور 25 برس تک اس سے منسلک رہے۔ خدا کی بستی ، حوا کی بیٹی ، تنہائیاں ، پل دو پل اور تعلیم بالغاں جیسے ڈراموں سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے قاضی واجد نے متعدد ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔

Related image

انہوں نے پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی کئی نامور شخصیات کے ساتھ کام کیا جن میں معین اختر، جاوید شیخ، راحت کاظمی، قوی خان اور دیگر شامل ہیں۔اردو ادب سے بے حد لگاؤ کے باعث قاضی واجد ادبی محفلوں میں بھی اکثر شرکت کیا کرتے تھے۔ انہیں مقبول فنکاری کی وجہ سے حکومت پاکستان نے 14 اگست 1988 کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا۔رواں برس 11 فروری کو بے مثال اداکار قاضی واجد 75 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

منصور احمد

سابق ہاکی اولمپیئن منصور احمد طویل علالت کے بعد رواں برس 12 مئی کو انتقال کرگئے۔ وہ دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔ منصور احمد نے پاکستان کے لیے 338 انٹرنیشنل ہاکی میچز کھیلے۔

انہوں نے 1986 سے 2000 کے دوران اپنے کیریئر میں 3 اولمپکس اور کئی ہائی پروفائل ایونٹس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ منصور احمد ہی وہ کھلاڑی تھے۔ جنہوں نے 24 سال قبل پاکستان کو چوتھی مرتبہ ہاکی کا عالمی چیمپیئن بنایا تھا۔ وہ 1994 کے ہاکی ورلڈکپ میں پاکستان کے ہیرو تصور کیے جاتے تھے جب کہ انہیں دنیا کے نمبر ون گول کیپر کا اعزاز حاصل تھا۔

کلثوم نواز

بیگم کلثوم نواز 1950 میں ڈاکٹر محمد حفیظ کے گھر پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اسلامیہ کالج خواتین ،ایف سی کالج اور پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ اپریل 1971 میں ان کی شادی معروف صنعت کار میاں شریف کے صاحبزادے نواز شریف سے ہوئی۔ ان کے چار بچوں میں مریم، اسما، حسن اور حسین نواز شامل ہیں۔ بیگم کلثوم نواز 1999 سے 2002 تک مسلم لیگ (ن) کی صدر رہیں۔ انہوں نے 12 اکتوبر 1999 کے بعد جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف ایک سال تک تحریک بھی چلائی، انہیں تین مرتبہ خاتون اول رہنے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔

پاناما کیس میں میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی این اے 120 لاہور کی نشست سے انہوں نے اپنے شوہر کی جگہ 17 ستمبر 2017 کو ضمنی الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کرکے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں تاہم علاج کی غرض سے لندن میں رہنے کے باعث وہ حلف نہ اٹھاسکیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز 11 ستمبر 2018 کو لندن کے اسپتال میں علاج کے دوران انتقال کرگئیں۔ وہ کافی عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں۔

مولانا سمیع الحق

جمیعت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو رواں برس 2 نومبر کو راولپنڈی میں ان کے گھر پر چاقوؤں کے وار کرکے شہید کردیا گیا تھا۔ جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم اور جمیعت العلماء اسلام (سمیع الحق) کےسربراہ مولانا سمیع الحق کا تعلق دینی گھرانے سے تھا، وہ 18 دسمبر1937 کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے۔

وہ جامعہ دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے سربراہ بھی تھے۔مولانا سمیع الحق نے خود بھی دارالعلوم حقانیہ سے تعلیم حاصل کی جس کی بنیاد ان کے والد مولانا عبدالحق نے رکھی تھی۔ مولانا سمیع الحق دفاعِ پاکستان کونسل کے چئیرمین اور سینیٹ کے رکن بھی رہے۔ مولانا سمیع الحق کا شمار ملک کی مذہبی اور سیاسی شخصیات میں ہوتا تھا۔ انہوں نے مختلف مکاتب فکر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور متحدہ مجلس عمل کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔

علی اعجاز

فلم، ریڈیو اور ٹی وی کے ممتاز اداکار علی اعجاز نے 1961 میں فلم انسانیت سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا اور 106 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ وہ مزاحیہ ہیرو کے طور پر بہت مقبول ہوئے اور اداکار ننھا کے ساتھ ان کی جوڑی مقبولیت کی بلندیوں پر رہی۔ 1979 کی سپر ہٹ سماجی فلم دبئی چلو، سالا صاحب، مفت بر، دادا استاد، سوہرا تے جوائی، منجھی کتھے ڈاہواں، مسٹر افلاطون، ووہٹی دا سوال اےاور دھی رانی سمیت درجنوں اردو اور پنجابی ہٹ فلمیں ان کے کریڈٹ پر ہیں۔

فلموں کے علاوہ علی اعجاز ٹی وی اور اسٹیج پر آئے تو وہاں بھی چھاگئے۔ علی اعجاز کو 14 اگست 1993 کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا جبکہ انہوں نے نگار ایوارڈ اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سمیت دیگر کئی اعزازات بھی اپنے نام کیے۔کار علی اعجاز 18 دسمبر 2018 کو دل کا دورہ پڑنے کے باعث 77 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

علی رضا عابدی

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی 25 دسمبر 2018 کو قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہوئے۔ وہ 6 جولائی 1972 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔

علی رضا عابدی 2013 میں ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 251 سے 80 ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے جو نئی حلقہ بندیوں کے بعد این اے 244 ہو چکا ہے۔ علی رضا عابدی نے ایم کیو ایم قیادت سے اختلافات کے باعث رواں برس ستمبر میں پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

loading...

متعلقہ مضامین

Close
Close