بلاگ

سب گول مال ہے

شیئر کیجئے

کسی بھی ملک کی تباہی میں کرپشن سرفہرست ہوتی ہے۔ کرپشن اور معاشی بدحالی ایک دوسرے سے مکمل حد تک منسلک ہیں جس سے غربت پروان چڑھتی ہے اور معاشرہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے اور اگر آپ معاشرے کو خوشحال بنانا چاہتے ہو تو کرپشن کا خاتمہ لازمی شرط ہے۔ کرپشن دیمک کا کردار ادا کرتی ہے جو سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور اس وجہ سے ملک کے امن و امان کو نقصان پہنچتا ہے اور محتلف فسادات ہوتے ہیں جو ملک کی ترقی کیلئے زہر قاتل ہیں۔ کرپشن ہمارے خوابوں کانہ صرف گلہ گھونٹ رہی ہے بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔

   پاکستان  جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں ترقی کی راہ میں بہت سے چیلنجز کا سامنا رہتا ہے، وہاں کرپشن ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جہاں کرپشن میں سب اوپر سے لے کر نیچے تک انوالو ہیں، حکمرانوں سے لے کر عام آدمی تک سب کسی نہ کسی طرح کرپشن میں ملوث ہیں، چاہے یہ کرپشن کروڑوں کی ہو یا روپے کی ۔ مگر ہمارا ادارتی نظام اس کرپشن پر قابو پانے میں ناکام رہا ہے۔ کرپشن کسی صورت حکمرانوں تک محدود نہیں رہ سکتی۔ اگر حکمران کرپٹ ہو ں گے تو اس کے جراثیم عام آدمی تک منتقل ضرور ہوں گے۔ جب ایوانوں میں نااہل اور کرپٹ طبقہ ہوگا جنہیں اپنے مفاد سے زیادہ کسی چیز کی پرواہ نہ ہو وہاں ایوانوں کے باہر چور ڈاکو اور لٹیرے ہی راج کریں گے اور وہاں  انصاف اپنی مرضی سے خریدا ہی جائے گا، مگر عام آدمی کو یہ انصاف نہیں ملتا۔

تیسری مرتبہ بننے والے وزیراعظم نااہل ہوگئے اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار  نکالے گئے،  وزیر خارجہ گئے، اب وزیر اعلیٰ پنجاب پر بھی  گرفت ڈالی گئی ہے اور نجانے کتنے، جس کھاتے کو کھولو  وہاں ہی لوٹ مار مچی ہوئی ہے۔ ہاؤسنگ اسکیم ہو یا کوئی اور اسکیم، سب میں کرپشن، اتنا پیسہ لگتا نہیں جتنے کی لاگت آتی ہے۔ اب یہاں عوام کا کیا بنے، جب  افسران اور حکمران کو صرف اپنی جیب کی فکر ہو، آخر یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ اس کا بہت سادہ سا جواب ہے کہ ہمارا پورا نظام ہی کرپشن سے دوچار ہے، یہ نظام پاکستانی معاشرے میں کرپشن کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔

دیکھا جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود غذاء کی کمی کا شکار ہے، ہمارے پاس پانچ بڑے دریا بھی موجود ہیں مگر ہم آبی کمی کا شکار ہیں۔ آبی وسائل اور دیگر توانائی کے وسائل کے باوجود ہمارے ہاں توانائی کی بھی کمی ہے۔ پاکستان کی پیداوار کی شرح نمو بہت کم ہوتی چلی جارہی ہے۔ غربت میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔ قومی ادارے ذاتی مفادات کیلئے استعمال ہوتے ہیں، عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ پاکستان کے عوام کو اس دولت اور آمدنی سے محروم رکھا جاتا ہے جو ان کا حق ہے، جس کی وجہ سے عوام میں احساس محرومی، شورش اور بدامنی رونما ہوتی ہے۔ عام آدمی کیلئے زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے جہاں اسے چودہ چودہ گھنٹے کام کرنے کے باوجود مناسب منافع نہیں ملتا، مناسب سہولیات نہیں ملتیں مگر ٹیکس اور منگائی کی بھرمار ہے جس نے جینا دشوار کر رکھا ہے اور اس کے ساتھ ملک میں ایسی  تنظیمیں بھی قائم ہیں    جن کا کام ہی معاشرتی فسادات اور دہشت کو پھیلانا ہے جو مذہب کا نام لے کر اپنا کالے کرتوت پیش کر رہے ہیں اور بیرونی طاقتیں بھی ان سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ یہ سب معاشرتی توازن میں بگاڑ کے نتیجے ہیں، ایسے میں بہتری لانے کیلئے بڑ ی تگ و دو چاہیے۔

ایک طرف تو خوش آئند بات ہے کہ چیف جسٹس پانی کے مسئلے سے لے کر دوسرے تمام  مسائل پر نظرثانی کر رہے ہیں اور کرپشن کے خاتمے کیلئے بھی وہ حکومت کے ساتھ   پرعزم ہیں اور کوشش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں کہیں لوگ منظر عام پر آ رہے ہیں  اور حکومت نے بھی کرپشن کا خاتمہ اپنی پہلی ترجیح رکھا ہے۔ دوسری جانب یہ بات افسوسناک بھی ہے کہ ہمارے ادارے اس قدر کمزور ہوچکے ہیں کہ وہ ان مسائل کو ہی حل نہیں کر سکتے جن کیلئے انہیں تشکیل دیا گیا اور اس لیے چیف جسٹس کو ڈنڈے کے زور پر وہ کام کرانے پڑ رہے ہیں جو اداروں کی ذمہ داری ہے۔ نیب بھی آج کل کافی ایکٹیو دکھائی دے رہی  ہے اور بہت سے نئے کیسز بھی سامنے آرہے ہیں مگر ضروری تو یہ ہے کہ یہ کام صاف شفاف طریقے سے ہو اور سب کیلئے ہو، تاکہ تمام کالی بھیڑیں سامنے آئیں اور ان کا خاتمہ ہوسکے۔

ضروری ہے کہ حکومت اور ادارے میڈیا کے ساتھ مل کر اس ضمن اپنے کردار کو سمجھتے ہوئے مناسب اقدامات اٹھائیں جس سے کرپشن کے سدباب کو مدد ملے اور شخصی کردار بہتر ہوں۔ افراد کو بھی اس ضمن میں اہم کردار ادا کر نا ہے۔ اس کے خاتمے کیلئے جہاں حکومتی اور ادارتی سطح پر بہتری لانی ہے وہیں عام آدمی کو بھی اس لعنت سے خود کو  بچاناہے کیونکہ ہم بھی بڑے عجیب لوگ ہیں، چاہتے ہیں کہ ہمارے حکمران دیانتدار ہوں مگر خود ہیر پھیر کرنے سے بعض نہیں آتے۔ چاہتے کہ ہمارے حکمران کرپشن سے پاک ہوں اور خود ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو اور خود اپنا کام پورا نہیں کرتے ہیں۔ سسٹم کے ساتھ ساتھ بحیثیت قوم ہمیں اپنے رویوں کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے معاملات صحیح کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام کسی حکومت نے نہیں کرنا، ہم نے کرنا ہے۔ اگر ہمیں کرپشن کا صفایا کرنا ہے تو اینٹی کرپشن کی گھٹی ہم سب کو پینی ہوگی۔ ہمیں اپنے معاملات کو صاف شفاف کرنا ہوگا، جب تک ہر فرد اپنے حصے کا کردار ادا نہیں کرے گا بہتری ممکن نہیں۔

بات اتنی سی ہے کہ ہم سب ملک سے تو ہر طرح کی کرپشن اور ہیرا پھیری کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں مگر ہم خود چاہے دودھ سبزی یا سودا سلف بیچنے والے ہوں یا مشینری کا کاروبار کرنے والے، یا وکیل ڈاکٹر ہوں، ہم ہیرا پھیری سے باز نہیں آتے۔ ہمیں جہاں موقع ملتا ہے ہم اس سے فائدہ ضرور اٹهاتے ہیں۔ جب تک ہم اپنی اس عادت کو نہیں بدلتے، کرپشن کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس سلسلے میں تربیت ہو تاکہ شخصی کردار بہتر ہوں اور یہ تربیت گھر سے بہتر کہیں نہیں ہوسکتی۔

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ آمین

loading...

اسماء طارق

اسماء طارق کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ موصوفہ ماسٹرز کی طالبعلم ہیں اور سوشل ڈولپمنٹ ایشوز پر لکھتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close