پاکستان

سو دنوں میں کوئی کامیابی نہیں مل سکتی، عمران خان

شیئر کیجئے

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جو غلط کام کرے اس کو سامنے آنا چاہیے۔ سو دنوں میں کوئی کامیابی نہیں مل سکتی۔

صحافیوں کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری سمت یہ ہے کہ نچلے طبقے کیلئے نظام لایا جائے۔ صحت، تعلیم اور روزگار کیلئے وہ اقدامات کر رہے ہیں جہاں انہیں سہولیات ملیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر میرا کوئی وزیر غلط کام کرتا ہے تو میں چاہتا ہوں وہ بے نقاب ہو۔ میری خواہش ہے کہ ہماری حکومت اتنی شفاف ہو کہ پہلے ایسی حکومت نہ آئی ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں امیروں کیلئے تو سب ہے لیکن غیرب ہر جگہ رل رہے ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم نے ہیلتھ کارڈ کا اجرا کیا۔

انٹرویو میں وزیراعظم سے سوال کیا گیا کہ آپ نے اسکینڈلز اور کارکردگی کی بنیاد پر خود کسی بھی وزیر کو نہیں ہٹایا تو کیا مستقبل میں ایسا ہو گا یا نہیں؟ جس پر وزیراعظم نے کہا کہ تمام وزراء نے 100 دن کی کارکردگی رپورٹ پیش کر دی ہے جو میں اس ہفتے دیکھوں گا اور کارکردگی دیکھنے کے بعد ہو سکتا ہے کہ ہم کئی وزیروں کو تبدیل کر دیں۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی کسی حکومت کو یہ حالات نہیں ملے مگر پھر بھی شکر ہے کہ لوگ یہاں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ سرمایہ کار یہ دیکھتا ہے کہ آپ کے ملک میں ڈالر ہی نہیں، تو وہ سرمایہ کاری بھی نہیں کرتا مگر کچھ سرمایہ کار پاکستان کا پوٹنیشل دکھانے کیلئے سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

انٹرویو کے دوران ایک صحافی نے وزیراعظم سے اعظم سواتی کی غریب خاندان سے لڑائی سے متعلق سوال کیا تو وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس حوالے سے ابھی جے آئی ٹی کی رپورٹ نہیں آئی۔

جس پر وہاں موجود صحافیوں نے انہیں رپورٹ سے متعلق آگاہ کیا تو عمران خان نے کہا کہ وزارت داخلہ میرے پاس ہے، سی ڈی اے میرے ماتحت ہے، میں مداخلت کر سکتا تھا لیکن کیا میں نے ایسا کیا؟ اعظم سواتی کے معاملے پر عدالتی فیصلے پر عمل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو بچانے کیلئے کسی قسم کی مداخلت نہیں کریں گے۔ اگر اعظم سواتی کی غلطی ہوئی تو وہ خود استعفیٰ دیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو عثمان بزدار کو شکایت ملی کہ کسی نے بشریٰ بی بی کی بیٹی سے ناروا سلوک کیا ہے تو انہوں نے افسر کو بلا کر پوچھا۔ کیا صوبے کا چیف ایگزیکٹو عثمان بزدار کسی پولیس افسر کو بلاکر پوچھ نہیں سکتا؟

عمران خان نے کہا کہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں استحکام دیکھیں گے۔ اعظم سواتی کے معاملے پر جے آئی ٹی میں مداخلت نہیں کی۔ بابراعوان نے خود اپنے عہدے سےاستعفیٰ دیا، کسی کو تحفظ دینے کیلئے کوئی مداخلت نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار بہت اچھا کام کر رہے ہیں مگر مجھے تھوڑا سا اعتراض ہے کہ اگر چیف ایگزیکٹو (عثمان بزدار) سے کوئی شکایت کرے کہ کسی نے بشریٰ بی بی کی بیٹی کے ساتھ بدتمیزی کی ہے تو کیا وہ پوچھ نہیں سکتے؟

وزیراعظم نے کہا کہ چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ پنجاب کے بارے میں جو کہا انہیں دیکھنا چاہیے تھا کہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں، چیف جسٹس کی عزت کرتا ہوں لیکن ان چیزوں پر افسوس ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیداد، بینک اکاﺅنٹس اور پیسے کی معلومات کے تبادلے کیلئے 26 ممالک کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے اور جب دبئی اور سعودی عرب سے تفصیلات مانگی گئیں تو پتہ چلا کہ نواز شریف، خواجہ آصف و دیگر نے اقامے کیوں لے رکھے تھے۔

انہوں نے کہا کہ 26 ممالک میں پاکستانیوں کے بینک اکاﺅنٹس میں 11 ارب ڈالرز ہیں اور ہم یہاں آئی ایم ایف سے قرضے لے رہے ہیں۔ سوئٹزر لینڈ کے ساتھ بھی تین روز پہلے معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت گذشتہ پانچ سال کی معلومات ہمیں ملیں گی کیونکہ پانامہ کے بعد بہت سے لوگوں نے اپنے اکاﺅنٹس ختم کر دیئے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ان معاہدوں کے تحت ہم نے جب دبئی اور سعودی عرب سے ڈیٹا منگوایا تو معلوم ہوا کہ دونوں ممالک نے اقامہ ہولڈرز کی معلومات نہیں دیں کیونکہ وہ دبئی کے شہری بھی مانے جاتے ہیں۔ جس پر یہ معلوم ہوا کہ نواز شریف، خواجہ آصف و دیگر لوگوں نے اقامے کیوں لے رکھے تھے۔ انہوں نے منی لانڈرنگ کرنی تھی، پاکستان سے دبئی پیسہ بھجوایا جہاں سے لندن، سوئٹزر اور ترکی بھیجا گیا۔

عمران خان نے کہا کہ دنیا بھر میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک ایگزون موبائل کمپنی کے نمائندوں نے مجھ سے ملاقات کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ سمندر میں مشینیں لگوائیں گے کیونکہ یہاں سے اتنی گیس دریافت ہو سکتی ہے کہ ہو سکتا ہے آئندہ 50 برس تک پاکستان کو درآمدی گیس کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

انہوں نے کہا کہ کوکا کولا اور پیپسی نے بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کی ہے جبکہ چین نے پہلے قرضہ دیا تھا لیکن اب چین بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کی طرف آگیا ہے۔

انٹرویو کے دوران حامد میر نے وزیر اعظم سے سوال کیا کہ بی این پی مینگل کے سردار اختر مینگل سے آپ نے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرانے کا وعدہ کیا، اس پر کیا پیشرفت ہوئی؟ اس پر جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی ہورہی تھی اور بھارت بھی مداخلت کرتا ہے جس کی وجہ سے وہاں کے حالات تھوڑے مختلف ہیں لیکن لاپتہ افراد کے معاملے پر جنرل باجوہ نے بتایا کہ بہت سے لوگ چھوڑے جا چکے ہیں لیکن اب جو لاپتہ افراد ہیں ،وہ در اصل پاکستان میں ہیں ہی نہیں۔

عمران خان نے بتایا کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر اختر مینگل کو آرمی چیف سے ملاقات کیلئے بھی پیشکش کی تھی لیکن وہ اپنی کسی وجہ کے تحت ملاقات میں نہیں آئے تھے۔

loading...

متعلقہ مضامین

Close
Close