بلاگ

سندس فاؤنڈیشن

شیئر کیجئے

مجھے زندگی سے بےشمار شکایتیں تھیں کہ زندگی کتنی تلخ اور خراب ہے اور یہ ہمارے ساتھ ہی ایسا کیوں کرتی ہے کہ ہم سے ہی سب چھین لیتی ہے، کبھی ہمارے اپنے اور کبھی ہماری خواہشیں۔

ہمارا پروجیکٹ تھا کہ ہمیں اداروں کا وزٹ کرنا ہے اور ان کے پیچھے کی کہانی کو ڈسکور کرنا ہے تو پروفیسر صاحب ہمیں نہ جانے کہاں لے آئے تھے جہاں آنے جانے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ ہر طرح کے لوگ آ اور جا رہے تھے۔ ہم نے جو پروفیسر صاحب سے پوچھا کہ ہم یہاں کیوں آئے ہیں تو کہتے ہیں کہ تمہیں ان سے ملانے لایا ہوں زندگی جن سے ناراض ہے مگر وہ پھر بھی اسے راضی رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ میں نا سمجھی کے عالم میں ان کے ساتھ اندر چل دیتی ہوں، وہاں کچھ لوگ خون کے بیگ لیے ادھر ادھر جارہے تھے۔ کہیں بچوں کے رونے اور چلانے کی آوازیں آرہی تھیں جو انتہائی پریشان کن تھیں تو کہیں ماں باپ کے دلاسے سنائی دے رہے تھے۔ اتنے میں پروفیسر صاحب ہمیں لیے ایک وارڈ میں داخل ہوتے ہیں، جہاں قطار در قطار بیڈ تھے اور ان پر  ہر عمر کے مریض   جن کو خون لگایا جا رہا تھا۔ میں پریشان سی کمرے کے وسط میں  کھڑی رہ جاتی ہوں اور میرے چاروں طرف مریض ہی مریض۔ پروفیسر صاحب اور باقی طالبعلم مجھے یونہی چھوڑ کر ان کے پاس جاتے ہیں اور ہر ایک کا حال احوال پوچھتے ہیں جس کا وہ سب بڑی خوشدلی سے جواب دیتے ہیں پھر کچھ دیر ان کے ساتھ گزارنے کے بعد ہمیں مختلف ڈپارٹمنٹ میں  لے جایا جاتا ہے اور وہاں سب سے بات چیت کی جاتی ہے۔ مجھے ان کے کسی فعل کی سمجھ نہیں آتی کیونکہ میں اس سے ناواقف تھی۔ پھر جیسے ہی وزٹ کے بعد ہمیں ایک کمرے میں بیٹھایا جاتا ہے تو بیٹھتے ہی میں ان سے سوال شروع کردیتی ہوں ہم یہاں کیوں آئے ہیں کہ اور وہ لوگ کون تھے اور کیا کررہے تھے۔

 عمران خان (سندس فاونڈیشن کے چیف ایگزیکٹو،  جنہوں نے ہمیں سندس کا وزٹ کروایا) پیچھے لگے سندس فاونڈیشن کے بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں یہاں زندگی دی جاتی ہے انہیں جو زندگی میں ترستے ہیں زندگی کیلئے اور بتاتے ہیں کہ سندس فاونڈیشن کا آغاز  1998ء کو تھیلیسیمیا کی ایک مریضہ سندس کے نام سے گوجرانوالہ میں  یاسین خان اور حاجی سرفراز (جن کی بیٹی سندس تھی) کی کاوشوں سے ہوا، یہ ادارہ اکیس  سال سے تھیلیسیمیا، ہیموفیلیا اور بلڈ کینسر میں مبتلا مریض بچوں کی امداد  کررہا ہے۔ یہ ادارہ پنجاب کے 5 شہروں جیسا کہ لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور فیصل آباد  سے خون کے عطیات اکٹھا کرنے والا پنجاب کا سب سے بڑا نیٹورک بن گیا ہے اور اب یہ خون دور دور کے علاقوں سے اکٹھا کیا جاتا ہے جیسا کہ آزاد کشمیر، ڈیرہ غازی خان وغیرہ سے اور اسے با حفاظت سندس پہنچایا جاتا ہے جہاں مریضوں کو مہیا کیے جاتے ہیں۔

سندس فاونڈیشن گجرات کی بنیاد 2008ء میں عمران خان کی انتھک کوششوں سے رکھی گئی جنہیں بسوں کے دھکے کھاتی گوجرانوالہ جاتی  بہن کی فریاد نے جھنجھوڑ دیا تھا۔ اس میں ان کی مدد سندس کے والد حاجی سرفراز، محمود الہیٰ، جی ایف فین والے، یعقوب سیٹھی، حاجی اکرم، ندیم ملک صاحب، مس خان، طارق رشید صاحب اور ان کی ٹیم نے کی اور ان کا بھرپور ساتھ دیا اور انہوں نے ایک کرائے کے گھر سے، 30 ہزار کے کرائے سے اس کی بنیاد رکھی اب ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو خون کے  عطیات مل رہے ہیں اور بہترین ماحول قائم برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔

سندس فاؤنڈیشن کیلئے زمین لینے میں رضوان امجد صاحب اور ان کی فیملی کا جہاں اہم کردار ہے وہیں سروس انڈسٹری نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ سندس فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو عمران خان کا کہنا تھا کہ کبھی سوچا نہیں تھا یہ ممکن ہوگا مگر نیت سچی ہو لگن پکی ہو تو راستے خودبخود بن جاتے ہیں اور ہمارے لیے تو مایوسی کفر ہے۔ اگر آپ کے اندر کچھ کرنے کا جنون ہے تو آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں اور اس میں اللہ آپ کا حامی و ناصر ہے۔ یہاں گجرات میں سندس فاؤنڈیشن وہ واحد ادارہ ہے جو تھیلیسیمیا کے سیکڑوں  لوگوں کا علاج کرتا ہے اور لوگ یہاں کئی میلوں کا فاصلے طے کرنے کے بعد آتے ہیں۔ وہاں وارڈ میں جو پہلا بیڈ تھا وہ لوگ آزاد کشمیر سے کئی سالوں سے اپنے بچے کیلئے آرہے ہیں اور وہ خاتون جو اپنی بچی کو چپ کرا رہی تھی اس کی بچی کو چار ماہ کی عمر سے خون لگایا جا رہا ہے اور ابھی وہ صرف دو سال کی ہے۔ اس کی ماں کی بھی خواہش ہے کہ اس کی بیٹی پڑھ لکھ کر بڑی افسر یا ڈاکٹر بنے۔ یہ سب لوگ زندگی کی امید لیے یہاں آتے ہیں تاکہ وہ بھی  اچھی زندگی گزار سکیں۔

تھیلیسیمیا خون کی بیماری ہے جو خون میں موجودہ ہیموگلوبن میں نقص کی وجہ سے ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے خون میں موجود سرخ خلیے جسم کے مختلف حصوں کو آکسیجن  نہیں پہنچا پاتے اور مریض کمزوری کی وجہ سے دوسرے صحتمند افراد کی طرح زندگی  نہیں گزار سکتے۔ ہیموفیلیا بھی تھیلیسیمیا کی طرح موروثی بیماری ہے۔ اس میں مریض کا زخم لگنے کے بعد خون نہیں رکتا اور خون زیادہ بہنے کی وجہ سے موت بھی واقع ہوجاتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اب تک تھیلیسیمیا، ہیموفیلیا اور بلڈ کینسر کے چھ ہزار مریضوں کو علاج مہیا کیا جا چکا ہے۔

سندس فاونڈیشن میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کو خون کے سرخ خلیے فراہم کیے جاتے ہیں  اور ہیموفیلیا کے افراد کو خون کا سفید حصہ جو زخم میں خون کو روکنے میں معاون کردار ادا کرتے ہیں اور یہ سب  بلامعاوضہ فراہم کیا جاتا ہے اور یہ ادارہ ہر سال سیکڑوں صحتمند خواتین و حضرات سے  ہزاروں خون کی بوتلیں جمع کرتا ہے اور یہ خون مریضوں کو  فراہم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح انہیں مفت ادوایات کی فراہمی بھی کرتا ہے تاکہ  ٹرانسفیوژن کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کا سدباب  ہوسکے اور ان سب عوامل  پر  لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں اور اس کے علاوہ مختلف وائرسز سے متاثرہ بچوں کی نہ صرف پی سی آر ٹیسٹ کے ذریعے تشخیص کی جاتی ہے بلکہ علاج میں بھی مدد فراہم کی جاتی ہے تاکہ بیماری کا ممکنہ سدباب ہوسکے ۔ یہ ادارہ لوگوں کی امداد کے سہارے چلتا ہے اور پھل پھول بھی رہا ہے جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس قوم میں حوصلوں اور جذبوں کی کمی نہیں ہے۔ یہ بڑی غیرت مند قوم ہے جس نے اپنی قوم کی ہمیشہ برے حالات میں مدد کی ہے۔ یہ ادارہ اب تک چھ ہزار مریضوں کا مفت علاج کر چکا ہے۔ اور جو خون لیا اور دیا جاتا ہے اسے پہلے تکنیکی طور پر اچھی طرح سے جانچا اور پرکھا جاتا ہے جسے بہترین مشینوں اور تجربہ کار افراد کی نگرانی سے گزار کر استعمال میں لایا جاتا ہے۔

گجرات سندس لیبارٹری کے سپروائزر طارق محمود کا کہنا ہے کہ یونہی کسی سے خون نہیں لیا جاتا، پہلے افراد کی جسمانی صورتحال کا اندازہ لگایا جاتا ہے جس میں اس کے وزن اور پچھلے جسمانی ریکارڈ کی جانچ کی جاتی ہے اور پھر ٹیسٹ کے ذریعے پتا لگا جاتا کہ اس شخص کو کوئی ایسی بیماری تو نہیں جو پھیل سکتی ہے اور وہ اس قابل ہے کہ خون دے سکے۔ ان سب تحقیقات کے بعد خون لیا جاتا ہے اور اسی طرح لیے ہوئے خون کو کئی طرح کے ٹیسٹ سے گزارا جاتا ہے اور جانچا جاتا ہے پھر ضرورت مند شخص کو دیا جاتا ہے۔

جیسا کہ تھیلیسیمیا اور ہیموفیلیا موروثی بیماریاں ہیں جو صرف شادی سے پہلے میڈیکل ٹیسٹ کے ذریعے رک سکتی ہیں۔ 2000ء میں منو بھائی نے بطور چیئرمین سندس فاؤنڈیشن میں اپنا ایک منصوبہ ’’سنمیک‘‘ شروع کیا جسے وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی خوب سراہا، جو  نوجوان نسل کو شادی سے پہلے تھیلیسیمیا ٹیسٹ کی مفت سہولت فراہم کرتا ہے تاکہ آنے والی نسلیں تھیلیسیمیا کا شکار نہ ہو پائیں۔ اور آج سندس فاؤنڈیشن پاکستان کا واحد ادارہ ہے جو تھیلیسیمیا کیرئیر ٹیسٹ کیلئے اپنی خدمات فراہم کررہا ہے اور ابھی تو وہ اسپتال بنانے کا  خواب دے کر گئے ہیں جس کی تعبیر کیلئے ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ کوئی علاج سے محروم نہ رہ سکے۔

پروفیسر صاحب کہنے لگے جانتے ہیں وہ جو لوگ اندر بیڈوں پر لیتے ہیں وہ کتنی مشکلات اور تکالیف کے بعد یہاں زندگی کی آس لیے آتے ہیں اور خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ انہیں یہ سہولت مل رہی ہے۔

 اس گفتگو نے مجھے اندر سے ہلا دیا تھا اور میں اپنی ناشکری پر بڑا نادم تھا کہ مجھے اللہ نے صحتمند، تندرست بنایا اور میں اس کا شکرادا کرنے کی بجائے اس کی ناشکری کرتی ہوں اور یہ لوگ ہیں کہ ہر حال میں اپنے رب کے شکر گزار ہیں۔  پروفیسر صاحب مزید گویا ہوئے: بیٹا اللہ نے یہ جو تمہیں صحت اور دیگر نعمتیں عطا کی ہیں یہ اس لیے ہیں تاکہ تم ان سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے ان بہن بھائیوں مدد کرو جو اس سے محروم ہیں مگر ہم لوگ تو اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے مسائل میں اتنا الجھ جاتے ہیں کہ ارد گرد سے بےخبر ہوجاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں ان لوگوں کو جن کی مشکلیں اور آزمائشیں ہم سے کئی گنا بڑی ہیں۔

پروفیسر صاحب ہم کیسے ان کی مدد کرسکتے ہیں ہماری ایک گویا ہوئی؟ دیکھو بیٹا جیسے سندس فاؤنڈیشن تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے کام کرتی ہے، ہم ان کی مدد کر کے ایسے لوگوں کی مدد کرسکتے ہیں کیونکہ اتنے بڑے ادارے کو چلانا آسان نہیں ہوتا ہے۔ اس میں ہم سب کی مدد درکار ہے تاکہ کسی کو بھی علاج نہ ملنے کی وجہ سے زندگی سے ناراض نہ ہونا پڑے۔ نوجوان طبقہ فنڈز اکٹھے کر کے اور اپنے خون کے عطیات کے ذریعے مدد کر سکتے ہیں اور صاحب حیثیت لوگ اپنے صدقات و عطیات کے ذریعے تاکہ کسی کو بھی زندگی میں زندگی کیلئے ترسنا نا پڑے۔

خدا کے  بندے تو ہیں ہزاروں ،بنوں میں  پڑتے ہیں مارے مارے

میں اس کا  بندہ بنو گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا

loading...

اسماء طارق

اسماء طارق کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ موصوفہ ماسٹرز کی طالبعلم ہیں اور سوشل ڈولپمنٹ ایشوز پر لکھتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close