پاکستان

سپریم کورٹ نے تمام نظرثانی اپیلیں خارج کردیں

شیئر کیجئے

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، فریال تالپور اور وزیر اعلیٰ سندھ سمیت جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کے فیصلے کے خلاف تمام نظرثانی اپیلیں خارج کردیں۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کے فیصلے کے خلاف آصف زرداری، فریال تالپور، مراد علی شاہ، بلاول بھٹو، سندھ حکومت اور انور مجید کی نظرثانی اپیلوں پر سماعت کی۔

دوران سماعت آصف زرداری کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل میں کہا کہ کسی بھی مقدمے میں درجہ بدرجہ نچلی عدالت سے مقدمہ اوپر آتا ہے۔ اسلامی تصور بھی ہے کہ ملزم کو اپیل کا حق ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ نیب کے سامنے سارا مواد رکھا گیا۔ کہا گیا کہ ریفرنس بنتا ہے تو بنائیں نہیں بنتا تو نہ بنائیں۔ ہم اس معاملے میں مداخلت کیوں کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس مقدمے میں عدالت نے کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ ہم نے تو صرف متعلقہ اداروں کو تفتیش کیلئے کہا۔ اس سے آپ کا اپیل کا حق کیسے متاثر ہوا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اربوں روپے کا معاملہ ہے، کسی قلفی والے اور رکشے والے کے اکاؤنٹ سے برآمد ہورہے ہیں۔ اگر آپ عدالت کے موقف سے متفق نہیں تو یہ نظر ثانی کی وجہ نہیں بن سکتی۔

لطیف کھوسہ نے اعتراض اٹھایا کہ جے آئی ٹی کس قانون کے تحت بننی چاہیے۔ جے آئی ٹی کے معاملے پر نواز شریف کی نظرثانی درخواست مسترد ہوچکی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اس مقدمے کے حقائق نواز شریف کے مقدمے سے مختلف نہیں قانون طے ہوچکا۔ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کی بنیاد پر مقدمہ نیب کو بھجوایا گیا۔ زرداری کہتے ہیں کہ میرے پیسے ہی نہیں تو ان کا کیا تعلق ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بنیادی طور پر تو فالودے والے کو درخواست دائر کرنی چاہیے کہ آپ میرے پیسے کہ بارے میں کیوں اتنی تفتیش کررہے ہیں۔ جعلی اکاؤنٹس سے اربوں روپے کی بر آمدگی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ آپ کہتے ہیں سارا ملک خاموش ہوجائے۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ زرداری صاحب کی بہن کو روز اسلام آباد طلب کیا جاتا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ کے موکل کو ریکارڈ مہیا کرنے کیلئے سیکڑوں خط لکھے گئے۔ آپ کے موکل نے ریکارڈ مہیا نہیں کیا۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ نیب نے بینکنگ کورٹ کراچی کو مقدمے کی اسلام آباد منتقلی کی درخواست کی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نیب قانون کے تحت مقدمہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوسکتا ہے۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ بینکنگ عدالت کراچی میں مقدمہ چل رہا ہے، نیب کیسے تفتیش کرسکتی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن بے کہا کہ یہ وائٹ کالر کرائم کا مقدمہ ہے، کوئی فوجداری مقدمہ نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے تفتیش میں کوئی مداخلت نہیں کی۔ اگر اداروں پر قبضہ کرلیا جائے تو ہم بے بس نہیں ہیں۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایف آئی اے کسی بھی ادارے سے تفتیش کیلئے مدد لے سکتی ہے۔ اگر ایف آئی اے اتنی نالائق ہے تو اس پر پابندی لگادیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کیسے اپنے لیے تفتیش کار کا انتخاب کر سکتے ہیں؟ قانون اپنا رستہ خود بنائے گا۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ جے آئی ٹی سوائے دہشتگردی کے مقدمات کے نہیں بنائی جاسکتی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کے تمام دلائل قبل از وقت ہیں۔ اس عدالت کے پاس سوموٹو کا آئینی اختیار ہے۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی کو کیوں شامل کیا گیا۔ آئی ایس آئی اور ایم آئی کو سویلین معاملات میں مداخلت نہ کرنے دیں۔ بظاہر یہ دباو ڈالنے کا حربہ تھا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے جواب دیا کہ یہ عدالت تمام انتظامی اداروں سے مدد لے سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے پانامہ مقدمے میں وضاحت کی ہے۔ ہم نے پانامہ مقدمے میں سوموٹو کا اطلاق اس لیے کیا کہ اداروں پر قبضہ ہوچکا تھا۔ اس مقدمے میں ایف آئی اے کو تفتیش کرنے نہیں دی جارہی تھی۔ اربوں روپے ادھر ادھر ہوگئے کسی کو تو تفتیش کرنی ہے۔ اس لیے ہم نے معاملہ نیب کے سپرد کیا ہے۔

وکیل فارو ق یاچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سات جنوری کا فیصلہ عدالتی اختیارات سے متجاوز ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا جے آئی ٹی کو منی ٹریل کی کھوج لگانے سے منع کر دیا جاتا۔ غیر قانونی رقومات کو مختلف ذرائع سے جائز پیسہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں جے آئی ٹی کے اختیار پر بحث کرنا چاہتا ہوں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کو صرف جعلی اکاؤنٹس کی تفتیش کیلئے کہا گیا تھا۔ شاید آپ نے سردار لطیف کھوسہ کے دلائل کی نقل کی ہے۔ کامہ، فل اسٹاپ اور غلطیاں بھی ایک جیسی ہیں۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کراچی سے مقدمہ راولپنڈی منتقل کیوں کیا گیا؟ وجہ سمجھ نہیں آرہی۔ وقوعہ کراچی کا ہے تو تفتیش وہیں ہونی چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایک تھانے دار اپنے تھانے میں کہیں بھی بیٹھ کر تفتیش کر سکتا ہے۔ نیب کے اختیارات پورے ملک میں ہیں۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ملزم تو عدالت کا لاڈلہ بچہ ہوتا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہاں تو ضدی بچہ بنا ہوا ہے، ابھی تو آپ ملزم بنے ہی نہیں۔

فاروق ایچ نائیک نے فریال تالپور کے معذور بچے کا سرٹیفیکیٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ فریال تالپور کے ایک بیٹے نے خودکشی کرلی تھی۔ اب صرف دو بیٹیاں ہیں جن میں سے ایک معذور ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سن کر بہت افسوس ہوا۔

وکیل اومنی گروپ منیر بھٹی نے دلائل دیئے کہ میرے موکل کے خلاف مقدمہ ختم ہوچکا ہے۔ تفتیشی اداروں کو کچھ نہیں ملا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمہ تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا۔

منیر بھٹی نے کہا کہ اومنی گروپ کی شوگر ملز پر قبضے ہو رہے ہیں۔ اومنی گروپ کے پاور پلانٹس بند کروا دیئے گئے ہیں، اس لیے 20، 20 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ اومنی گروپ کے لوگ 15 اگست 2018ء سے جیل میں ہیں۔ ابھی تک قانونی کارروائی شروع نہیں ہوئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں نیٹ ورک نظر آرہا ہے۔ کون ملوث ہے کون نہیں یہ تحقیقات سے پتہ چلے گا۔ عدالت نے تمام نظرثانی اپیلیں خارج کردیں۔

loading...

متعلقہ مضامین

Close
Close