بلاگمعلومات

سقوطِ ڈھاکہ: شرمندگی اور جھوٹے تاریخی اوراق

شیئر کیجئے

بحیثیت قوم ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی ماضی کی اُن غلطیوں کو صرف تب تک یاد رکھتے ہیں جب تک ہم سے کوئی نئی غلطی نہ ہو جائے اور نئی ناکامی کہ بعد ہم پرانی ہار اور اس کی وجوہات سے سیکھنے کی بجائے نئی آئی مصیبت پر گلہ شکوہ اور الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں کرتے۔ ہمارے ملک میں اس وقت تاریخ کے ساتھ جو مذاق کیا جا رہا ہے شاید ہی کسی ملک میں یہ حال ہو۔ 70 سالوں سے ہم آنے والی نسلوں کو جو نصاب پڑھا کر اُن کے ذہن میں جھوٹا اور متعصبانہ سوچ کو پروان دیتے ہیں، وہ اس ملک کے خاص قابض طبقے کی نام نہاد جدوجہد اور دال دلیہ کیلئے کام آتی ہے جس کے سر پر وہ اس قوم کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے والے وسائل کو اپنی ذات کیلئے اس ملک کے نام پر ہڑپ کرتے ہیں۔

یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی گود میں جھولا جھولاتے ہوئے سیاسی انڈوں کو تیار کرتے ہیں اور وقت آنے پر اُن انڈوں کو اونچائی پر جا کر چھوڑ دیا جاتا ہے جس کے بعد زمین سے ٹکڑاتے ہی انڈا ٹوٹ جاتا ہے۔ بوقتِ ضرورت ہر دور میں نئے انڈے تیار کیے گئے اور ملک پر مسلط کردیئے گئے اور جب کوئی انڈا تیار نہ ہو سکا تو مرغی براہ راست بھی اس ملک پر قابض رہی ہے۔ اسی مرغی کے تیار کردہ ایک سیاسی انڈے نے انہی کی ملی بھگت سے 1971ء میں نہ صرف عالمی نقشے سے پاکستان کو دو لخت کر دیا بلکہ مرغی ڈپارٹمنٹ کی 90 ہزار مرغیاں ہتھیار ڈال کر دنیا بھر میں ذلیل و رسوا ہوئیں اور اُس جنگ کو ہمارے نصاب میں ہماری اُن نسلوں کو ایسے مسخ کر کے پڑھایا جاتا ہے جنہوں نے بعدازاں اس ملک کو آگے لے کر چلنا ہے۔ ہمارے نصاب میں پڑھائی جانے والی تاریخ دنیا بھر میں کسی تاریخ سے مماثلت نہیں رکھتی بلکہ اس کو ایک خاص انداز میں گڑھا گیا ہے تاکہ ایک خاص قسم کی سوچ کو پروان چڑھایا جاسکے۔

ہماری کسی نصاب کی تاریخی کتاب میں کیوں ہم 1971ء کی جنگ کے ان اسباب کو بیان نہیں کرتے جس کی وجہ سے نوبت یہ آئی تھی کہ بنگال بھائیوں نے بھارتی فوجیوں اور مکتی بانی کے لوگوں کو اپنے گھروں میں ہماری فوج سے لڑنے کیلئے پناہ دے رکھی تھی۔ آخر کیوں ہمیں مشن جبرالٹر سے متعلق نہیں بتایا جاتا جو کہ 1965ء سے قبل کشمیر میں کیا گیا اور ناکام رہا جس کی وجہ سے انڈیا نے ہم پر 1965ء میں حملہ کیا، جس کے بعد ایک اچھی مگر بغیر منصوبہ بندی کے اس جنگ کو لڑا گیا اور اس بات کو ملحوظ خاطر نہ رکھا گیا کہ امریکہ یا روس نے اگر ہتھیار کی سپلائی بند کردی تو کیا ہوگا اور جنگ کو کیسے جاری رکھا جا سکتا ہے۔

بلآخر جنگ بندی کے نتیجے میں کچھ حاصل وصول ہوئے بغیر یہ معاملہ ختم ہوا مگر ہماری ناکامیوں نے ایک بار پھر خود موقع فراہم کیا کہ آ بیل مجھے مار اور قیام پاکستان سے لے کر 1971ء تک جو سلوک بنگالی بھائیوں کے ساتھ کیا گیا وہ ایک سچی تاریخ کا حصہ ہے اور رنگ و نسل اور قد کی بنیاد پر جس طرح سے اُن کو محروم رکھا گیا اور اُن کی صلاحیتوں سے فائدہ نا اٹھایا گیا تھا اُس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آج علیحدگی کہ بعد اُن کی میعشت ہم سے بہتر ہے اور دنیا بھر میں بڑی انڈسٹری والے ممالک میں اُس کا نام ہے۔ ہم نے سرکاری کوٹوں میں بنگالی بھائیوں سے نا انصافی کی، فوجی کوٹے میں اُن کو اُن کی تعداد کے مطابق جگہ نہ دی، اُن کو حقیر سمجھا اور تو اور جو چیز مشرقی پاکستان میں بنتی تھی اُس کو زمینی راستہ ہونے کے باعث ہوائی یا سمندری راستے سے پہلے پاکستان لایا جاتا اور اُس کا معائنہ کرنے کے بعد اُس کو اجازت دی جاتی، جس سے اُس اخراجات ڈال کر قیمت آسمانوں کو پہنچ جاتی اور بنگالیوں کی محنت کا یوں مذاق اڑایا جاتا۔

کل آبادی کا 52 فیصد ہوتے ہوئے 52 فیصد ہی ملک کی کمائی دینے والوں پر صرف 20 فیصد وسائل لگائے جاتے جبکہ باقی وسائل پاکستان اور پنجابی حکمران کھا جاتے بنگالیوں نے جب احساس محرومی دیکھتے ہوئے اپنے درمیان سے ایک رہنما کو چنا تب بھی ہم نے زیادتی کی کہ حکومت کا حق مجیب الرحمان کو دینے کی بجائے ملک کو دولخت کر دیا اور اُس وقت کے کردار ذوالفقار علی بھٹو، جنرل یحٰی خان ٹکا خان اور جنرل نیازی نے بنگالیوں پر جو ظلم و ستم کے ہہاڑ ڈھائے اور منصوبہ بندی کی کہ زیادہ سے زیادہ 2 ہفتوں میں آپریشن کر کے کرفیو لگا کر معاملات کو کنٹرول کرلیا جائے گا مگر آج جس بھارت کو ذمہ دار ٹھرایا جاتا ہے ہمیں یہ سمجھنا اور تاریخ میں اس بات کو ماننا ہو گا کہ یہ ہماری ناکامیاں اور بھارت کی کامیاب پالیسی تھی جس کی وجہ سے وہ کامیاب رہا۔

بمبئی حملے خالصتاً تحریک بلیو سٹار آپریشن پھر کارگل یہ سب ہماری نکامیوں کہ منہ بولتے ثبوت ہیں۔ اگر اس کو مشن جبرالٹر سے شروع کیا جائے تو غلط نہ ہوگا جس کے نتیجے میں 1965ء کی جنگ سے تاحال اب تک یہ سرد گرم جنگ کا باب بھارت سے جاری ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ شروعات کس نے پروکسی وار سے کی؟ جبرالٹر مشن کے تحت اصولوں کو پامال ہم نے کیا اور اُس کہ بعد 71 میں بھارتی پروکسی وار کامیاب پالیسی سے اُن کے حق میں رہی اور ہم 90 ہزار فوجی ہتھیار ڈلوا کر اور مشرقی پاکستان کو علیحدہ کروا کر آج سارا الزام مجیب الرحمان اور بھارت ہر ڈالتے ہیں۔ ہمیں اپنی کی غلطیوں کو مان کر آگے بڑھنا ہوگا۔ اگر سن اکہتر میں بھٹو صاحب شیخ مجیب سے سیای مفاہمت کر لیتے اور اقتدار میں شراکت پر تیار ہو جاتے تو آج پاکستان کا نقشہ ہی مختلف ہوتا اور ممکن ہے کہ فوج کو سیاسی میدان میں شکست ہوجاتی اور اگر سن اکہتر کی جنگ کی شکست کے بعد وہ صحیح معنوں میں فوج کا محاسبہ کرتے تو پاکستان کی سیاست پر سے فوج کی بالادستی سے ہمیشہ کیلئے نجات مل جاتی۔ یہ دونوں بہترین مواقع تھے جو ذوالفقار علی بھٹو نے کھو دیئے، جو خود ان کیلئے مہلک اور ملک کیلئے تباہ کن ثابت ہوئے۔

loading...

عظیم بٹ

عظیم بٹ سینئر سیاسی تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔ موصوف پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ (لاہور) کے انفارمیشن سیکریٹری اور آل پاکستان میڈیا کاؤنسل (لاہور) کے صدر بھی ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close