بلاگ

تبدیلی (غریب مکاؤ پروجیکٹ)

شیئر کیجئے

آج صبح میو اسپتال جانے کا اتفاق ہوا۔ ایمرجنسی کے سامنے اونکالوجی وارڈ کے سامنے سے گزر رہا تھا کہ ایک بوڑھی عورت ہاتھ میں پرچی اٹھائے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی، معلوم یہ ہوتا تھا کہ کسی ایسے مسیحا کے انتظار میں ہے جو اس کی پرچی کے مطابق رہنمائی کرسکے۔ اسے دیکھ کر آگے نکل گیا لیکن اچانک سے ایسا محسوس ہوا کہ قدموں کو کوئی روک رہا ہے، فوراً سے پیچھے مڑا اور اس بوڑھی عورت کے پاس گیا اور پوچھا کہ ”اماں جی“ کیا مسئلہ ہے؟ کسے ڈھونڈ رہی ہیں؟

اس بوڑھی عورت کے ایک ہاتھ میں ایک تھیلہ تھا جس میں اس کے کچھ کپڑے تھے فائل تھی، دوسرے ہاتھ میں اسپتال کی پرچی تھی جس پر کچھ بلڈ ٹیسٹ لکھے ہوئے تھے جو اس نے اسپتال سے کرانے تھے۔ تھوڑا سا اور جانا تو پتا چلا کہ اماں کینسر کی مریضہ ہے اور اسے ہر ماہ اپنا میڈیکل چیک اپ کرانا ہوتا ہے ۔ اس نے مجھے کہا کہ بیٹا یہ پرچی پر کچھ ٹیسٹ لکھے ہیں لیکن جہاں سے ٹیسٹ کرواتے ہیں وہ عملہ آج میرے ٹیسٹ نہیں کر رہا اور مجھے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا ہے کہ ”اماں جی اب پیسے لگتے ہیں، گورنمنٹ نے مفت ٹیسٹ کی سہولت ختم کردی ہے۔ یہ کہہ کر اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک آئے اور بولی کہ بیٹا شہباز شریف کا دور اچھا تھا، مجھے دوائی بھی فری ملتی تھی اور ٹیسٹ بھی فری ہوجاتے تھے۔ اب پتا نہیں کیا ہوگا اور میرے پاس تو پیسے نہیں کہ میں ٹیسٹ کروا سکوں، لہٰذا اگر تم میری مدد کرسکو تو مجھے ٹیسٹ کروا دو۔ مجھے بہت غصہ آیا اور میں اماں کو لے کر لیبارٹری چلا گیا۔ وہاں جا کر لیب ٹیکنیشن سے جب بات کی تو اس نے کہا کہ جب تک ایم ایس صاحب اس پرچی پر سائن اور اپنی مہر نہیں لگائیں گے تب تک ہم فری ٹیسٹ نہیں کرسکتے۔ اس بوڑھی عورت کو لیب میں بٹھا کر جب ایم ایس آفس پہنچا تو پتا چلا کہ ایم ایس صاحب اپنے کمرے میں موجود نہیں اور آفس کے باہر لمبی قطار لگی ہے۔ مریض (جنہوں نے ہاتھ میں پرچیاں پکڑی ہے) اس انتظار میں ہیں کہ کب ایم ایس صاحب آئیں اور سائن کریں۔ کچھ دیر انتظار کے بعد ایم ایس آفس سے ایک لڑکے کی آمد ہوئی اور بولا کہ بلڈ ٹیسٹ فری کرنے کا اختیار اب ایم ایس صاحب کے پاس نہیں ہے، گورنمنٹ کی طرف سے آرڈر ہے کہ اگلے اعلان تک اسپتال میں ٹیسٹوں کی فیس لی جائے۔ اس لیے اب ٹیسٹ فری نہیں ہوں گے، اس کے لیے پیسے لگیں گے۔

یہ سننا تھا کہ جتنے مریض وہاں کھڑے تھے جو اس امید میں تھے کہ ان کے میڈیکل ٹیسٹ فری ہوجائیں گے انہوں نے وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کو بددعائیں دینا شروع کردیں۔ یہ تبدیلی ہے؟ اللہ تم نے کونسا بندہ پاکستان پر مسلط کردیا؟ غریبوں کے سر پر چھت نہیں ہے، اب علاج کی سہولت بھی چھین لی ہے۔غریب جائیں تو کہاں جائیں؟ کونسا ایسا ملک ہے جہاں چلے جائیں؟ یہ سب باتیں وہاں کھڑے لوگ کرنے لگے، کچھ تو شہباز شریف کو پکارنے لگے کہ کاش آج وہ ہوتا تو ایسا نہیں ہوتا۔

ہاتھ میں پرچی پکڑے جب واپس لیب آیا اور لیب سے ٹیسٹ کا ریٹ پوچھا تو وہ ٹیسٹ جو پہلے 200 کا تھا اب 500 کا ہوچکا تھا۔ ایکسرے سینٹر میں جاکر ایکسرے کا ریٹ پتا کیا تو پتا چلا کہ جو ایکسرے 60 روپے میں ہوتا تھا اسکی نئی قیمت 200 روپے مقرر کردی گئی ہے۔

عمران خان نے حکومت میں آنے سے پہلے عوام سے جو وعدے کیے ان میں صحت کے نظام پر سب سے زیادہ باتیں بھی کیں اور دعوے بھی کیے۔ اداروں کو ٹھیک کرنے کا دعوہ، ہیلتھ کی سہولیات، یہ سب اس کی تقریروں کا حصہ تھا۔ لیکن آج کے نئے پاکستان میں غریب سے آج علاج کی سہولت بھی چھین لی گئی ہے۔ غریب جب بھی اسپتال کا دروازہ کراس کر کے اندر داخل ہوتا تو ٹاؤٹ مافیا جن میں وارڈ بوائز، سیکیورٹی گارڈز، لیب ٹیکنیشنز، ایکسرے ٹیکنیشنز، ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہونے سے قبل دروازے پر کھڑا اسٹاف ممبر جب تک مریض کی جیب ڈھیلی نہیں کروا لیتا تب تک مریض کی ڈاکٹروں تک رسائی ممکن نہیں ہے۔ لاہور کے سب سے بڑے اسپتال میو اسپتال کا یہ عالم ہے کہ ڈاکٹر سے چیک اپ کیلئے، ایکسرے کروانے کیلئے، الٹراساؤنڈ کروانے کیلئے، بلڈ ٹیسٹ کروانے کیلئے مریض کو ہر قدم پر ٹاؤٹ مافیا کو پیسے دینا پڑتے ہیں، تب جا کر انہیں ڈاکٹر کی شکل دیکھنا نصیب ہوتا ہے۔

حکومتی نااہلی کہیں یا کچھ اچھا کرنے کی پلاننگ، جو بھی سوچا اس وقت غلط ثابت ہوا۔ عمران خان اور خاص طور پر پنجاب حکومت کو جو بظاہر تو نااہل ہی ہے، نہ کوئی پلاننگ ہے نہ اداروں کو ٹھیک کی سکت ہے۔ اس بارے میں سوچنا ہوگا کہ عوام میں بڑھتی ہوئی بددلی کو کیسے کم کیا جا سکے، سہولتیں چھیننے کی بجائے دینے کی طرف آئیں۔ حکومتی دعووں میں آکر عوام نے تبدیلی کے نام پر ووٹ دے کر تبدیلی کے خواب کو تعبیر کرنے کی کوشش کی لیکن یہ خواب اب خواب ہی رہ گیا۔ تبدیلی آئی ضرور مگر غریب کیلئے۔۔۔ جس میں وہ آج سرکاری اسپتالوں سے مفت ٹیسٹ کرانے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔ محکمے کے بنیادی اصولوں سے غافل وزیر صحت جن کو عوام نے ریجیکٹ کیا لیکن عمران خان نے اسی عوام پر مسلط کیا اور آج اس نے ثابت بھی کیا کہ وہ نہ تو ڈاکٹروں کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہے اور نہ ہی عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

گورنمنٹ اسپتالوں میں علاج فری ہے، دوائی فری ہے۔ یہ سب ٹی وی پر جب سنتے ہیں تو اچھا لگتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ 90 فیصد مریض اسپتالوں میں اپنی جیب خالی کرکے جاتے ہیں جو کہ نہیں ہونی چاہیے۔ اگر اسپتال میں بیٹھا ایم ایس کرپٹ نہیں ہے، اگر کمرے میں بیٹھا ڈاکٹر اس بات سے غافل نہ ہو کہ اس کے دروازے پر کھڑا آدمی مریضوں سے پیسے لے کر اسے مجھ تک آنے دے رہا ہے تو شاید ایک سسٹم اچھا ہوجائے۔ شاید غریب کو علاج کی بہتر سہولیات میسر آسکیں۔

loading...

رانا علی زوہیب

رانا علی زوہیب کا تعلق لاہور سے ہے۔ موصوف صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور اِن دنوں نجی نیوز چینل ’’جیو‘‘ میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close