بلاگ

تحفظِ حقوقِ صنفِ نازک

شیئر کیجئے

گزشتہ ہفتے سے ابتک اس پر ہر لحاظ سے بات ہو چکی ہے کہ عورت کے حقوق کیا ہیں اور اُسے کیا ملنے چاہیے۔ مرد کی برابری کا شوق عورت کو یہاں تک لے آیا کہ ایک قیمتی چیز جو عورت کو عورت کہلانے کا حق دیتی ہے اُس کو بھی گلیوں چوراہوں پر صنفِ نازک کے نام پر کلنک کچھ نمونوں نے نیلام کیا۔ بیہودگی تو بہت سادہ لفظ ہے اور اِس سے گھٹیا لفظ استعمال کرتے مرد ہونے کے باوجود میرے ہاتھ اجازت نہیں دیتے کہ میں لکھوں تمام صنفِ نازک سے گزارش ہے کہ تحریر پڑھ کر اپنی رائے قائم کیجئے گا۔ عورت مارچ کے نام پر جس خوبصورت بے غیرتی کا مظاہرہ کیا گیا اگر مرد ذات صرف بے غیرت اور حوس کی لالچی ہوتی تو وہ اس مارچ کے حق میں رہتی کیونکہ یہ نام نہاد عورتیں جو حقوق اپنے لیے طلب کر رہی ہیں اُس کا ہر لحاظ سے فائدہ ایک مرد کی ذات کو ہے۔ ایک مرد کو اپنی شہوانی خواہشات پوری کرنے کا اس بہتر طریقہ بھلا کیا ملے گا جب عورت خود یہ پوسٹر اُٹھائے پھیرے کہ میں کھانا نہیں بستر گرم کرنے کیلئے ہوں۔ جب عورت خود کُھلے عام اس بات کا بھی اقرار کر دے کہ اُس کو جسم کا سودا کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں بلکہ معذرت کے ساتھ یہ وہ خواتین تھیں جو سودا بھی نہیں کرنا چاہتیں، بس اپنی مرضی کے مطابق جب چاہا جیسے چاہا جس کے ساتھ چاہا اپنے آپ کو گروی رکھوا دینا چاہتیں ہیں، وگرنہ اس سے قبل تو ہم نے سنا اور دیکھا تھا کہ عورت اپنی آبرو کا سودا کسی مجبوری یا پیسے کہ عوض کرتی تھی۔ مگر یہاں تو حالات اس حد تک ایڈوانس کے نام پر بے غیرت پن پر آ گئے ہیں کہ نا مجبوری نا پیسے کی طلب صرف اور صرف حوس وہ بھی صنفِ نازک کہلانے والی ذات کی۔ ایک پل کیلئے سوچیں کہ اگر مرد صرف عورت کو بستر گرم کرنے اور بچے پیدا کرنے کی مشین سمجھتا تو کیا وہ اس مارچ کی حمایت نا کرتا کیونکہ اس کو تو بغیر کسی دام اور بندش کے عورت تک رسائی مل رہی ہے مگر ایسا نہیں عورت کا ہمارے معاشرے میں سب سے خوبصورت حق یہی ہے کہ ہم عورت کی عزت کرتے ہیں اور کرنا چاہتے ہیں۔ چار دیواری کی باتیں کتنی بھی تلخ ہوں ان کو چوراہوں پر نہیں لانا چاہتے۔ عورت کی طلب تب تک ہے جب تک وہ بندش میں رہے۔ جب اپنا آپ سب پر ظاہر کرے گی تو پھر کیا حسرت کیا طلب؟ البتہ موجودہ معاشرے میں اب والدین کو بھی کم از کم اپنی تربیت کو ایڈوانس لیول پر لے جانے کی ضرورت ہے۔ بعض دفعہ بڑے غلط کام کو روکنے کیلئے چھوٹے غلط کام کو کرنا پڑتا ہے۔ یہ چند ہزار کا لبرل طبقہ جس طرح اپنی کاوشوں کو پھیلا کر نوجوان لڑکے لڑکیوں کے دماغ خراب کر رہا ہے اس میں اب سب سے اہم کردار ماں باپ کی تربیت کا ہے۔ بیٹی کی تربیت میں اُس کو اس سطح کی آزادی دی جائے کہ وہ اپنی پسند نا پسند کا اظہار کُھل کر گھر میں کر سکے اور اِس یقین سے کرے کہ وہ جانتی ہو کہ گھر والے اُس کی بات کا احترام کریں گے۔ موجودہ معاشرہ عورت کو شوہر، دوست اور عاشق سے کہیں آگے لے جانا چاہ رہا ہے۔ اب عورت بوائے فرینڈ کے رشتے سے بھی تجاوز کرتے ہوئے شہوانی خواہشات کے ساتھ ساتھ یار بدلنے کے دہانے پر ہے۔ اِس کو روکنے کیلئے ضروری ہے کہ والدین اپنی بچی کو کم از کم جائز کام کیلئے پسند بتانے کی اجازت دیں اور کچھ سمجھوتے کریں کہ کہیں اُن کا سمجھوتہ نا کرنا اُن کی بچی کیلئے آپ کی محبت کے عوض آزادی کا سمجھوتہ ترجیح نا بن جائے۔ پسند کی شادی اور کسی کو پسند کرنا اس بات پر سخت رد عمل سے گریز کرتے ہوئے شادی اور نکاح جیسے حلال کاموں میں دیری نا کی جائے اور اپنے فیصلوں کو زورِ بازو کسی پر مسلط نا کیا جائے۔ زورِ بازو کیے گئے فیصلے مان بھی لیے جائیں تو اُس کا مستقبل دھوکہ اور پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ عورت کا سب بڑا علمبردار اسلام ہے، قرآن ہے۔ سورة النساء کو پڑھے بغیر اسلام پر عورت کے حقوق نا دینے کا الزام لگانے والے اپنے مغربی آقاؤں کے آباؤاجداد کی ان حرکات پر غور کریں کہ قبل از اسلام عورت کی پیدائش سے قبر تک کا سفر صرف کچھ پلوں کا مہمان ہوتا تھا۔ آج عورت گلیوں چوراہوں میں کُھل کر اپنے مطالبات رکھتی ہے کیونکہ یہ حق اسلام کے بعد ہی اس کو ملا ہے۔ ہر بات کا لب لباب یہی ہے کہ معاشرہ بچانا ہے، نسلوں کو برباد ہونے سے بچانا ہے تو گھر کے ماحول میں کچھ لچک لائیں۔ اس سے پہلے کہ آپ کی سختی عورت کو گھر کی قید سے چوراہے پر لے جائے جو کہ اکیلی نہیں آپ کی عزت کو بھی ساتھ لے جائے گی، لڑکی کی پسند کو پسند کیجئے اور معاشرے کو حلال کام یعنی نکاح کو پرموٹ کریں۔ عورت نے حقوق مانگنے ہیں تو جائیداد کے حقوق سے جہیز کے چھٹکارے تک کے حقوق مانگے جس میں شرعی اور قانونی لحاظ سے اُس کو تعاون ملے گا۔

loading...

عظیم بٹ

عظیم بٹ سینئر سیاسی تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔ موصوف پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ (لاہور) کے انفارمیشن سیکریٹری اور آل پاکستان میڈیا کاؤنسل (لاہور) کے صدر بھی ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close