پاکستان

تیزی سے بڑھتی آبادی پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے، چیف جسٹس

شیئر کیجئے

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ تیزی سے بڑھتی آبادی پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ محدود وسائل کے ہوتے لامحدود ضرورتیں ہیں۔ 60 سال سے ہم نے آبادی کے کنٹرل پر توجہ نہیں دی۔ تیزی سے بڑھتی آبادی بڑا خطرہ ہے۔

بڑھتی ہوئی آبادی پر فوری توجہ کے موضوع پر اسلام آباد میں منعقدہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور جیسے بڑے شہر تعمیرات سے بھرگئے ہیں۔  آنے والے دنوں میں پانی کا مسئلہ مزید شدت اختیار کر جائے گا۔ پانی زندگی ہے، آج پاکستان میں کوئی واٹر مینجمنٹ نہیں ہے۔ ہر سال 7 لاکھ بلین گیلن پانی ہم زمین سے نکالتے ہیں، وسائل کم ہوتے جارہے ہیں اور ضروریات بڑھتی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے کی سب سے اہم ترین چیز علم ہے۔ زندگی اللہ کی طرف سے نعمت ہے اور اللہ نے ہمیں سہولیات دی ہیں جن کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔  وہ قومیں جنہوں نے علم حاصل کیا اور اپنی بہتری کیلئے علم کو استعمال کیا، وہ ترقی کر چکے ہیں۔ جن قوموں نے ترقی نہیں کی اس کی وجہ تعلیم ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ علم اللہ کی نعمت ہے۔ تعلیم کی بنیاد پر ہم سب چیزوں کا تجزیہ کریں تو ایک چیز انتہائی اہم ہے کہ کیا اپنے ملک میں اتنی آبادی پیدا کرلیں کہ ہمارے وسائل اس آبادی کو پورا نہ کر سکیں۔ آج وہ دن اور وہ وقت کہ ہمیں اس معاملے کو انتہائی سنجیدہ لینا پڑ رہا ہے کہ آبادی کو کس طرح کنٹرو ل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیس سال کے بعد پاکستان کی آبادی اسی طرح بڑھتی رہی تو 45 کروڑ ہو گی اور وسائل کم ہوتے جارہے ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے سپریم کورٹ نے جو حصہ ڈالنا تھا وہ ڈال دیا۔ ٹاسک فورس کی جانب سے تجاویز آئی ہیں لیکن عدلیہ کے پاس ان تجاویز پر عملدرآمد کروانے کا میکنزم نہیں ہے اور اگر کوئی عملدرآمد کروا سکتا ہے تو وہ وزیراعظم عمران خان ہیں۔

loading...

متعلقہ مضامین

Close
Close