بلاگ

استاد ایسا بھی ہوتا ہے

شیئر کیجئے

میٹرک میں غلطی سے اچھے نمبر آجائیں تو آپ کی خیر نہیں۔ خاندان والے ایف ایس سی کی اتنی گردان کرتے کہ آپ سب بھول بھال جاتے اور اسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سو ہم نے بھی ایف ایس سی میں بیالوجی رکھی پر مسئلہ یہ تھا کہ پڑھی کس کے پاس جائے؟ کیونکہ ایف ایس سی میں ہمارے نمبر بہت ہی قیمتی ہوتے ہیں، اس لیے تو سارا خاندان مل کر نمبروں کے پیچھے بھاگ رہا ہوتا ہے۔ ساری دنیا کو پتہ لگ جاتا ہے کہ فلاں بچہ ایف ایس سی کر رہا ہے، بچے کی جگہ جگہ برانڈنگ بھی کی جاتی ہے، اس سے دوسرے پر دھاک بیٹھتی ہے۔۔۔ خیر چھوڑیئے۔ اب جب نمبر چاہیں تو پڑھنا بھی اتنا ہی  پڑھتا ہے، یہ الگ بات ہے پڑھتے آپ اتنا ہی ہو جتنا پڑھ سکنے کی ہمت ہےن چاہے دس ٹیوشنز لگوالیں۔

ہاں بیالوجی تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ گجرات میں بیالوجی کے ایک ٹیچر فراز صاحب ہیں جن کے  پورے شہر میں چرچے ہیں، ان جیسی بیالوجی کوئی پڑھا ہی نہیں سکتا۔ بھئی میڑک میں بھی ہم نے  بیالوجی پڑھی ہے، وہ ایسا کیا پڑھاتے، چھوڑیے صبح صبح چھ بجے جا کر کون پڑھے، وہ تو دن کو بھی پڑھاتے تھے پر دن کو ہم کہیں اور پڑھتے تھے۔ پر جب کچھ دوستوں نے اس کے پاس پڑھنا  شروع کیا تو اشتیاق اور بڑھ گیا آخر ہم بھی ان کے پاس پڑھنے چلے گئے۔ پہلےدن جب ہم گئے تو اس دن ٹیسٹ تھا، سو پڑھ نہ پائے۔ پر اگلے دن ہمارا پلے تھا ہم نہیں  آئیں گے ہم نے صاف کہہ  دیا۔ ہم نے سوچا غصہ کریں گے پر وہ الٹا کہنے لگے ویری گڈ، پلے کی تصویریں لا کر دکھانا اور ہم سوچنے لگے کہ استاد ایسا بھی ہوتا ہے۔

اب آتے ہیں اس میتھڈ کی طرف جو ان کی خاصیت ہے۔ انہیں اپنے مضمون پر پوری کمانڈ حاصل ہے، لیکچر کیسا ہی کیوں نہ ہو وہ اس قدر دلچسپ بنا دیتے ہیں کہ باتیں کرنا تو دور، آپ صبح چھ بجے جا کر بھی سو نہیں سکتے۔ مزاح ڈالنا ہوتا تو مزاح ڈالتے، لفظ مشکل ہوتا یا اسپیلنگ یاد کروانا ہوتے تو وہ  لفظ کو توڑ کر سر کے ساتھ  ایسے بتاتے کہ آپ کبھی بھول نہیں پاتے اور ہم سب ہنس رہے ہوتے اور ساتھ ساتھ سوچتے عجیب ٹیچر ہیں، اپنا مذاق بنا رہے ہیں مگر ان کا یہ طریقہ عام سے عام  بچے کو بھی سمجھ میں آتا تھا۔ وہ تو دو چار آڑی ترچھی لائنوں کو بنا کر جوڑتے اور کہتے کتنی سندر (خوبصورت) ہیں یہ اور ہم منہ بناتے کہ یہ کیسے خوبصورت ہوسکتی ہیں۔ کبھی وہ باڈی سسٹم کو ہمارے اردگرد کی مثالوں سے ملاتے اور سمجھاتے کہ آپ کو سب سمجھ آجاتی۔ ان دو سالوں میں انہوں نے ہمیں بیالوجی نہیں پڑھائی، زندگی پڑھائی ہے۔ ایسا استاد جو بچے کے لیول پر جا کر سمجھاتا ہے اور جو عام سی چیز میں بھی خوبصورتی تلاش کر لیتا ہے۔ تب وہ میرے لیے  ایک پڑھنے کا طریقہ تھا مگر آج میرے لیے یہ ایک فارمولے سے کم نہیں جسے آپ کسی بھی شعبے کسی بھی کام میں اپلائی کر سکتے ہیں اور اسے دلچسپ اور قابل فہم بنا سکتے ہیں۔ ایسا کرنے سے نہ صرف آپ کو کام کرنے کا مزہ آتا بلکہ دوسروں کا بھی کام کرنے کا دل کرتا ہے۔

وہ صرف  ہمیں بیالوجی نہیں پڑھاتے تھے بلکہ ہماری ذات کی تشکیل بھی کر رہے ہوتے تھے اور اسی لیے تو استاد کا مقام بہت بلند ہے۔ میڑک تک آپ سوال سے بھاگتے ہو اور اگر کبھی کر دو تو  سب آپ کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے کوئی پاگل ہو مگر سر فراز سے ہمیں تب ڈانٹ پڑتی تھی جب ہم سوال نہیں کرتے تھے۔ وہ سوال کرنے والے کو بہت پسند کرتے تھے اور اس کی بہت تعریف بھی کرتے تھے، اس لیے ہم ان کی کلاس میں سوال  بناتے تھے، لوگوں کا جوابات کا مقابلہ  ہوتا ہے اور ہمارا سوالوں کا ہوتا تھا کہ آج میں نے زیادہ اچھے سے لیکچر سننا اور پھر زیادہ سوال کرے۔ پھر وہ کہتے کہ جواب اسی سوال کو ملتا ہے جس کا سوال  درست ہوتا ہے۔ مطلب کہ سوال بھی صحیح ہونا چاہیے یہ ہمیں پہلی بار پتا چلا۔ پیچھلے دنوں میں نے ایک کالم لکھا تھا سوالوں کی قوت جو دنیا کے  کامیاب لوگوں کے تجربے پر مشتمل تھا، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ جواب اسے ہی ملتا ہے وہ زندگی سے سوال کرتا ہے اور صحیح سوال کرتا ہے اور یہی بات ہمارے استاد ہمیں تب سکھا رہے تھے۔

 وہ اپنے کام سے بہت خوش تھے۔ ہم نے پہلی بار کوئی استاد دیکھا تھا جو ٹیچنگ سے عشق کرتا تھا وگرنہ تو ہم نے پچپن سے ہی اپنی ٹیچرز سے سنا ہے کہ کبھی استانی نہ بننا بڑی ذلالت ہے یہاں  مگر ایک ہمارے یہ ٹیچر ہیں جو کہتے کہ اس سے اچھا کوئی شعبہ ہی نہیں۔ اس سے زیادہ عزت کہیں اور ہے ہی نہیں۔ وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ اگر کامیاب ہونا ہے تو اپنے کام کی عزت کیا کرو۔ اگر ہماری کتاب دوران لیکچر ہم سے گر جاتی تھی تو وہ  کھڑا کر دیتے اور کہتے اٹھاؤ اسے اور آئندہ کبھی نہ گرانا، کتاب کی عزت کیا کرو اور ہم سوچتے رہتے یہ کیسے ٹیچر ہیں جو ویسے نہیں ڈانٹنے اور کتاب گرنے پر کھڑا کر دیتے ہیں۔ سر ہر سال اپنے پڑھانے میں تھوڑا  بدلاؤ لاتے ہیں، نئی نئی چیزیں لیکچرز میں ڈالتے ہیں اور اسے نئے زمانے کے مطابق کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ  آپ وہی لیکچر دوبارہ اگر لو تو وہ پہلے سے  زیادہ مزے کا اور نیا ہوگا۔ ایک بورنگ سے سیل سائیکل کو وہ اتنا دلچسپ بنا کر پڑھاتے ہیں کہ وہ سیل سائیکل آپ کا پسندیدہ بن جاتا ہے۔ وہ اپنے طالبعلموں کو ہمیشہ اچھے سے اچھا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور ان کو بھرپور سپورٹ کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کے طالبعلموں میں اور دوسرے طالبعلموں میں ایک فرق نمایاں ہوتا ہے اور یہی فرق ان کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ان سے پڑھنے کے کہیں سالوں کے بعد بھی آپ کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ آپ کو کسی بھی رہنمائی کیلئے منع نہیں کریں گے بلکہ آپ کو سپورٹ کریں گے، یہی اس طالبعلم کی کامیابی ہے، آج ان کے کئی طالبعلم بہت اعلیٰ مقام پر فائذ ہیں۔ 

 استاد آپ کی ذندگی میں بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ شاید ہی ماں باپ کے علاوہ کوئی ذات آپ کی ذات پر اتنا اثر رکھتی ہے جتنا استاد رکھتا ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں ہم ہمیشہ اپنے استاد کی طرح بننے کی کوشش کرتے تھے، ہم ان کے جیسا دکھنا چاہتے تھے۔

استاد کا کردار ہمیشہ  سے آپ کی زندگی کا اہم جزو ہوتاہے  اور یہ کردار آپ کی ذات سے جھلکتا بھی ہے۔ مگر ہماری بدقسمتی ہے کہ ٹیچنگ کے شبعے میں جتنا ظلم اب ہو رہا ہے، شاید ہی کبھی ہوا ہو۔ استاد کورس، بچوں کے بھرمار اور مہنگائی میں پس رہا ہے۔ بچہ نمبروں کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔  نہ کوئی کچھ سکھا پا رہا ہے اور نہ کوئی سیکھنا چاہتا ہے۔ جبکہ دنیا کے ہر ملک میں استاد سے زیادہ کسی کو پروٹوکول نہیں دیا جاتا اور ہمارے ملک میں استاد پس رہا ہے۔ یہاں کوئی اپنی مرضی سے استاد نہیں بننا چاہتا۔ جس کے پاس کوئی راستہ نہیں بچتا وہ اس طرف آ جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک مفلوج قوم پیدا ہو رہی ہے۔ ذرا سوچیے!

loading...

اسماء طارق

اسماء طارق کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ موصوفہ ماسٹرز کی طالبعلم ہیں اور سوشل ڈولپمنٹ ایشوز پر لکھتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close