دنیا

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو ایک ماہ مکمل

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں سخت ترین کرفیو کا آج تیسواں دن ہے۔ وادی میں خوراک اور ادویات ناپید جبکہ مواصلاتی بلیک آؤٹ بھی جاری ہے۔ ایڈولف مودی کے سپاہیوں نے ایک ماہ میں سولہ کشمیریوں کو شہید جبکہ ظلم کے خلاف سینہ سپر ساڑھے چار سو سے زائد کشمیری زخمی ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ظالم فورسز کی ریاستی دہشتگردی تھم نہ سکی۔ پانچ اگست سے جاری کرفیو کو ایک ماہ مکمل ہوگیا ہے۔ وادی میں ادویات اور خوارک کی شدید قلت پیدا ہوگئی جس سے کشمیریوں کی زندگیاں مشکلات کا شکار ہوگئی ہیں جبکہ مریض بھی گھروں میں محصور ہیں۔

مودی سرکار نےتعلیمی ادارے، مساجد اور اسپتالوں میں تالے لگادیئے ہیں۔ قابض فورسز نے تیس روز سے وادی میں بلیک آوٹ کیا ہوا ہے جس سے کشمیریوں کا دنیا سے رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔ جبکہ انٹرنیٹ، موبائل فون اور اخبارات پر پابندی لگی ہوئی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دو ہزار سولہ میں بھی چھ ماہ تک سنگین حالات تھے اور کاروبار کو شدید نقصان اٹھانا پڑا تھا مگر جو اس بار تاجروں کو نقصان ہورہا ہے ویسا کبھی نہیں ہوا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ موبائل فون بندہیں تو رابطے کیسے کریں۔ ایک تاجرکا کہنا ہے کہ اس نےدہلی پر کسٹم فیس ایک لاکھ جرمانہ ادا کیا کیونکہ وہ چین سے لایا سامان وقت پرنہ لے جا سکا۔

ایک اندازے کے مطابق سخت کرفیو کے باعث کشمیر کی صنعتوں کو پانچ سو کروڑ تک کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے کیونکہ دیگر اضلاع سے ادائیگی کی وصولی نہیں ہورہی ہے۔ وادی میں روزگاراور سیاحت بھی تھم گئی ہیں۔ وادی کی خوبصورتی ویرانیوں میں تبدیل ہوگئی ہے۔ کشتیاں بھی سیاحوں کی منتظر ہیں جبکہ ہوٹلز خالی پڑے ہیں۔ وادی میں راج ہےتو صرف انتہاپسند مودی کےقابض فوجیوں کا، جو ہر گلی ہر جگہ تعینات ہیں۔

کشمیرمیڈیا سروس کے ایک لاکھ ہزار 74 سیاح نے جون میں اور ایک لاکھ 52 ہزار کے لگ بھگ سیاحوں نے جولائی میں وادی کشمیر کا رخ کیا جن میں 3 ہزار 403 غیرملکی کشمیر آئے تھے جبکہ اگست میں کرفیو کی وجہ سے کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہے۔

دوسری جانب مودی سرکار کے کشمیریوں کے خصوصی آرٹیکل کی منسوخی کی وجہ سے نئی دہلی سے کشمیر جانے کیلئے فضائی ٹکٹوں کی قیمت صرف 1800 روپے ہوگئی ہے۔

loading...

متعلقہ مضامین

Close
Close