ادبشاعری

یہ دنیا نے بھی عجیب رسم باندھی ہے

شیئر کیجئے

یہ دنیا نے بھی عجیب رسم باندھی ہے

مار کے کہتی ہے  کاش اور جی لیتا

جو زندہ ہیں تو قدم قدم کانٹے بچھاتی ہے

گر مر جائیں تو پھولوں کے ہار پہناتی ہے

مجھے دسنے والے تھے میرے اپنے ہی 

وگرنہ  غیروں  میں کہاں  اتنا  دم  تھا

خوشیوں کا موسم  آیا  تو  ضرور تھا

ہم ستم رسیدوں کو مگر راس نہ آیا

جلتا رہا  دل اسی آرزو میں بس

کہ کاش رہتا تو روبرو سدا میرے  

یہ تو کرم تھاکہ کھڑا رہا تن تنہا رقیبوں میں

وگرنہ   بندہ  ناچیز  میں  کہاں  اتنا  دم تھا

loading...

اسماء طارق

اسماء طارق کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ موصوفہ ماسٹرز کی طالبعلم ہیں اور سوشل ڈولپمنٹ ایشوز پر لکھتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

Close
Close